کاروبار اور معیشت

سیپا مذاکرات: پاکستان اور جنوبی کوریا کا تکنیکی روابط تیز کرنے پر اتفاق

  • وفاقی وزیرِ تجارت جام کمال خان نے جنوبی کوریا کے وزیرِ تجارت ییو ہانکو کے ساتھ ورچوئل میٹنگ
شائع اپ ڈیٹ

پاکستان اور جنوبی کوریا نے جاری جامع اقتصادی شراکت داری کے معاہدے (سیپا) کے مذاکرات پر تفصیلی بات چیت کی جس میں باہمی طور پر طے شدہ ٹائم فریم کے اندر معاہدے کو حتمی شکل دینے کے مشترکہ مقصد کے ساتھ تکنیکی روابط کو تیز کرنے پر اتفاق کیا گیا۔

اس سلسلے میں وفاقی وزیرِ تجارت جام کمال خان نے جنوبی کوریا کے وزیرِ تجارت ییو ہانکو کے ساتھ ورچوئل میٹنگ کی جس میں دوطرفہ تجارتی تعلقات کی مضبوطی، سیپا مذاکرات میں پیش رفت اور دونوں ممالک کے درمیان سرمایہ کاری میں تعاون بڑھانے پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ سیکرٹری تجارت جواد پال اور دونوں اطراف کے اعلیٰ حکام نے بھی اجلاس میں شرکت کی۔

کورین وزیرِ تجارت نے مشرقِ وسطیٰ کی موجودہ صورتحال میں امن کے فروغ کے لیے پاکستان کے کردار کو سراہتے ہوئے کہا کہ پاکستان کی جانب سے امن کے قیام کی کوششیں صرف متعلقہ ممالک ہی نہیں بلکہ پوری دنیا کے لیے بہتر ہیں۔ انہوں نے پاکستان خصوصاً لاہور کے اپنے سابقہ دوروں کو یادگار قرار دیتے ہوئے ملک کی مہمان نوازی اور معاشی صلاحیتوں کی بھی تعریف کی۔

وزیرِ تجارت جام کمال خان نے اظہارِ تشکر کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان ایک ذمہ دار ریاست کے طور پر مکالمے کے فروغ اور امن کے قیام کے لیے کردار ادا کرتا رہا ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ جاری کوششیں خطے میں استحکام لائیں گی جو عالمی تجارت، توانائی منڈیوں اور اقتصادی روابط کے لیے نہایت اہم ہے۔

دونوں وزراء نے سیپا مذاکرات پر تفصیلی گفتگو کرتے ہوئے اس بات پر اتفاق کیا کہ تکنیکی سطح پر مشاورت کو تیز کیا جائے تاکہ باہمی طور پر طے شدہ مدت میں معاہدے کو حتمی شکل دی جا سکے۔

انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ معاہدہ متوازن، جامع اور دونوں ممالک کی معاشی ضروریات کے مطابق ہونا چاہیے۔

وزیرِ تجارت جام کمال خان نے پاکستان کی معاشی صلاحیتوں کو اجاگر کرتے ہوئے زراعت، معدنیات، ٹیکسٹائل، ادویات سازی، جراحی آلات اور اسپورٹس گڈز سمیت مختلف شعبوں میں مواقع کی نشاندہی کی۔

انہوں نے کہا کہ بدلتے ہوئے عالمی حالات کے پیش نظر تجارتی شراکت داری میں تنوع اور مضبوط اقتصادی روابط کا قیام ناگزیر ہے،پاکستان اپنی جغرافیائی اہمیت کے باعث وسطی ایشیا اور افریقہ کے لیے ایک گیٹ وے کی حیثیت رکھتا ہے۔

کورین وزیرِ تجارت نے کہا کہ متعدد کورین کمپنیاں پاکستان میں سرمایہ کاری کی خواہاں ہیں اور اسے ایک محفوظ اور پُرامید منزل سمجھتی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ سیپا جیسے فریم ورک سے سرمایہ کاروں کا اعتماد مزید بڑھے گا اور اقتصادی تعاون کو فروغ ملے گا۔سرمایہ کاری سے متعلق امور پر وزیرِ تجارت جام کمال خان نے یقین دہانی کرائی کہ پاکستان میں کام کرنے والی کورین کمپنیوں کو درپیش مسائل متعلقہ وزارتوں کے ساتھ مل کر حل کیے جائیں گے۔

انہوں نے غیر ملکی سرمایہ کاروں کے لیے سازگار اور مستحکم کاروباری ماحول فراہم کرنے کے حکومتی عزم کا اعادہ کیا۔فریقین نے مشترکہ تجارتی کمیٹی کے قیام پر بھی تبادلۂ خیال کیا اور اس کے فعال بنانے پر اتفاق کیا تاکہ دوطرفہ تجارتی امور پر مؤثر پیشرفت اور باقاعدہ رابطہ یقینی بنایا جا سکے۔

کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2026