دنیا

اسرائیل لبنان امن معاہدہ ممکن ہے مگر حزب اللہ رکاوٹ بنی ہوئی ہے، امریکی وزیر خارجہ

  • لبنان کی حکومت بھی امریکا کے اتحادی اسرائیل کے ساتھ ایسا مستقل معاہدہ چاہتی ہے، مارکو روبیو
شائع May 6, 2026 اپ ڈیٹ May 6, 2026 01:00pm

امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے منگل کے روز کہا ہے کہ اسرائیل اور لبنان کے درمیان امن معاہدہ ممکن ہے، تاہم ان کے مطابق لبنانی گروہ حزب اللہ اس عمل میں بنیادی رکاوٹ ہے۔

وائٹ ہاؤس میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ میری نظر میں لبنان اور اسرائیل کے درمیان امن معاہدہ جلد ممکن ہے اور اسے ہونا بھی چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ مسئلہ اسرائیل یا لبنان نہیں بلکہ حزب اللہ ہے۔

مارکو روبیو نے کہا کہ لبنان کی حکومت بھی امریکا کے اتحادی اسرائیل کے ساتھ ایسا مستقل معاہدہ چاہتی ہے جو بار بار کی اسرائیلی کارروائیوں اور حملوں کا سلسلہ ختم کرے، تاہم وہ باقاعدہ امن معاہدے کا اعلان کرنے سے گریز کر رہی ہے۔ دوسری جانب اسرائیل کا مؤقف ہے کہ کسی بھی معاہدے میں حزب اللہ کو مکمل طور پر غیر مسلح کرنا ضروری ہے۔

انہوں نے کہا کہ لبنان میں جو چیز درکار ہے وہ یہ ہے کہ حکومت کے پاس اتنی صلاحیت ہو کہ وہ حزب اللہ کے خلاف کارروائی کر سکے اور اسے کمزور کرسکے۔

رپورٹ کے مطابق 2 مارچ کے بعد اسرائیل نے لبنان پر فضائی حملے تیز کر دیے تھے، جب حزب اللہ نے اسرائیل پر میزائل داغے تھے۔ اس کے بعد اسرائیل نے جنوبی لبنان میں زمینی کارروائیاں بھی بڑھا دی تھیں۔

لبنانی وزارت صحت کے مطابق مارچ کے بعد سے اسرائیلی حملوں میں 2,600 سے زائد افراد جاں بحق اور دس لاکھ سے زائد بے گھر ہو چکے ہیں۔ اسرائیل کا کہنا ہے کہ اس کے 17 فوجی ہلاک ہوئے ہیں جبکہ دو شہری حزب اللہ کے حملوں میں مارے گئے۔

دونوں ممالک نے اپریل کے وسط میں ایک عارضی جنگ بندی پر اتفاق کیا تھا جسے بعد میں مئی تک بڑھا دیا گیا ہے، تاہم سرحدی کشیدگی اب بھی برقرار ہے۔