بزنس ریکارڈر کو ذرائع سے ملنے والی اطلاعات کے مطابق، وفاقی وزیر برائے قانون و انصاف کی سربراہی میں کابینہ کمیٹی برائے قانون سازی (سی سی ایل سی) نے کسٹمز ایکٹ 1969 کے پانچویں شیڈول میں ترامیم کے مسودے کی منظوری دے دی ہے۔ ان ترامیم کا مقصد اسے آٹوموٹیو انڈسٹری ڈیولپمنٹ اینڈ ایکسپورٹ پالیسی 2021-26 کے مطابق بنانا ہے تاکہ الیکٹرک وہیکلز (ای ویز) کی پالیسی کو تقویت دی جاسکے۔

حالیہ اجلاس میں ریونیو ڈویژن نے کابینہ کمیٹی (سی سی ایل سی) کو مطلع کیا کہ حکومت ماحول دوست نقل و حمل کے فروغ کے لیے الیکٹرک گاڑیوں کی مقامی سطح پر تیاری کے لیے مراعات فراہم کررہی ہے۔

اس مقصد کے لیے وفاقی کابینہ نے 16 جون 2020 کو الیکٹرک گاڑیوں بشمول دو پہیہ، تین پہیہ اور کمرشل گاڑیوں کے لیے مالی مراعات کی منظوری دی تھی جن کا اطلاق یکم جولائی 2020 سے پانچ سال کی مدت کے لیے کیا گیا ہے۔

اسی مناسبت سے فنانس ایکٹ 2020 کے ذریعے کسٹمز ایکٹ 1969 کے پانچویں شیڈول میں ’پارٹ-V(A)‘ شامل کیا گیا تھا، تاکہ الیکٹرک گاڑیوں پر کسٹمز ڈیوٹی میں رعایت فراہم کی جا سکے۔ اس میں ٹیبل-I کے تحت مکمل تیار شدہ یونٹس اور ٹیبل-II کے تحت ان کی سی کے ڈی کٹس اور ای وی کے مخصوص پرزہ جات شامل ہیں۔

ریونیو ڈویژن نے کمیٹی کو مزید آگاہ کیا کہ وفاقی کابینہ نے بعد ازاں 21 دسمبر 2021 کو ’آٹوموٹیو انڈسٹری ڈویلپمنٹ اینڈ ایکسپورٹ پالیسی‘ 2021-26 کی منظوری دی، جس کے تحت الیکٹرک وہیکلز کے مکمل تیار شدہ یونٹس ، سی کے ڈی کٹس اور مقامی و غیر مقامی طور پر تیار کردہ پرزہ جات پر کسٹمز ڈیوٹی کی رعایت میں 30 جون 2026 تک توسیع کر دی گئی ہے۔

کمیٹی کو بتایا گیا کہ کسٹمز ایکٹ کے پارٹ-V(A) کے ٹیبل-I کے سیریل نمبر 1 سے 3 تک کے تحت مکمل تیار شدہ الیکٹرک گاڑیوں اور ٹیبل-II کے سیریل نمبر 1 سے 6 تک کے تحت ای وی سی کے ڈی کٹس اور مخصوص پرزہ جات کے لیے موجودہ مراعات، یکم جولائی 2020 سے شروع ہونے والی پانچ سالہ مدت کے لیے تھیں، جنہیں فنانس ایکٹ 2020 کے ذریعے شامل کیا گیا تھا۔ تاہم دسمبر 2021 میں ’آٹوموٹیو انڈسٹری ڈویلپمنٹ اینڈ ایکسپورٹ پالیسی 2021-26 کی منظوری کے بعد ان مراعات میں 30 جون 2026 تک توسیع کردی گئی ہے۔

مزید وضاحت کی گئی کہ وزارتِ صنعت و پیداوار نے 25 جولائی 2025 کو لکھے گئے ایک خط میں اس بات کی نشاندہی کی کہ پانچویں شیڈول میں مراعات کے لیے استعمال ہونے والی موجودہ زبان میں ’الیکٹرک لائٹ کمرشل وہیکلز‘ اور ’وینز‘ کے مخصوص پرزہ جات اور دیگر اجزاء کو الگ سے بیان نہیں کیا گیا، جیسا کہ AIDEP 2021-26 کے تحت تصور کیا گیا تھا۔

ریونیو ڈویژن نے بتایا کہ وزارتِ صنعت و پیداوار نے 2 جون 2025 کو ٹیرف پالیسی بورڈ کے ساتھ بجٹ تجاویز شیئر کی تھیں، جن میں دیگر تجاویز کے ساتھ ساتھ کنسیشنل نظام (رعایتی ڈھانچے) کو AIDEP 2021-26 کے مطابق اپ ڈیٹ کرنا بھی شامل تھا۔ تاہم، 10 جون 2025 کو ختم ہونے والے بجٹ کے عمل کے دوران وقت کی کمی کے باعث ان تجاویز پر بحث نہ ہو سکی اور نہ ہی انہیں حتمی شکل دی جا سکی۔

وزارتِ صنعت و پیداوار اور فیڈرل بورڈ آف ریونیو نے بعد ازاں 10 ستمبر اور 16 ستمبر 2025 کو ٹیرف پالیسی بورڈ کے سامنے یہ معاملہ دوبارہ اٹھایا۔

ٹیرف پالیسی بورڈ نے وزارتِ صنعت و پیداوار کو مشورہ دیا کہ وہ ایف بی آر کی مشاورت سے آٹو پالیسی 2021-26 کے مطابق ضروری قانون سازی کے عمل کو آگے بڑھائے۔

کمیٹی کو یہ بھی مطلع کیا گیا کہ وزارتِ صنعت و پیداوار، وزارتِ تجارت، ڈویژن برائے خزانہ اور ڈویژن برائے قانون و انصاف نے ان مجوزہ ترامیم پر اتفاق کر لیا ہے، جبکہ ڈویژن برائے قانون و انصاف نے بل کے مسودے کی قانونی جانچ پڑتال بھی مکمل کر لی ہے۔

مندرجہ بالا حقائق کی روشنی میں، کسٹمز ایکٹ 1969 کے پانچویں شیڈول کے ’پارٹ-V(A)‘ میں ترامیم کے لیے تیار کردہ بل کا مسودہ منظوری کے لیے پیش کیا گیا۔

تفصیلی غور و خوض کے بعد، کابینہ کمیٹی نے کسٹمز ایکٹ 1969 کے پانچویں شیڈول کے پارٹ-V(A) میں ترمیم آٹوموٹیو انڈسٹری ڈویلپمنٹ اینڈ ایکسپورٹ پالیسی 2021-26 کے ساتھ ہم آہنگی کے عنوان سے بل کے مسودے کی منظوری دے دی اور اسے حتمی منظوری کے لیے وفاقی کابینہ کو بھیجنے کی سفارش کردی۔