مشرق وسطیٰ تنازع پاکستان کی اقتصادی بحالی کو متاثر کررہا ہے،ایشیائی بینک
- تنازع کے نتیجے میں مہنگائی میں اضافہ، مالیاتی دباؤ اور غربت میں مزید اضافہ ہو رہا ہے، ماساتو کانڈا
ایشین ڈیولپمنٹ بینک (اے ڈی بی) کے صدر ماساتو کانڈا نے خبردار کیا ہے کہ مشرق وسطیٰ میں جاری تنازعات پاکستان کی نازک اقتصادی بحالی کو متاثر کر رہے ہیں، جس کے نتیجے میں مہنگائی میں اضافہ، مالیاتی دباؤ اور غربت میں مزید اضافہ ہو رہا ہے، تاہم انہوں نے پاکستان کی مدد جاری رکھنے کے عزم کا اظہار بھی کیا۔
اتوار کے روز ایشین ڈیولپمنٹ بینک کی میڈیا بریفنگ کے دوران سمرقند میں گفتگو کرتے ہوئے ماساتو کانڈا نے کہا کہ پاکستان بیرونی جھٹکوں کے لیے انتہائی حساس ہے۔ انہوں نے حالیہ دورۂ پاکستان کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ انہوں نے سیلاب سے متاثرہ علاقوں کا خود مشاہدہ کیا، جس سے ملک کو درپیش چیلنجز کی سنگینی واضح ہوتی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ مشرق وسطیٰ کی کشیدگی نے پاکستان کی اقتصادی بحالی پر مزید دباؤ ڈالا ہے، جس سے مہنگائی، مالیاتی استحکام اور غربت کے مسائل شدت اختیار کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ابتدائی طور پر 2026 کے لیے پاکستان کی معاشی ترقی کے امکانات بہتر تھے، مگر موجودہ صورتحال نے انہیں مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔
ماساتو کانڈا نے بتایا کہ حکومت پاکستان توانائی قیمتوں میں رد و بدل اور محتاط مالیاتی و مانیٹری پالیسیوں کے ذریعے اثرات کو کم کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ انہوں نے ان اقدامات کو سراہتے ہوئے کہا کہ اے ڈی بی حکومت کی مالیاتی نظم و ضبط برقرار رکھنے کی کوششوں کی حمایت کرتا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ اے ڈی بی فوری طور پر دو اہم اقدامات کے ذریعے پاکستان کی مدد کر رہا ہے، جن میں بحران سے نمٹنے کے لیے تیز رفتار مالی معاونت اور ٹریڈ اینڈ سپلائی چین فنانس پروگرام کے تحت ضروری درآمدات کی سہولت فراہم کرنا شامل ہے۔
علاوہ ازیں، اے ڈی بی نے 2035 تک ایشیا و بحرالکاہل میں توانائی اور ڈیجیٹل انفرااسٹرکچر کے منصوبوں کے لیے 70 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کا اعلان کیا ہے۔ اس منصوبے کے تحت سرحد پار بجلی کے نظام کو مربوط بنانے، قابل تجدید توانائی کے فروغ، اور ڈیجیٹل کنیکٹیویٹی میں بہتری لانے پر توجہ دی جائے گی۔
بینک کے مطابق ان اقدامات سے خطے میں لاکھوں ملازمتیں پیدا ہوں گی، توانائی تک رسائی بہتر ہوگی اور ڈیجیٹل معیشت کو فروغ ملے گا، جو مستقبل میں پائیدار اقتصادی ترقی کے لیے کلیدی حیثیت رکھتے ہیں۔
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026