ایتھوپین ایئر لائنز کی لاہور کے لیے براہ راست پروازیں شروع کرنے پر نظر
- وفاقی وزیرِ تجارت جام کمال خان اور ایتھوپیا کے سفیر ڈاکٹر عمر حسین اوبا کے درمیان ملاقات
افریقہ کے معروف ایوی ایشن گروپ ایتھوپین ایئر لائنز نے لاہور کیلئے براہ راست پروازیں شروع کرنے کی منصوبہ بندی کی ہے جس کے بارے میں توقع ہے کہ اس اقدام سے پاکستان اور ایتھوپیا کے درمیان رابطوں میں نمایاں بہتری آئے گی اور کاروباری تعلقات مزید مضبوط ہونگے۔
یہ پیشرفت وفاقی وزیرِ تجارت جام کمال خان اور ایتھوپیا کے سفیر ڈاکٹر عمر حسین اوبا کے درمیان ہونے والی ایک ملاقات میں سامنے آئی۔ اس ملاقات کا مقصد پاکستان اور ایتھوپیا کے درمیان دوطرفہ تجارت، صنعتی تعاون اور علاقائی رابطوں کو مضبوط بنانے کے لیے نئی راہیں تلاش کرنا تھا جس میں خاص طور پر افریقی منڈیوں تک رسائی کو وسعت دینے پر توجہ مرکوز کی گئی۔
ایتھوپین سفیر نے آگاہ کیا کہ ایتھوپین ایئر لائنز لاہور کے لیے براہ راست پروازیں شروع کرنے کی منصوبہ بندی کررہی ہے جس سے دونوں ممالک کے درمیان کاروباری روابط میں نمایاں اضافہ ہوگا، رابطے بہتر ہوں گے اور ثقافتی تبادلوں کو فروغ ملے گا۔
ایک بیان کے مطابق ملاقات کے دوران دونوں جانب سے پاکستان اور ایتھوپیا کے تعلقات میں بڑھتی پیشرفت پر اطمینان کا اظہار کیا اور اس بات پر زور دیا گیا کہ ان روابط کو عملی اور نتیجہ خیز شراکت داری میں تبدیل کرنے کی ضرورت ہے۔
جام کمال نے اس بات پر روشنی ڈالی کہ حالیہ دوطرفہ روابط نے نہ صرف ایک دوسرے کی منڈیوں بلکہ افریقہ بھر میں وسیع تر مواقع کو مل کر تلاش کرنے کے لیے ایک تازہ بنیاد فراہم کی ہے۔
وفاقی وزیرِ تجارت نے اسلام آباد میں ملٹی کنٹری بزنس فورم منعقد کرنے کی تجویز پیش کی جس میں مشرقی افریقی ممالک کو دعوت دی جائے گی تاکہ وہ پاکستان کی صنعتی صلاحیتوں کا خود مشاہدہ کرسکیں۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ براہ راست رسائی سے پاکستان کے بارے میں عالمی تاثر کو بدلنے اور تجارت و سرمایہ کاری کی نئی شراکت داریوں کی راہیں کھولنے میں مدد ملے گی۔
پاکستان کی خوبیوں کو اجاگر کرتے ہوئے وفاقی وزیر نے ملک کے مضبوط چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباری شعبے (ایس ایم ای سیکٹر) پر زور دیا، جو گھریلو اشیاء، انجینئرنگ کی مصنوعات، زرعی مشینری اور صارفی اشیاء سمیت وسیع پیمانے پر سامان تیار کرتا ہے۔
انہوں نے خاص طور پر زراعت، انجینئرنگ اور ٹریکٹر سازی میں تعاون کے قوی امکانات پر زور دیا اور اس بات کو نوٹ کیا کہ پاکستان نے ان شعبوں میں نمایاں مہارت حاصل کی ہے جو افریقی معیشتوں میں میکانائزیشن اور پیداواری صلاحیت کو بہتر بنانے میں معاون ثابت ہو سکتی ہے۔
