دنیا

شی جن پنگ اور پیوٹن کی بیجنگ میں اہم ملاقات، گیس معاہدے پر گفتگو

  • رسمی مذاکرات کے علاوہ دونوں رہنما دن کے اختتام پر چائے پر غیر رسمی ملاقات بھی کریں گے
شائع اپ ڈیٹ

چین اور روس کے صدور نے بدھ کے روز بیجنگ میں ملاقات کے دوران اپنے اسٹریٹجک تعلقات میں پیش رفت کو سراہا، جہاں ماسکو کی جانب سے ایک ایسے گیس سپلائی معاہدے کو آگے بڑھانے کی کوشش متوقع ہے جس پر ایک دہائی سے زائد عرصے سے مذاکرات جاری ہیں۔

صدر شی جن پنگ نے عظیم عوامی ہال (گریٹ ہال آف دی پیپل) میں صدر ولادیمیر پیوٹن کا اعزازی گارڈ اور توپوں کی سلامی کے ساتھ استقبال کیا، جبکہ بچے چینی اور روسی پرچم لہرا رہے تھے۔

رسمی مذاکرات کے علاوہ دونوں رہنما دن کے اختتام پر چائے پر غیر رسمی ملاقات بھی کریں گے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے حالیہ دورۂ بیجنگ کے بعد چین اور روسی صدور کی اس ملاقات کے اثرات اور نتائج پر گہری نظر رکھی جا رہی ہے۔

چینی سرکاری خبر رساں ادارے شنہوا کے مطابق صدر شی جن پنگ نے کہا کہ دونوں ممالک کو طویل المدتی حکمت عملی پر توجہ مرکوز کرتے ہوئے زیادہ منصفانہ اور معقول عالمی نظامِ حکمرانی کو فروغ دینا چاہیے۔

شی جن پنگ نے پیوٹن سے ملاقات کے آغاز پر کہا کہ چین اور روس کے تعلقات اس سطح تک اس لیے پہنچے ہیں کیونکہ ہم سیاسی باہمی اعتماد اور اسٹریٹجک تعاون کو گہرا کرنے میں کامیاب رہے ہیں۔

پیوٹن نے کہا کہ دونوں ممالک کے تعلقات عالمی استحکام کو یقینی بنانے میں مدد دے رہے ہیں اور مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے باوجود روس ایک قابلِ اعتماد توانائی فراہم کنندہ ہے۔

دونوں رہنماؤں کے درمیان پاور آف سائبیریا 2 گیس پائپ لائن منصوبے پر بھی بات چیت متوقع ہے، جسے روس طویل المدتی توانائی تعاون کے لیے اہم قرار دے رہا ہے، تاہم گیس کی قیمتوں سمیت کئی معاملات اب بھی حل طلب ہیں۔

کریملن کے مطابق اس دورے کے دوران تقریباً 40 دستاویزات پر دستخط متوقع ہیں جبکہ چین اور روس کی مضبوط شراکت داری پر مشتمل 47 صفحات کا مشترکہ اعلامیہ بھی جاری کیا جائے گا۔

ماہرین کے مطابق اگر ملاقات کے نتیجے میں مشترکہ اعلامیہ اور متعدد معاہدے سامنے آتے ہیں تو یہ چین اور روس کے مضبوط اور مربوط تعلقات کا اہم علامتی پیغام ہوگا۔