بجٹ تجاویز آئی ایم ایف سے شیئر کی جائیں گی، حکومت کی ٹیکسٹائل شعبے کو یقین دہانی
- ٹیکسٹائل صنعت نے حکومت پر زور دیا ہے کہ آئندہ بجٹ میں وسیع مالیاتی، ٹیکس اور توانائی اصلاحات متعارف کرائی جائیں
حکومت نے ملکی ٹیکسٹائل شعبے کو یقین دہانی کرائی ہے کہ بجٹ سے متعلق اس کی تجاویز پر غور کے لیے انہیں پاکستان کے دورے پر آئے ہوئے عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) مشن کے ساتھ شیئر کیا جائے گا، تاہم بجٹ 2026-27 میں ان تجاویز کی شمولیت کے حوالے سے کوئی حتمی یقین دہانی نہیں کرائی گئی۔ یہ بات باخبر ذرائع نے بزنس ریکارڈر کو بتائی۔
ٹیکسٹائل شعبے کے مشترکہ وفد نے حکومت کی معاشی ٹیم، جس میں وزیر پیٹرولیم بھی شامل تھے، کے ساتھ مسلسل دو اجلاس کیے جن میں مجوزہ بجٹ اقدامات پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔
پاکستان کی ٹیکسٹائل صنعت نے حکومت پر زور دیا ہے کہ آئندہ بجٹ میں وسیع مالیاتی، ٹیکس اور توانائی اصلاحات متعارف کرائی جائیں،انہوں نے خبردار کرتے ہوئے کہا کہ بھاری ٹیکسز، توانائی کی بلند لاگت اور شدید لیکویڈیٹی بحران کے باعث شعبہ تیزی سے اپنی مسابقت کھو رہا ہے۔
صنعت کے سرکردہ اداروں، جن میں آل پاکستان ٹیکسٹائل ملز ایسوسی ایشن (اپٹما)، پاکستان ٹیکسٹائل ایکسپورٹرز ایسوسی ایشن (پی ٹی ای اے) اور پاکستان ہوزری مینوفیکچررز اینڈ ایکسپورٹرز ایسوسی ایشن (پی ایچ ایم اے) شامل ہیں، کی جانب سے پیش کی گئی مشترکہ تجاویز میں کہا گیا کہ پاکستان میں برآمد کنندگان پر مؤثر ٹیکس بوجھ 68 فیصد سے تجاوز کر چکا ہے، جو خطے میں سب سے زیادہ ہے، جبکہ ویتنام میں یہ شرح تقریباً 20 فیصد اور بنگلہ دیش میں 22 سے 27 فیصد کے درمیان ہے۔
صنعت نے مطالبہ کیا کہ برآمد کنندگان کے لیے ایک فیصد شرح پر فائنل ٹیکس رجیم (ایف ٹی آر) بحال کیا جائے یا متبادل کے طور پر فائنل ٹیکس رجیم اور نارمل ٹیکس رجیم (این ٹی آر) کے درمیان انتخاب کی اجازت دی جائے، ساتھ ہی انکم ٹیکس کی شرح کم کی جائے۔ مزید یہ کہ سپر ٹیکس، کم از کم ٹرن اوور ٹیکس اور برآمد کنندگان پر ایڈوانس ٹیکس ختم کرنے کا بھی مطالبہ کیا گیا تاکہ لیکویڈیٹی دباؤ کم ہو اور منافع بحال ہو سکے۔
ٹیکسٹائل شعبے نے ایک اہم مسئلے کے طور پر 327 ارب روپے سے زائد کے زیر التوا ریفنڈز کی نشاندہی کی، جن کی وجہ سے برآمد کنندگان کا تقریباً 35 سے 40 فیصد ورکنگ کیپیٹل پھنسا ہوا ہے۔ صنعت نے مطالبہ کیا کہ سیلز ٹیکس، انکم ٹیکس اور ڈیوٹی ڈرابیکس سمیت تمام واجب الادا ریفنڈز فوری طور پر ادا کیے جائیں، جن میں سے بعض ایک دہائی سے زائد عرصے سے التوا کا شکار ہیں۔
بالواسطہ ٹیکسوں کے حوالے سے شعبے نے جنرل سیلز ٹیکس (جی ایس ٹی) نظام میں ساختی اصلاحات تجویز کیں، جن میں خام مال پر شرح کم کرکے 5 فیصد اور تیار شدہ مصنوعات پر 10 فیصد کرنے کی سفارش شامل ہے۔ اس کے ساتھ برآمد کنندگان کے لیے ریفنڈ کی حد 12 فیصد سے بڑھا کر 14 فیصد کرنے کا مطالبہ بھی کیا گیا۔ صنعت نے زور دیا کہ خودکار ریفنڈز 72 گھنٹوں کے اندر جاری کیے جائیں تاکہ نقدی کے بہاؤ میں استحکام برقرار رہے۔
