پاکستان اسٹاک ایکسچینج (پی ایس ایکس) میں پیر کو اتار چڑھاؤ سے بھرپوررجحان رہا جہاں بینچ مارک کے ایس ای 100 انڈیکس 950 سے زائد پوائنٹس کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔

تفصیلات کے مطابق اسٹاک مارکیٹ میں کاروبار کا آغاز مثبت زون میں ہوا، ٹریڈنگ کے دوران ایک موقع پر 100 انڈیکس دن کی بلند ترین سطح 167,245.54 پوائنٹس پر جاپہنچا۔ یہ صورتحال مارکیٹ کے آغاز پر ہی خریداری میں شدید دلچسپی اور سرمایہ کاروں کے مثبت اعتماد کی عکاسی کرتی ہے۔

تاہم ابتدائی تیزی کے بعد مارکیٹ استحکام کے مرحلے میں داخل ہو گئی جہاں دوپہر کے سیشن کے بیشتر حصے میں انڈیکس ایک محدود دائرے میں حرکت کرتا رہا۔

ٹریڈنگ کے آخری گھنٹوں میں امریکہ اور ایران کے درمیان دوبارہ بڑھتی ہوئی کشیدگی کی خبروں کے باعث انڈیکس شدید فروخت کے دباؤ کی زد میں آگیا۔

کاروبار کے اختتام پر کے ایس ای 100 انڈیکس 954.77 پوائنٹس یا 0.59 فیصد اضافے سے 163,948.94 پوائنٹس پر بند ہوا۔

گزشتہ ہفتے ایکویٹی مارکیٹ مسلسل دباؤ کا شکار رہی کیونکہ جغرافیائی و سیاسی غیر یقینی صورتحال اور سخت مالی حالات نے سرمایہ کاروں کے اعتماد کو ٹھیس پہنچائی۔

ہفتہ وار بنیادوں پر 100 انڈیکس میں 4.5 فیصد کی کمی دیکھی گئی جس کے نتیجے میں انڈیکس 7,677.87 پوائنٹس گرکر 162,994.17 پوائنٹس پر بند ہوا۔

بین الاقوامی سطح پر پیر کو ایشیا میں حصص کی قیمتوں میں معمولی اضافہ ہوا جبکہ تیل کی قیمتیں مستحکم رہیں۔ سرمایہ کاروں نے مشرق وسطیٰ کے تنازع کے حل میں جزوی پیشرفت کے آثار پر اطمینان کا اظہار کیا، خاص طور پر ایک ایسے ہفتے کے آغاز پر جو کارپوریٹ آمدنی کے نتائج اور اہم اقتصادی اعدادوشمار سے بھرپور ہے۔

صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ امریکہ پیر کی صبح آبنائے ہرمز میں پھنسے ہوئے بحری جہازوں کو نکالنے کی کوشش شروع کرے گا، تاہم انہوں نے اس منصوبے کی مزید تفصیلات فراہم نہیں کیں۔

سینٹرل کمانڈ کے ایک بیان کے مطابق اس امداد میں گائیڈڈ میزائل تباہ کن بحری جہاز، 100 سے زائد زمین اور سمندر پر مبنی طیارے اور 15,000 فوجی اہلکار شامل ہوں گے۔

ایران نے اس سے قبل کہا تھا کہ امریکہ نے پاکستان کے ذریعے اس کی 14 نکاتی تجویز کا جواب دیا ہے اور وہ اس جواب کا جائزہ لے رہا ہے، تاہم صدر ٹرمپ نے کہا کہ اس (تجویز) کے قابلِ قبول ہونے کا امکان کم ہے۔

برینٹ کروڈ کے سودے 108.30 ڈالر فی بیرل پر مستحکم رہے جو ابتدائی طور پر 2 فیصد سے زیادہ کی گراوٹ کے بعد دوبارہ بحال ہوئے ہیں جبکہ امریکی خام تیل 102.01 ڈالر پر مستحکم رہا۔

ڈیلرز نے نشاندہی کی ہے کہ اتوار کو ایران کے علاقے سیریک سے گزرتے ہوئے ایک مال بردار جہاز پر کئی چھوٹی کشتیوں کے ذریعے حملے کی اطلاع ملی تھی اور ابھی یہ واضح نہیں ہے کہ بحریہ کے تحفظ کے باوجود کتنے جہاز آبنائے ہرمز سے گزرنے کی کوشش کریں گے۔

جاپان میں تعطیل کے باعث ٹریڈنگ کا حجم کم رہا جس کی وجہ سے نکی فیوچرز 59,513 کی کیش کلوزنگ کے مقابلے میں معمولی اضافے کے ساتھ 59,630 پر رہے۔ جاپان کے علاوہ ایشیا پیسیفک حصص کے ایم ایس سی آئی کے وسیع ترین انڈیکس میں 0.6 فیصد اضافہ ہوا جبکہ جنوبی کوریا کے اسٹاکس چھٹیوں کے بعد واپسی پر 2.6 فیصد کے بڑے اچھال کے ساتھ بند ہوئے۔

یوروسٹوکس 50 فیوچرز اور ڈیکس فیوچرز میں سے ہر ایک میں 0.1 فیصد کا اضافہ ہوا جب کہ ایف ٹی ایس ای فیوچرز میں 0.4 فیصد کی کمی دیکھی گئی۔

دریں اثنا، انٹربینک مارکیٹ میں پیر کے روز امریکی ڈآلر کے مقابلے میں پاکستانی روپے کی قدر میں معمولی بہتری ریکارڈ کی گئی۔ کاروبار کے اختتام پر مقامی کرنسی 278.76 روپے پر بند ہوئی، جو ڈالر کے مقابلے میں ایک پیسے کا اضافہ ہے۔

آل شیئر انڈیکس میں لین دین کا حجم کم ہو کر 696.70 ملین شیئرز رہ گیا، جبکہ گزشتہ سیشن میں یہ 837.37 ملین شیئرز تھا۔

حصص کی مجموعی مالیت بھی کم ہو کر 34.91 ارب روپے رہی، جو گزشتہ سیشن میں 36.34 ارب روپے ریکارڈ کی گئی تھی۔

ہیسکول پیٹرول حجم کے اعتبار سے سب سے زیادہ ٹریڈ ہونے والا اسٹاک رہا، جس کے 51.51 ملین شیئرز کا لین دین ہوا۔ اس کے بعد سینرجیکو پی کے کے 50.16 ملین شیئرز اور سوئی سدرن گیس کمپنی کے 49.67 ملین شیئرز کا کاروبار ہوا۔

پیر کے روز مجموعی طور پر 487 کمپنیوں کے شیئرز کا لین دین ہوا، جن میں سے 295 کمپنیوں کے شیئرز میں اضافہ، 151 میں کمی جبکہ 41 کی قیمتیں بغیر کسی تبدیلی کے بند ہوئیں۔