دنیا

ایران کو امریکہ پر بھروسہ نہیں، مذاکرات تبھی ہوں گے جب وہ سنجیدہ ہوگا، عباس عراقچی

  • ایران امریکہ مذاکرات تعطل کا شکار، جنگ کے خاتمے کے لیے بات چیت تاحال معطل
شائع اپ ڈیٹ

ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے دوٹوک الفاظ میں کہا ہے کہ تہران کو امریکہ پر کوئی بھروسہ نہیں ہے اور وہ واشنگٹن کے ساتھ صرف اسی صورت میں مذاکرات میں دلچسپی رکھتا ہے جب وہ سنجیدہ ہو۔ یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب جنگ کے خاتمے کے لیے ہونے والی بات چیت تعطل کا شکار ہے۔

بھارت میں برکس وزرائے خارجہ کے اجلاس کے موقع پر نئی دہلی میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے عباس عراقچی نے کہا کہ آبنائے ہرمز سے وہ تمام بحری جہاز گزر سکتے ہیں جو تہران کے ساتھ حالتِ جنگ میں نہیں ہیں، بشرطیکہ وہ ایرانی بحریہ کے ساتھ ہم آہنگی پیدا کریں۔ تاہم انہوں نے عالمی توانائی اور اجناس کی منڈیوں کے لیے انتہائی اہم اس آبی گزرگاہ کی صورتحال کو انتہائی پیچیدہ قرار دیا۔

یاد رہے کہ فروری میں امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر حملوں کے بعد تہران نے عملی طور پر اس آبنائے کو بیشتر جہاز رانی کے لیے بند کر دیا تھا۔ واضح رہے کہ دنیا کی خام تیل اور گیس کی سپلائی کا تقریباً پانچواں حصہ اسی راستے سے گزرتا ہے۔

پاکستان کی ثالثی میں ہونے والے پاک امریکہ مذاکرات تعطل کا شکار

واشنگٹن اور تہران نے گزشتہ ماہ جنگ بندی کا اعلان کیا تھا لیکن وہ ایک دیرپا امن معاہدے پر پہنچنے کے لیے تگ و دو کر رہے ہیں۔ پاکستان کی ثالثی میں ہونے والے یہ مذاکرات گزشتہ ہفتے سے معطل ہیں، جب ایران اور امریکہ دونوں نے ایک دوسرے کی تازہ ترین تجاویز کو مسترد کر دیا تھا۔

عباس عراقچی نے کہا کہ امریکہ کی جانب سے تضادات پر مبنی پیغامات نے امریکیوں کے حقیقی ارادوں کے بارے میں ایرانی شکوک و شبہات کو جنم دیا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان کا ثالثی کا عمل ناکام نہیں ہوا بلکہ اسے مشکلات کا سامنا ہے۔

ایرانی وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ ایران حالیہ جنگ بندی کو برقرار رکھنے کی کوشش کر رہا ہے، تاکہ سفارت کاری کو موقع دیا جا سکے، لیکن وہ دوبارہ لڑائی کے لیے بھی پوری طرح تیار ہے۔ مذاکرات میں رکاوٹ بننے والے مسائل میں ایران کے ایٹمی عزائم اور آبنائے ہرمز پر اس کا کنٹرول شامل ہیں۔

عباس عراقچی کے اس بیان سے چند گھنٹے قبل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا تھا کہ ایران کے حوالے سے ان کے صبر کا پیمانہ لبریز ہو رہا ہے۔ انہوں نے چینی صدر شی جن پنگ کے ساتھ بات چیت میں اس بات پر اتفاق کیا کہ تہران کو آبنائے ہرمز لازمی کھولنی چاہیے۔

جب عباس عراقچی سے پوچھا گیا کہ کیا تہران بیجنگ کی ثالثی کے لیے تیار ہے تو انہوں نے کہا کہ ایران کسی بھی ایسے ملک کی کوششوں کو سراہتا ہے جو مدد کرنے کی صلاحیت رکھتا ہو۔ انہوں نے کہا کہ چین کے ساتھ ہمارے بہترین تعلقات ہیں اور ہم اسٹریٹیجک شراکت دار ہیں۔ اگر وہ سفارت کاری میں مدد کے لیے کچھ کر سکتے ہیں تو ہم اسے خوش آمدید کہیں گے۔