کاروبار اور معیشت

او جی ڈی سی ایل کی بڑی کامیابی، اٹک میں گیس کی پیداوار بحال

  • تمام آپریشنز صحت، حفاظت اور ماحولیات کے سخت معیارات کے مطابق انجام دیے گئے، کمپنی
شائع اپ ڈیٹ

آئل اینڈ گیس ڈیولپمنٹ کمپنی لمیٹڈ (او جی ڈی سی ایل) نے جمعرات کو اعلان کیا ہے کہ اس نے پنجاب کے ضلع اٹک میں واقع جنڈ-ون کنویں سے گیس کی پیداوار کامیابی سے بحال کردی ہے۔

کمپنی نے پاکستان اسٹاک ایکسچینج کو بھیجے گئے ایک نوٹس کے ذریعے اس پیشرفت سے آگاہ کیا۔

جنڈ-ون کنواں اس وقت 32/64 انچ کے چوک کے ذریعے 3,585 پی ایس آئی کے ویل ہیڈ فلوئنگ پریشر (ڈبلیو ایچ ایف پی) پر 21 ملین اسٹینڈرڈ کیوبک فٹ یومیہ (ایم ایم ایس سی ایف ڈی) سے زائد گیس پیدا کررہا ہے جو کہ اس کی سابقہ پیداواری سطح (تقریباً 7 ایم ایم ایس سی ایف ڈی) کے مقابلے میں نمایاں اضافہ ہے۔

کمپنی کے مطابق اس کنویں سے پیداوار کا آغاز ابتدائی طور پر 2019 میں دکھنی گیس پروسیسنگ پلانٹ کے ذریعے کیا گیا تھا اور اس وقت یہاں سے حاصل ہونے والی گیس میں H₂S (ہائیڈروجن سلفائیڈ) کا تناسب تقریباً 8 فیصد (تقریباً 80,000 پی پی ایم) تھا جو کہ انتہائی بلند سطح ہے۔

کمپنی کا کہنا ہے کہ گیس میں ترش مادوں کی موجودگی کے باعث پیدا ہونے والی مشکل زیرِ زمین صورتحال اور مکینیکل خرابی کی وجہ سے کنویں سے پیداوار بند ہوگئی تھی۔

اندرونی تکنیکی جائزوں اور خطرات کے تجزیے کی بنیاد پر او جی ڈی سی ایل نے اپنی تکنیکی ٹیم اور آلات کے ذریعے اس بحالی کے منصوبے کو کامیابی سے مکمل کیا۔

کمپنی کا کہنا ہے کہ یہ تمام آپریشنز صحت، حفاظت اور ماحولیات کے سخت معیارات کے مطابق انجام دیے گئے۔

نوٹس میں مزید بتایا گیا کہ محفوظ اور مستقل پیداوار کو یقینی بنانے کے لیے کنویں کو دوبارہ ایسی ٹیوبنگ (نالیوں) سے لیس کیا گیا ہے جو ترش گیس کی وجہ سے پیدا ہونے والے زنگ یا توڑ پھوڑ کے خلاف مزاحمت کی بھرپور صلاحیت رکھتی ہیں۔