ملاقات میں گفتگو کا ایک اہم محور کاسمیٹکس اور پرسنل کیئر کی صنعت بھی تھی جس کے بارے میں وفاقی وزیر نے نوٹ کیا کہ گزشتہ چار سے پانچ سالوں کے دوران پاکستان میں اس شعبے میں نمایاں ترقی ہوئی ہے۔ انہوں نے دونوں خطوں میں صارفین کی بڑھتی ہوئی طلب سے فائدہ اٹھانے کے لیے کاسمیٹکس، پرفیوم اور متعلقہ مصنوعات میں پاکستانی اور ایتھوپیا کی کمپنیوں کے درمیان مشترکہ منصوبوں کی تجویز پیش کی۔
پاکستان کی صنعتی کامیابیوں کا ذکر کرتے ہوئے، جام کمال نے ایتھوپیا کے وفد کو سیالکوٹ کا دورہ کرنے کی دعوت دی اور اسے نجی شعبے کی قیادت میں ہونے والی ترقی کی ایک منفرد مثال قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ کہ سیالکوٹ چیمبر کی سربراہی میں وہاں کی کاروباری برادری نے بین الاقوامی ہوائی اڈے سمیت دیگر انفرااسٹرکچر آزادانہ طور پر تعمیر کیا ہے۔ سیالکوٹ کھیلوں کے سامان، جراحی کے آلات چمڑے اور جوتوں کی صنعت کا عالمی مرکز بنا ہوا ہے جہاں سے یورپی یونین سمیت دنیا بھر کو سالانہ اربوں ڈالرز کی برآمدات کی جاتی ہیں۔
تجارت اور لاجسٹکس کے حوالے سے وزیرِ تجارت نے روابط کو بہتر بنانے اور جبل علی جیسی تیسرے ملک کی بندرگاہوں پر انحصار کم کرنے کی اہمیت پر زور دیا۔ انہوں نے فیڈر ویسلز کے ذریعے افریقی بندرگاہوں کے ساتھ براہ راست سمندری روابط بڑھانے کی تجویز پیش کی جس سے سامان کی ترسیل کا وقت 10 سے 12 دنوں سے کم ہو کر محض 2 سے 3 دن رہ سکتا ہے۔
انہوں نے مزید پاکستان کی جغرافیائی اہمیت، خاص طور پر کراچی کو اجاگر کیا کہ یہ جبوتی کی بندرگاہ سمیت علاقائی بحری راہداریوں کے ذریعے وسطی ایشیا تک افریقی برآمدات کے لیے ایک گیٹ وے (تجارتی راستہ) ثابت ہو سکتا ہے۔
وفاقی وزیر نے دونوں ممالک میں سیاحت کے وسیع امکانات پر بھی روشنی ڈالی۔
گفتگو کے دوران ڈاکٹر عمر حسین اوبا نے وفاقی وزیر کو آگاہ کیا کہ ایتھوپیا میں پہلے سے منعقدہ کامیاب نمائش کے تسلسل میں اس سال کے آخر تک اسلام آباد میں ایتھوپیا کی سنگل کنٹری نمائش منعقد کرنے کی منصوبہ بندی کی گئی ہے۔ جام کمال نے اس اقدام کا خیر مقدم کیا اور پچھلی نمائش کی کامیابی کو سراہتے ہوئے اسے دوطرفہ تجارتی تعلقات کی مضبوطی کے لیے ایک اہم قدم قرار دیا۔
ایتھوپیا کی جانب سے پاکستان کی معاشی ترقی کو سراہا گیا اور ملک کے ہنر مند افرادی قوت اور مضبوط ہاسپیٹلٹی (مہمان نوازی) کے شعبے کا اعتراف کیا گیا۔ ڈاکٹر اوبا نے اس بات پر زور دیا کہ انسانی سرمایہ سب سے اہم وسیلہ ہے اور انہوں نے تعلیم، مہارت اور ادارہ جاتی ترقی میں گہرے تعاون کی ضرورت پر زور دیا۔
دونوں فریقین نے اس بات پر اتفاق کیا کہ پاکستان اور افریقی ممالک ایک اہم موڑ پر کھڑے ہیں جہاں تنوع، صنعتی تعاون (بشمول زراعت، انجینئرنگ اور ٹریکٹر سازی)، سیاحت کے فروغ اور عملی کاروباری روابط کے ذریعے اہم معاشی مواقع حاصل کیے جاسکتے ہیں۔