دنیا

امریکہ اب دیگر ممالک کو پالیسی ڈکٹیٹ کرانے کی پوزیشن میں نہیں رہا، ایران

  • واشنگٹن ایران کی اس نئی تجویز پر غور کر رہا ہے جس میں آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کی بات شامل ہے
شائع April 28, 2026 اپ ڈیٹ April 28, 2026 01:53pm

ایران نے منگل کے روز کہا ہے کہ امریکہ اب اس پوزیشن میں نہیں رہا کہ وہ دیگر ممالک کو اپنی پالیسی ڈکٹیٹ کرا سکے، جبکہ واشنگٹن ایران کی اس نئی تجویز پر غور کر رہا ہے جس میں آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کی بات شامل ہے۔

ایران نے جنگ کے آغاز کے بعد سے اس اسٹریٹجک آبی گزرگاہ کو مؤثر طور پر بند کر رکھا ہے، جس سے عالمی توانائی منڈیوں میں شدید ہلچل پیدا ہوئی ہے اور یہ راستہ تنازع کے خاتمے کے مذاکرات کا مرکزی نکتہ بن گیا ہے۔

ایران کی وزارتِ دفاع کے ترجمان رضا طلائی نیک نے سرکاری ٹی وی کے مطابق کہا کہ امریکہ اب اس پوزیشن میں نہیں کہ وہ آزاد ممالک کو اپنی پالیسی مسلط کر سکے اور واشنگٹن کو اپنے غیر قانونی اور غیر معقول مطالبات ترک کرنا ہوں گے۔

اگرچہ ایران، امریکہ اور اسرائیل کے درمیان جنگ بندی سے لڑائی رک گئی ہے، تاہم مستقل امن کے لیے مذاکرات ابھی تک کسی نتیجے پر نہیں پہنچ سکے۔

واشنگٹن میں زیرِ غور تجویز کے مطابق آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولا جا سکتا ہے، جبکہ وسیع تر مذاکرات جاری رہیں گے۔

رضا طلائی نیک نے شنگھائی تعاون تنظیم کے دفاعی وزرا کے اجلاس سے قبل کہا کہ ایران اپنے دفاعی اور فوجی صلاحیتیں آزاد ممالک، خصوصاً رکن ممالک کے ساتھ شیئر کرنے کے لیے تیار ہے۔