وزیرِاعظم شہباز شریف سے ایرانی سفیر کی ملاقات، علاقائی صورتحال اور امن کوششوں پر تبادلہ خیال
- جنگ کے آغاز سے اب تک مشرقِ وسطیٰ کے متعدد ممالک میں ہزاروں افراد اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں
وزیرِاعظم محمد شہباز شریف سے ایران کے سفیر رضا امیری مقدم نے بدھ کو ملاقات کی۔
وزیرِاعظم آفس کے مطابق ملاقات کے دوران علاقائی صورتحال اور امن کوششوں پر گفتگو کی گئی۔
یہ ملاقات ایک ایسے اہم موڑ پر ہوئی ہے جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے وزیرِاعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی درخواست پر ایران کے ساتھ جنگ بندی میں توسیع کا اعلان کیا ہے۔
سوشل میڈیا پر جاری ایک بیان میں صدر ٹرمپ نے کہا کہ انہوں نے پاکستان کی اس درخواست سے اتفاق کیا ہے جس نے امن مذاکرات میں ثالثی کا کردار ادا کیا ہے، کہ ایران پر ہمارے حملے کو اس وقت تک روک دیا جائے جب تک ان کے (ایران کے) قائدین اور نمائندے ایک متفقہ تجویز پیش نہیں کر دیتے۔
صدر ٹرمپ جنہوں نے اسرائیل کے ساتھ مل کر 28 فروری کو ایران کے خلاف جنگ کا آغاز کیا تھا نے کہا کہ انہوں نے جنگ بندی میں توسیع کا فیصلہ اس لیے کیا ہے کیونکہ ایران کی حکومت شدید خلفشار اور ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہے جو کہ غیر متوقع نہیں ہے۔ ان کا یہ اشارہ امریکہ اور اسرائیل کے ہاتھوں ایرانی قیادت کی شہادتوں کی طرف تھا، جن میں سابق سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای بھی شامل ہیں جن کی جگہ اب ان کے بیٹے نے سنبھال لی ہے۔
جنگ کے آغاز سے اب تک مشرقِ وسطیٰ کے متعدد ممالک میں ہزاروں افراد اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں جب کہ تیل اور گیس کی ترسیل کے لیے آبنائے ہرمز کی عملی طور پر بندش نے عالمی معیشت کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔
صدر ٹرمپ نے کہا ہے کہ وہ ایرانی بندرگاہوں اور ساحلوں کی امریکی بحری ناکہ بندی جاری رکھیں گے۔ دوسری جانب ایران کی قیادت نے اس ناکہ بندی کو اعلانِ جنگ قرار دیا ہے جو کہ رواں ہفتے دونوں ممالک کے درمیان اس حوالے سے ایک بڑا تنازع بن کر سامنے آیا ہے کہ آیا وہ پاکستانی دارالحکومت اسلام آباد میں ہونے والے امن مذاکرات کے دوسرے دور میں اپنے مذاکرات کار بھیجیں گے یا نہیں۔