کاروبار اور معیشت

پی آئی اے نے پروازیں کم کر دیں، کرایوں پر بھی نظرِ ثانی

  • ایئر لائن نے جیٹ فیول کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کے باعث اپنی پروازوں میں کمی اور کرایوں میں ایڈجسٹمنٹ شروع کر دی ہے
شائع اپ ڈیٹ

پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز (پی آئی اے) نے نجکاری کے عمل کے بعد ابتدائی مہینوں ہی میں جیٹ فیول کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کے باعث اپنی پروازوں میں کمی اور کرایوں میں ایڈجسٹمنٹ شروع کر دی ہے، جس سے ادارے کی بحالی کے منصوبے پر سوالات اٹھنے لگے ہیں۔

ایوی ایشن ذرائع کے مطابق قومی فضائی کمپنی نے آپریشنل اخراجات میں اضافے کے باعث متعدد بین الاقوامی روٹس کم یا معطل کر دیے ہیں، جن میں بیجنگ اور کوالالمپور کی پروازیں شامل ہیں، جبکہ خلیجی ممالک کے بعض روٹس پر بھی پروازوں کی تعداد محدود کر دی گئی ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ جیٹ فیول (جے پی ون) کی قیمتوں میں حالیہ ہفتوں کے دوران تقریباً 150 فیصد تک اضافہ ہوا ہے، جس کے بعد فی لیٹر قیمت تقریباً 190 روپے سے بڑھ کر 450 روپے سے تجاوز کر گئی ہے۔ چونکہ ایئرلائنز کے مجموعی آپریٹنگ اخراجات میں ایندھن کا حصہ 30 سے 40 فیصد تک ہوتا ہے، اس لیے اس اضافے نے پورے شعبے کے منافع کو شدید متاثر کیا ہے۔

ایک سینئر ایوی ایشن عہدیدار کے مطابق موجودہ حالات میں بعض روٹس معاشی طور پر غیر منافع بخش ہو چکے ہیں، جس کے باعث ایئرلائنز کو اپنی نیٹ ورک حکمت عملی محدود کرنا پڑ رہی ہے۔

پی آئی اے نے اخراجات کے دباؤ کو کم کرنے کے لیے فیول سرچارج متعارف کرایا ہے، جس کے تحت اندرونِ ملک پروازوں پر تقریباً 10 ڈالر اور بین الاقوامی روٹس پر 100 ڈالر تک اضافی چارج عائد کیا جا رہا ہے۔ اگرچہ بنیادی کرایوں میں باضابطہ اضافہ نہیں کیا گیا، لیکن ڈسکاؤنٹس میں کمی اور اضافی چارجز کے باعث مجموعی طور پر ٹکٹ مہنگے ہو گئے ہیں۔

ماہرین کے مطابق مجموعی طور پر ہوائی کرایوں میں 20 سے 30 فیصد تک اضافہ ممکن ہے۔ تاہم ایوی ایشن تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ مکمل لاگت صارفین پر منتقل کرنا ممکن نہیں، کیونکہ اس سے طلب میں کمی واقع ہو سکتی ہے۔

پی آئی اے نے چین اور ملائیشیا کے لیے اپنی پروازیں عارضی طور پر دو سے تین ماہ کے لیے معطل کر دی ہیں، جبکہ حج آپریشنز کو ترجیح دینے کے لیے جہازوں کی دوبارہ تقسیم کی گئی ہے۔

دوسری جانب دبئی اور ابوظہبی سمیت خلیجی روٹس پر بھی پروازوں میں محدودیت برقرار ہے، جس کی وجہ علاقائی سیکیورٹی صورتحال اور فضائی حدود کی پابندیاں بتائی جا رہی ہیں۔

اگرچہ فیول کی کمی کی کوئی اطلاع نہیں، تاہم ماہرین اسے قیمتوں کا بحران قرار دے رہے ہیں جو عالمی جغرافیائی سیاسی کشیدگی اور تیل کی منڈیوں میں اتار چڑھاؤ سے مزید پیچیدہ ہو گیا ہے۔

پی آئی اے اس وقت نجکاری کے بعد عبوری دور سے گزر رہی ہے، جس میں حکومت نے 75 فیصد حصص ایک نجی کنسورشیم کے حوالے کیے ہیں جبکہ 25 فیصد حصص ابھی حکومت کے پاس ہیں۔ نئی انتظامیہ نے طویل المدتی توسیع اور بیڑے میں اضافہ کا منصوبہ بنایا ہے، تاہم موجودہ معاشی حالات فوری پیش رفت میں رکاوٹ بن رہے ہیں۔

کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026