توانائی کی لاگت کو بھی ایک اہم مسئلہ قرار دیتے ہوئے کہا گیا کہ پاکستان میں صنعتی بجلی ٹیرف تقریباً 11.5 سینٹ فی یونٹ ہے، جو بھارت کے 6.3 سینٹ اور ویتنام کے 8 سینٹ کے مقابلے میں نمایاں طور پر زیادہ ہے۔ صنعت نے تجویز دی کہ تمام چارجز سمیت یکساں 8 سینٹ فی یونٹ ٹیرف مقرر کیا جائے، پیک آور چارجز ختم کیے جائیں اور اضافی سرچارجز واپس لیے جائیں۔ اس کے علاوہ گیس ٹیرف کو 7 ڈالر فی ایم ایم بی ٹی یو تک کم کرنے اور کیپٹو پاور پر عائد لیویز ختم کرنے کا مطالبہ بھی کیا گیا۔
ٹیکسٹائل شعبے نے برآمدی مراعاتی اسکیموں کی بحالی کا بھی مطالبہ کیا، جن میں ڈرابیک آف لوکل ٹیکسز اینڈ لیویز (ڈی ایل ٹی ایل) کو 5 فیصد پر بحال کرنا، ٹیکنالوجی اپ گریڈیشن فنڈ (ٹی یو ایف) اور ریجنل کمپیٹیٹو نیس انہانسمنٹ آف ٹیکسٹائل (آر سی ای ٹی) پروگرام شامل ہیں، تاکہ ویلیو ایڈڈ برآمدات اور صنعت کی جدیدکاری کو فروغ دیا جا سکے۔
صنعت نے نشاندہی کی کہ پاکستان خطے کا واحد ملک ہے جس نے متبادل فراہم کیے بغیر بڑی برآمدی مراعات واپس لے لی ہیں، جس کے باعث پاکستانی برآمد کنندگان عالمی منڈی میں نقصان کا شکار ہو رہے ہیں۔
اسٹیک ہولڈرز نے ایکسپورٹ فیسلیٹیشن اسکیم (ای ایف ایس) کو اس کے اصل 2021 فریم ورک کے مطابق بحال کرنے، مہنگائی کے مطابق ایس ایم ایز کی تعریف پر نظرثانی کرنے اور برآمدی رقوم کی وصولی کی مدت 120 دن سے بڑھا کر 180 دن کرنے کا بھی مطالبہ کیا تاکہ عالمی ادائیگیوں میں تاخیر کو مدنظر رکھا جا سکے۔
صنعت نے پولی ایسٹر اسٹیپل فائبر (پی ایس ایف) پر ٹیرف رکاوٹوں کی بھی نشاندہی کی اور کہا کہ 20 فیصد سے زائد مجموعی ڈیوٹیز پاکستان کی ویلیو ایڈڈ مین میڈ فائبر برآمدات کی جانب منتقلی میں رکاوٹ بن رہی ہیں۔ اس ضمن میں اینٹی ڈمپنگ ڈیوٹیز ختم کرنے اور کسٹمز ٹیرف کم کرنے کی سفارش کی گئی۔
مشترکہ سفارشات میں خبردار کیا گیا کہ پاکستان ٹیکسیشن، توانائی لاگت، جی ایس ٹی ڈھانچے، برآمدی مراعات اور لیبر لاگت جیسے اہم اشاریوں پر بنگلہ دیش، بھارت، ویتنام اور چین جیسے علاقائی حریفوں سے پیچھے ہے۔
صنعتی تنظیموں نے زور دیا کہ شعبے کی مسابقت صرف مربوط اور مستقل پالیسی اصلاحات کے ذریعے ہی بحال کی جا سکتی ہے، اور حکومت سے مطالبہ کیا کہ طویل المدتی سرمایہ کاری اور برآمدی ترقی کے لیے 3 سے 5 سال پر مشتمل مستحکم پالیسی فریم ورک اپنایا جائے۔
اجلاس میں شریک ایک نمائندے نے کہا کہ حکومتی ٹیم نے ہمیں یقین دلایا ہے کہ تجاویز پر غور کیا جائے گا اور انہیں آئی ایم ایف کے ساتھ بھی زیر بحث لایا جائے گا، تاہم ان کی منظوری کے حوالے سے کوئی واضح یقین دہانی نہیں کرائی گئی۔
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026