پاکستان

تنازعات کا تسلسل عالمی برادری کیلئے تباہ کن ہوگا، احسن اقبال

  • پاکستان کو اسلام آباد امن مکالمے کی میزبانی کا اعزاز حاصل ہے، وزیر منصوبہ بندی
شائع اپ ڈیٹ

وزیر برائے منصوبہ بندی، ترقی اور خصوصی اقدامات احسن اقبال نے کہا ہے کہ باہمی عدم اعتماد کو مکالمے میں بدلنا چاہیے اور جنگ کے رجحان پر حکمت کو ترجیح دینی چاہیے، انہوں نے خبردار کیا کہ تنازعات کا تسلسل نہ صرف خطے بلکہ پوری عالمی برادری کے لیے تباہ کن ثابت ہو سکتا ہے۔

انہوں نے ہفتہ کے روز سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنے بیان میں کہا کہ پاکستان کو اسلام آباد امن مکالمے کی میزبانی کا اعزاز حاصل ہے اور وہ متحارب فریقوں کو میدان جنگ سے مذاکرات کی میز پر لانے میں تعمیری کردار ادا کر رہا ہے۔

احسن اقبال نے پاکستان، ایران اور امریکہ کی قیادت سمیت دیگر دوست ممالک کی ان تعمیری کوششوں کو سراہا جنہوں نے امن کے لیے ایک موقع پیدا کیا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کی کوششوں کی بنیاد یہ سادہ اصول ہے کہ عدم اعتماد کو مکالمے سے، تحمل کو کشیدگی میں اضافے سے اور حکمت کو جنگ کے جذبے پر غالب آنا چاہیے۔

انہوں نے خبردار کیا کہ جاری تنازعات اب صرف علاقائی مسئلہ نہیں رہے بلکہ ان کے معاشی اثرات دنیا بھر میں محسوس کیے جا رہے ہیں، جن میں مہنگائی میں اضافہ، توانائی کی فراہمی میں رکاوٹیں، غیر مستحکم مارکیٹس اور تمام ممالک میں بڑھتی ہوئی غیر یقینی صورتحال شامل ہے۔

وزیر منصوبہ بندی نے کہا کہ اگر یہ تنازع جاری رہا تو لاکھوں مزید افراد غربت کا شکار ہو سکتے ہیں اور اس ناکامی کا بوجھ صرف متحارب فریقوں پر نہیں بلکہ دنیا بھر کے عام شہریوں پر مہنگائی، عدم تحفظ اور معاشی عدم استحکام کی صورت میں پڑے گا۔

انہوں نے امید ظاہر کی کہ مذاکرات مثبت نتیجہ دیں گے اور کہا کہ ان کی کامیابی نہ صرف علاقائی امن بلکہ عالمی سطح پر لاکھوں خاندانوں کی معاشی سلامتی اور مستقبل کے استحکام کے لیے بھی ضروری ہے۔

احسن اقبال نے مزید کہا کہ تاریخ ان لوگوں کو یاد نہیں رکھتی جنہوں نے بحران پیدا کیا بلکہ ان کو یاد رکھتی ہے جنہوں نے دانشمندی اور بصیرت کے ساتھ بڑے جنگی خطرات کو روکا۔

کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026