ٹرمپ کا ایرانی پاور نیٹ ورک پر حملوں سے پیچھے ہٹنے کا فیصلہ، امریکہ اور تہران کے درمیان مذاکرات کی تصدیق
- میں نے محکمہ جنگ کو ایرانی بجلی گھروں اور توانائی کے بنیادی ڈھانچے پر تمام فوجی حملے ملتوی کرنے کی ہدایت کر دی، امریکی صدر
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایران کے پاور نیٹ ورک کو نشانہ بنانے کے فیصلے سے پیچھے ہٹ گئے۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ اور ایران کے درمیان تعمیری بات چیت ہوئی ہے اور وہ بجلی گھروں سمیت توانائی کے بنیادی ڈھانچے پر کسی بھی قسم کے حملے ملتوی کر دیں گے۔
ٹرمپ کا یہ اقدام ایران کی اس دھمکی کے بعد سامنے آیا ہے جس میں کہا گیا تھا کہ اگر امریکہ نے ایرانی پاور نیٹ ورک کو نشانہ بنایا تو جواب میں اسرائیل کے بجلی گھروں اور خلیجی خطے میں امریکی اڈوں کو سپلائی فراہم کرنے والے پلانٹس پر حملہ کیا جائے گا۔
ٹرمپ نے سوشل میڈیا پوسٹ میں کہا کہ ایران کے ساتھ بات چیت کا سلسلہ پورا ہفتہ جاری رہے گا، تاہم ایرانی نیوز ایجنسی فارس نے ایک ذریعے کے حوالے سے دعویٰ کیا ہے کہ امریکہ کے ساتھ براہِ راست یا بالواسطہ کوئی رابطہ نہیں ہوا۔ وائٹ ہاؤس نے بھی ان مذاکرات کے مواد یا شرکاء سے متعلق سوالات کا کوئی جواب نہیں دیا۔
اس پیش رفت پرعالمی مارکیٹ کا ردِعمل فوری تھا۔برینٹ خام تیل کی قیمتوں میں تیزی سے کمی ہوئی، ڈالر کی قدر گر گئی اور اسٹاک مارکیٹس میں بہتری دیکھی گئی۔ ٹرمپ نے ٹروتھ سوشل پر لکھا کہ گزشتہ دو دنوں میں مشرقِ وسطیٰ میں دشمنی کے مکمل خاتمے کے لیے بہت اچھے اور مفید مذاکرات ہوئے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ میں نے محکمہ جنگ کو ہدایت کی ہے کہ ایرانی بجلی گھروں پر تمام فوجی حملے پانچ دن کے لیے ملتوی کر دیے جائیں، جس کا انحصار جاری ملاقاتوں کی کامیابی پر ہوگا۔
یاد رہے کہ ہفتے کے روز ٹرمپ نے دھمکی دی تھی کہ اگر تہران نے 48 گھنٹوں کے اندر آبنائے ہرمز کو جہاز رانی کے لیے مکمل طور پر نہ کھولا تو ایرانی بجلی گھر تباہ کر دیے جائیں گے۔ ایرانی حملوں نے اس اہم گزرگاہ کو عملی طور پر بند کر رکھا ہے جہاں سے دنیا کی 20 فیصد تیل اور گیس کی سپلائی ہوتی ہے۔ 28 فروری سے شروع ہونے والی اس جنگ میں اب تک 2,000 سے زائد افراد مارے جاچکے ہیں، جس نے عالمی معیشت اور ایندھن کی قیمتوں کو شدید متاثر کر رکھا ہے۔