دنیا

ایران کی فاسٹ بوٹ حکمتِ عملی سے آبنائے ہرمز میں بحری خطرات میں اضافہ

  • بحری سلامتی کے ماہرین کے مطابق ایران نے ان کشتیوں کو اپنی غیر روایتی جنگی حکمتِ عملی کا مرکزی حصہ بنا لیا ہے
شائع April 24, 2026 اپ ڈیٹ April 24, 2026 09:05am

ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز کے قریب چھوٹی اور تیز رفتار کشتیوں کے جھنڈ کے ذریعے دو کنٹینر جہازوں پر قبضہ عالمی بحری سلامتی کے لیے ایک نئے چیلنج کے طور پر سامنے آیا ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ حکمتِ عملی اس تاثر کو کمزور کرتی ہے کہ امریکا ایران کی بحری صلاحیت کو مکمل طور پر غیر مؤثر بنا چکا ہے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعتراف کیا کہ اگرچہ ایران کی روایتی بحریہ کو شدید نقصان پہنچا ہے، تاہم اس کی فاسٹ اٹیک بوٹس اب بھی خطرہ بنی ہوئی ہیں۔ ان کشتیوں کو ایرانی پاسدارانِ انقلاب بھاری مشین گنز، راکٹ لانچرز اور بعض صورتوں میں اینٹی شپ میزائلوں سے لیس رکھتے ہیں۔

بحری سلامتی کے ماہرین کے مطابق ایران نے ان کشتیوں کو اپنی غیر روایتی جنگی حکمتِ عملی کا مرکزی حصہ بنا لیا ہے، جس میں ساحلی میزائل، ڈرونز، بارودی سرنگیں اور الیکٹرانک مداخلت بھی شامل ہیں۔ اس حکمتِ عملی کا مقصد غیر یقینی صورتحال پیدا کرنا اور دشمن کے فیصلوں کو ناکام کرنا ہے۔

رپورٹس کے مطابق جنگ سے قبل ایران کے پاس سینکڑوں بلکہ ہزاروں ایسی کشتیاں موجود تھیں، جن میں سے تقریباً 100 تباہ ہو چکی ہیں۔ اس کے باوجود یہ چھوٹی کشتیاں تیزی سے حملہ کر کے فوری طور پر واپس ہونے کی صلاحیت رکھتی ہیں، جس سے ان کا سراغ لگانا مشکل ہو جاتا ہے۔

تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ کشتیاں براہِ راست جنگی جہازوں کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتیں اور کسی بڑے تصادم میں بھاری نقصان اٹھا سکتی ہیں۔ اس کے باوجود تجارتی جہازوں کے لیے خطرات برقرار ہیں، جس کے باعث عالمی شپنگ انڈسٹری کو مزید خلل اور انشورنس اخراجات میں اضافے کا سامنا ہو سکتا ہے۔