ایران امریکی مطالبات پورے کرنے کے لیے پیشکش کرے گا، ڈونلڈ ٹرمپ
- نہیں جانتا کہ پیشکش کیا ہوگی، امریکی صدر کی رائٹرز سے گفتگو
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے رائٹرز کو بتایا ہے کہ ایران ایک ایسی پیشکش کرنے کا ارادہ رکھتا ہے جس کا مقصد امریکی مطالبات کو پورا کرنا ہے جبکہ پاکستان میں امن مذاکرات کی دوبارہ بحالی متوقع ہے۔
صدر ٹرمپ نے ایک فون انٹرویو کے دوران کہا کہ وہ (ایرانی) ایک پیشکش کر رہے ہیں اور ہمیں دیکھنا ہوگا (کہ وہ کیا ہے)۔
ٹرمپ نے کہا کہ وہ ابھی تک نہیں جانتے کہ وہ پیشکش کیا ہوگی، تاہم وہ اس بات پر بضد رہے ہیں کہ کسی بھی معاہدے میں ایران کا اپنے افزودہ یورینیم سے دستبردار ہونا اور آبنائے ہرمز کے ذریعے تیل کی ترسیل کی آزادی دینا لازمی شامل ہو۔
امریکی مندوبین اسٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر ہفتہ کو پاکستانی دارالحکومت اسلام آباد کیلئے روانگی کا ارادہ رکھتے ہیں تاکہ ایرانی وفد کے ساتھ مذاکرات کیے جاسکیں۔
صدر ٹرمپ نے جمعرات کو اس حوالے سے تشویش کا اظہار کیا تھا کہ ایران کی قیادت کون کررہا ہے اور امریکی حکام کا کہنا ہے کہ ان کے خیال میں وہاں کی قیادت تقسیم کا شکار ہے۔
جمعہ کو جب صدر ٹرمپ سے پوچھا گیا کہ امریکہ کس کے ساتھ مذاکرات کر رہا ہے تو انہوں نے کہا کہ میں یہ بتانا نہیں چاہتا لیکن ہم ان لوگوں سے معاملہ کر رہے ہیں جو اس وقت بااختیار ہیں۔
انہوں نے نام بتانے سے انکار کر دیا۔ اس سے قبل رائٹرز نے رپورٹ کیا تھا کہ ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کی جمعہ کو اسلام آباد آمد متوقع ہے تاکہ امریکہ کے ساتھ امن مذاکرات کی بحالی کی تجاویز پر تبادلہ خیال کیا جا سکے۔
ٹرمپ نےکہا ہے کہ جب تک کوئی معاہدہ طے نہیں پا جاتا، امریکی فوج ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی برقرار رکھے گی۔
جب ان سے پوچھا گیا کہ ناکہ بندی ختم کرنے کے لیے کیا ضروری ہے تو ٹرمپ نے کہا کہ مجھے اس سوال کا جواب بعد میں دینا ہوگا۔ مجھے دیکھنا ہوگا کہ وہ کیا پیش کر رہے ہیں۔