ایران امریکا ثالثی، فیلڈ مارشل عاصم منیر تہران پہنچ گئے
- فیلڈ مارشل عاصم منیر کا استقبال ایرانی وزیر داخلہ اسکندر مومنی نے کیا
انٹر سروسز پبلک ریلیشنز (آئی ایس پی آر) کے مطابق چیف آف ڈیفنس فورسز (سی ڈی ایف) اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر جمعہ کو تہران پہنچ گئے۔ ان کا یہ دورہ پاکستان کی اُن جاری علاقائی سفارتی و ثالثی کوششوں کا حصہ ہے، جن کا مقصد امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکراتی عمل کو آگے بڑھانا ہے۔
آئی ایس پی آر کے مطابق فیلڈ مارشل عاصم منیر کا استقبال ایرانی وزیر داخلہ اسکندر مومنی نے کیا۔
ذرائع کے مطابق ڈائریکٹر جنرل انٹر سروسز انٹیلیجنس (آئی ایس آئی) لیفٹیننٹ جنرل عاصم ملک بھی فیلڈ مارشل منیر کے ہمراہ ہیں جب کہ وزیرِ داخلہ محسن نقوی گزشتہ 3 روز سے تہران میں موجود ہیں۔
سرکاری ذرائع نے تصدیق کی ہے کہ یہ دورہ پاکستان کی وسیع تر سفارتی حکمتِ عملی کا حصہ ہے جس کے تحت علاقائی سلامتی، امن اقدامات اور ایران و امریکہ کے درمیان جاری رابطوں سے متعلق امور پر ایرانی اعلیٰ قیادت کے ساتھ تفصیلی تبادلۂ خیال کیا جا رہا ہے۔
سیکیورٹی تجزیہ کاروں کے مطابق ان مذاکرات کا بنیادی مقصد علاقائی استحکام کو فروغ دینا، ثالثی کے ذرائع کو مؤثر بنانا اور فریقین کے درمیان مستقل و بامقصد مذاکرات کی راہیں ہموار کرنا ہے۔
آئی ایس پی آر کے بیان میں پیچیدہ اور تیزی سے بدلتے ہوئے جغرافیائی و سیاسی منظرنامے میں مثبت سفارتی روابط کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ فیلڈ مارشل کا یہ دورہ خطے میں مذاکرات کے فروغ اور کشیدگی میں کمی کے لیے پاکستان کے پختہ عزم کا مظہر ہے۔
سفارتی اور سیکیورٹی ذرائع کے مطابق یہ دورہ ایسے وقت میں ہورہا ہے جب خطے میں کشیدگی اپنے عروج پر ہے جبکہ پسِ پردہ سفارتی رابطوں اور کوششوں کا سلسلہ بھی مسلسل جاری ہے۔
متعدد علاقائی اسٹیک ہولڈرز پسِ پردہ سفارتی رابطوں میں سرگرم ہیں تاکہ صورتحال کو مزید کشیدہ ہونے سے روکا جا سکے اور واشنگٹن و تہران کے درمیان مذاکراتی حل کی راہ ہموار کی جاسکے۔
اپنے دورۂ تہران کے دوران فیلڈ مارشل منیر ایرانی اعلیٰ حکام کے ساتھ اہم اعلیٰ سطح ملاقاتیں کریں گے جن میں اعتماد سازی کے اقدامات، علاقائی سلامتی کے فریم ورک کو مضبوط بنانے اور کثیرالجہتی تعاون کے ممکنہ راستوں پر تفصیلی تبادلۂ خیال کیا جائے گا۔
مبصرین کے مطابق ثالثی میں پاکستان کا یہ کردار اس کی دیرینہ پالیسی کی عکاسی کرتا ہے، جس کے تحت خطے میں تنازعات کے پُرامن حل اور پائیدار استحکام کے لیے مذاکرات اور سفارت کاری کو مؤثر ذریعہ قرار دیا جاتا ہے۔
یہ دورہ ایسے نازک مرحلے پر ہورہا ہے جب بین الاقوامی برادری کی توجہ تیزی سے مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال پر مرکوز ہوتی جارہی ہے اور عالمی طاقتیں ایران اور امریکہ کے تعلقات میں ہونے والی پیش رفت کا گہری نظر سے جائزہ لے رہی ہیں۔
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2026