کاروبار اور معیشت

ریونیو بیسڈ لوڈ شیڈنگ غیر قانونی ہے، نیپرا

  • پالیسی کے خاتمے سے گردشی قرضے میں 500 ارب روپے سے زائد اضافہ ہو سکتا ہے، پی پی ایم سی
شائع April 29, 2026 اپ ڈیٹ April 29, 2026 09:48am

نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) نے منگل کے روز ایک بار پھر واضح کیا ہے کہ ملک میں ریونیو بیسڈ لوڈ شیڈنگ غیر قانونی ہے، تاہم پاور پلاننگ اینڈ مانیٹرنگ کمپنی (پی پی ایم سی) نے خبردار کیا ہے کہ اس پالیسی کے خاتمے سے گردشی قرضے میں 500 ارب روپے سے زائد اضافہ ہو سکتا ہے۔

یہ معاملہ مارچ 2026 کے فیول چارجز ایڈجسٹمنٹ (ایف سی اے) سے متعلق عوامی سماعت کے دوران زیر بحث آیا، جس کی صدارت چیئرمین نیپرا وسیم مختار نے کی، جبکہ ممبران میں آمنہ احمد اور مقصود انور خان بھی شامل تھے۔

ریونیو بیسڈ لوڈ شیڈنگ کے نظام کے تحت بجلی کی بندش کا انحصار ریکوری شرح پر ہوتا ہے، جس کے باعث بعض علاقوں میں 18 گھنٹے تک لوڈ شیڈنگ کی جاتی ہے۔ بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) سمیت بعض عالمی مالیاتی ادارے اس نظام کی حمایت کرتے ہیں، تاہم نیپرا اور وزارت قانون اسے شہریوں کے بنیادی حقوق کی خلاف ورزی قرار دیتے ہیں۔

پاور ڈویژن کا مؤقف ہے کہ اگر اس نظام کو ختم کیا گیا تو گردشی قرضہ 500 ارب روپے سے زیادہ بڑھ سکتا ہے۔ موجودہ گردشی قرضہ 31 مارچ 2026 تک 1.798 ٹریلین روپے ریکارڈ کیا گیا ہے، جس کے جون 2026 تک کم ہو کر 1.224 ٹریلین روپے رہنے کی توقع ہے۔

سنٹرل پاور پرچیزنگ ایجنسی (سی پی پی اے-جی) نے مارچ 2026 کے لیے 0.27 روپے فی یونٹ اضافے کی درخواست کی ہے، جو مئی 2026 میں صارفین سے وصول کیا جائے گا۔ اس سے قبل فروری کے لیے 1.42 روپے فی یونٹ مثبت ایڈجسٹمنٹ کی گئی تھی، جس کے باعث مجموعی طور پر صارفین کو 1.15 روپے فی یونٹ کا نیٹ فائدہ متوقع ہے۔

سی پی پی اے-جی کے سی ای او ریحان اختر کے مطابق بجلی کی طلب میں 6.38 فیصد اضافہ ہوا ہے، جبکہ ایندھن کی لاگت میں فی یونٹ 0.27 روپے اضافہ دیکھا گیا۔ تاہم کپیسٹی چارجز میں کمی کے باعث مجموعی قیمت میں 0.95 روپے فی یونٹ کمی ہوئی ہے۔

اس وقت بجلی کی پیداوار کے لیے تقریباً 150 ایم ایم سی ایف ڈی گیس فراہم کی جا رہی ہے، جو پہلے 80 ایم ایم سی ایف ڈی تھی، جبکہ جلد ایک ایل این جی کارگو کراچی پہنچنے کی توقع ہے۔

اجلاس میں یہ بھی بتایا گیا کہ کیپٹو صارفین کی بجلی کھپت میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ صنعتکاروں نے بجلی کی فراہمی اور ٹیرف کو قابو میں رکھنے پر حکومتی کوششوں کو سراہا۔ سی پی پی اے-جی کے مطابق اگر کے الیکٹرک کو قومی گرڈ سے بجلی نہ دی جاتی تو صارفین کو مزید 3.81 روپے فی یونٹ کا بوجھ برداشت کرنا پڑتا۔

مارچ میں بجلی کی بلند ترین پیداوار 18,551 میگاواٹ جبکہ کم از کم 5,950 میگاواٹ ریکارڈ کی گئی، جو عیدالفطر کی تعطیلات کے دوران سامنے آئی۔

کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026