پاسداران انقلاب کا آبنائے ہرمز سے گزرنے والے دو بحری جہازوں کو قبضے میں لینے کا دعویٰ
- امریکی بحری ناکہ بندی کے دوران ایرانی کارروائی، 13 اپریل سے ایرانی بندرگاہوں کا محاصرہ جاری ہے
ایران کی پاسدارانِ انقلاب (آئی آر جی سی) نے دعویٰ کیا ہے کہ ان کی بحری افواج نے آبنائے ہرمز عبور کرنے کی کوشش کرنے والے دو بحری جہازوں کو روک کر انہیں اسلامی جمہوریہ ایران کی سمندری حدود کی جانب موڑ دیا ہے۔
بحری جہازوں کو قبضے میں لینے کا یہ واقعہ ایک ایسے وقت میں پیش آیا ہے جب ایرانی بندرگاہیں امریکہ کی جانب سے لگائی گئی بحری ناکہ بندی کی زد میں ہیں۔ یہ ناکہ بندی 13 اپریل کو نافذ کی گئی تھی، جو ایران کے ساتھ جنگ بندی کے اعلان کے محض چند روز بعد عمل میں آئی۔
پاسدارانِ انقلاب کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ آئی آر جی سی کی بحری فورس نے آج صبح آبنائے ہرمز میں ضوابط کی خلاف ورزی کرنے والے دو جہازوں کی نشاندہی کر کے انہیں روک لیا۔بیان میں مزید کہا گیا کہ ان دونوں جہازوں کو قبضے میں لے کر ایرانی ساحل کی جانب روانہ کر دیا گیا ہے، تاہم ابھی یہ واضح نہیں ہو سکا کہ پاسدارانِ انقلاب کے اہلکار ان جہازوں پر سوار ہوئے ہیں یا نہیں۔
حکام نے ایک جہاز کی شناخت ایم ایس سی فرانسسکا کے نام سے کی ہے جس کے بارے میں ان کا دعویٰ ہے کہ یہ صیہونی ریاست (اسرائیل) کی ملکیت ہے، جبکہ دوسرے جہاز ایپامی نونڈاس پر نیویگیشن سسٹم کے ساتھ چھیڑ چھاڑ اور سمندری سلامتی کو خطرے میں ڈالنے کا الزام عائد کیا گیا ہے۔
پاسدارانِ انقلاب نے آبنائے ہرمز میں اسلامی جمہوریہ کے وضع کردہ قوانین کی خلاف ورزی اور محفوظ گزرگاہ کے خلاف کسی بھی قسم کی سرگرمی پر سخت وارننگ بھی جاری کی ہے۔
تہران کا موقف ہے کہ خلیج سے نکلنے یا اس میں داخل ہونے والے تمام جہازوں کے لیے آبنائے ہرمز استعمال کرنے سے قبل اجازت لینا ضروری ہے۔ واضح رہے کہ پرامن حالات میں دنیا کی تیل اور گیس کی کل برآمدات کا پانچواں حصہ اور دیگر اہم تجارتی اشیاء اسی گزرگاہ سے منتقل ہوتی ہیں۔ 28 فروری سے اسرائیل اور امریکہ کے ساتھ شروع ہونے والی جنگ کے بعد سے ایران نے اس راستے سے صرف چند ہی جہازوں کو گزرنے کی اجازت دی ہے۔