نیشنل اسٹیل کمپلیکس کی بحالی قریب،40 ایم ایم سی ایف ڈی گیس کی منظوری
- ٹی ایس ایم ایل کو جنوری 2013 میں 1.28 ملین ٹن سالانہ پیداوار کی صلاحیت کے ساتھ قائم اور فعال کیا گیا تھا
نیشنل اسٹیل کمپلیکس لمیٹڈ (این ایس سی ایل)، جو پہلے طویرقی اسٹیل ملز لمیٹڈ (ٹی ایس ایم ایل) کے نام سے جانا جاتا تھا، کی بحالی کا عمل تیزی سے آگے بڑھ رہا ہے، کیونکہ حکومت نے صنعتی ٹیرف پر 40 ایم ایم سی ایف ڈی گیس فراہم کرنے پر اتفاق کر لیا ہے، جو دستیابی سے مشروط ہوگی۔ اس پیش رفت کے بارے میں پیٹرولیم وزیر کے قریبی ذرائع نے بزنس ریکارڈر کو بتایا کہ طویل عرصے کی کوششوں اور بین الاقوامی قانونی چارہ جوئی کے بعد یہ فیصلہ اہم پیش رفت ہے۔
ٹی ایس ایم ایل کو جنوری 2013 میں 1.28 ملین ٹن سالانہ پیداوار کی صلاحیت کے ساتھ قائم اور فعال کیا گیا تھا۔ اس منصوبے میں سعودی عرب کی الطویرقی ہولڈنگز اور جنوبی کوریا کی پی او ایس سی او نے مشترکہ سرمایہ کاری کی تھی، جبکہ اس میں جاپان کی کوبی اسٹیل کی جدید ڈائریکٹ ریڈیوسڈ آئرن (ڈی آر آئی) ٹیکنالوجی میڈریکس پروسیس کے تحت استعمال کی گئی، جو کہ قدرتی گیس پر انحصار کرتی ہے۔
2005 میں حکومت نے اس منصوبے کے لیے گیس مختص کی تھی، جس کے بعد سوئی سدرن گیس کمپنی لمیٹڈ نے 2006 میں 45 ایم ایم سی ایف ڈی گیس کی فراہمی کا معاہدہ کیا تھا۔ تاہم 2013 میں پلانٹ چلنے کے چند ماہ بعد ہی بند ہو گیا، کیونکہ کمپنی نے صنعتی ٹیرف کے بجائے کم زرعی فیڈ اسٹاک ٹیرف پر گیس کا مطالبہ کیا، جو منظور نہیں کیا گیا۔
اس وقت صنعتی ٹیرف 488 روپے فی ایم ایم بی ٹی یو جبکہ فیڈ اسٹاک ٹیرف 123 روپے تھا، جس کے باعث حکومت کو بھاری مالی نقصان کا خدشہ تھا۔ معاہدہ 2016 میں ختم ہو گیا اور گیس الاٹمنٹ بھی منسوخ ہو گئی۔
بعد ازاں سعودی سرمایہ کاروں نے 2018 میں ہیگ کی مستقل ثالثی عدالت میں پاکستان کے خلاف 500 ملین ڈالر کا دعویٰ دائر کیا، تاہم دسمبر 2023 میں عدالت نے پاکستان کے حق میں فیصلہ دیتے ہوئے تمام دعوے مسترد کر دیے۔
2022 میں امریکی کمپنی سیینا گروپ نے کمپنی کا انتظام سنبھالا اور اس کا نام تبدیل کر کے نیشنل اسٹیل کمپلیکس لمیٹڈ رکھ دیا گیا۔
بحالی کا معاملہ اس کے بعد خصوصی سرمایہ کاری سہولت کونسل کے فورم پر زیر غور رہا۔ بعد ازاں مختلف اجلاسوں میں 50 ایم ایم سی ایف ڈی تک گیس کی فراہمی اور صنعتی گیس کے لیے علیحدہ کیٹیگری بنانے کی ہدایت دی گئی۔
2025 میں سوئی سدرن گیس کمپنی نے 45 ایم ایم سی ایف ڈی گیس کی فراہمی کی باضابطہ یقین دہانی کرائی، جس کے بعد ای سی سی نے حالیہ اجلاس میں 40 ایم ایم سی ایف ڈی گیس کی فراہمی کی منظوری دے دی، تاہم یہ سہولت دستیابی اور منظور شدہ ٹیرف سے مشروط ہوگی۔ فیصلہ حتمی منظوری کے لیے وفاقی کابینہ کو پیش کیا جائے گا۔
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026