اسلام آباد میں سیکیورٹی کے باعث پابندیاں، اٹک ریفائنری کا مرکزی یونٹ بند
- اسلام آباد میں غیر ملکی وفود کی متوقع آمد کے باعث اٹک ریفائنری سے تیل کے ٹینکرز کی آمد و رفت اچانک معطل کر دی گئی ہے، نوٹس
اٹک ریفائنری لمیٹڈ (اے آر ایل)، جو پاکستان کے ڈاؤن اسٹریم پٹرولیم سیکٹر کا ایک اہم ادارہ ہے، نے بدھ کے روز اعلان کیا ہے کہ اس نے اپنی مرکزی کروڈ ڈسٹلیشن یونٹ (ایچ بی یو-ون) جس کی گنجائش 32,400 بیرل یومیہ ہے، بند کر دی ہے۔
لسٹڈ ریفائنری نے یہ پیش رفت پاکستان اسٹاک ایکسچینج کو بدھ کے روز بھیجے گئے نوٹس میں ظاہر کی۔
نوٹس کے مطابق اسلام آباد میں غیر ملکی وفود کی متوقع آمد کے باعث اٹک ریفائنری سے تیل کے ٹینکرز کی آمد و رفت اچانک معطل کر دی گئی ہے۔
کمپنی نے کہا کہ اس صورتحال کے باعث خام تیل کی وصولی اور تیار مصنوعات کی ترسیل متاثر ہوئی ہے، جس سے ریفائنری کے آپریشنز براہِ راست متاثر ہوئے ہیں۔
نوٹس میں مزید بتایا گیا کہ ترسیل میں رکاوٹوں کے باعث موٹر اسپرٹ اور ہائی اسپیڈ ڈیزل کے ذخائر میں نمایاں اضافہ ہو گیا ہے، جبکہ سڑکوں کی بندش کے باعث خام تیل کی آمد بھی کم ہو گئی ہے۔
اٹک ریفائنری کی بنیاد 8 نومبر 1978 کو ایک پرائیویٹ لمیٹڈ کمپنی کے طور پر رکھی گئی تھی، جسے 26 جون 1979 کو پبلک کمپنی میں تبدیل کیا گیا۔ یہ کمپنی بنیادی طور پر خام تیل کی ریفائننگ کے شعبے میں کام کرتی ہے۔
یہ ادارہ اٹک آئل کمپنی لمیٹڈ (انگلینڈ) کی ذیلی کمپنی ہے، جبکہ اس کی حتمی پیرنٹ کمپنی کورل ہولڈنگ لمیٹڈ ہے، جو مالٹا میں رجسٹرڈ ایک پرائیویٹ کمپنی ہے۔