کاروبار اور معیشت

اسٹیٹ بینک کا شرح سود 10.5 فیصد پر برقرار رکھنے کا فیصلہ

  • گزشتہ اجلاس میں بھی شرح سود برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا گیا تھا
شائع March 9, 2026 اپ ڈیٹ March 10, 2026

اسٹیٹ بینک نے مانیٹری پالیسی کا اعلان کردیا جس میں شرح سود برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق اسٹیٹ بینک نے پیر کو 2026 کے اپنے دوسرے مانیٹری پالیسی کمیٹی کے اجلاس میں شرح سود کو 10.5 فیصد پر برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔

یہ فیصلہ مارکیٹ کی توقعات کے عین مطابق ہے جس میں مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی جغرافیائی و سیاسی کشیدگی کے پیشِ نظر مرکزی بینک کی جانب سے موجودہ صورتحال کو برقرار رکھنے کی پیش گوئی کی گئی تھی۔

مانیٹری پالیسی بیان

مرکزی بینک نے اپنے مانیٹری پالیسی بیان میں کہا کہ اگرچہ موصول ہونے والا ڈیٹا بڑی حد تک جنوری کے اجلاس کے بعد شیئر کی گئی میکرو اکنامک پیش گوئیوں کے مطابق تھا، تاہم کمیٹی نے مشاہدہ کیا کہ مشرقِ وسطیٰ میں جنگ چھڑنے کے بعد میکرو اکنامک منظرنامہ کافی غیر یقینی ہو گیا ہے۔

ایم پی سی نے نوٹ کیا کہ مشرقِ وسطیٰ کے تنازع کی وجہ سے عالمی سطح پر ایندھن کی قیمتوں کے ساتھ ساتھ فریٹ اور انشورنس کے اخراجات میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے، جبکہ سرحد پار تجارت اور سفر بھی متاثر ہو رہا ہے۔

گزشتہ اجلاس کے بعد سے ہونے والی اہم پیش رفت درج ذیل ہیں:

اول: مہنگائی جنوری میں بڑھ کر 5.8 فیصد اور فروری 2026 میں مزید 7 فیصد تک پہنچ گئی۔

دوم: جنوری میں کرنٹ اکاؤنٹ سرپلس ریکارڈ کیا گیا، جس کی وجہ سے زرمبادلہ کے ذخائر 16.3 ارب ڈالر تک پہنچنا ممکن ہوا۔

سوم: بڑی صنعتوں میں دسمبر 2025 کے دوران 0.4 فیصد نمو ہوئی۔

آخر میں امریکی انتظامیہ نے یکساں عالمی ٹیرف نافذ کرنے کا اعلان کیا ہے۔

حقیقی شعبہ (رئیل سیکٹر)

ایم پی سی نے کہا کہ معاشی سرگرمیاں مستحکم ہو رہی ہیں، جس میں آٹو سیلز، سیمنٹ کی ترسیل، بجلی کی پیداوار اور پی او ایل سیلز جیسے اشاریوں نے جولائی تا جنوری مالی سال 2026 کے دوران زیادہ نمو ریکارڈ کی ہے۔

حالیہ پالیسی اقدامات بشمول کیش ریزرو کی ضرورت میں کمی اور برآمد کنندگان کے لیے مارک اپ ریٹ میں کمی نے مینوفیکچرنگ کے امکانات کو بہتر کیا ہے، ان پیش رفتوں کی بنیاد پر ایم پی سی کو توقع ہے کہ مالی سال 2026 میں حقیقی جی ڈی پی کی شرح نمو پہلے سے لگائے گئے 3.75–4.75 فیصد کے رینج میں رہے گی۔

بیرونی شعبہ (ایکسٹرنل سیکٹر)

جنوری 2026 میں کرنٹ اکاؤنٹ 121 ملین ڈالر سرپلس رہا، جس سے جولائی تا جنوری مالی سال 2026 کا مجموعی خسارہ 1.1 ارب ڈالر تک محدود رہا۔ بیان کے مطابق مشرقِ وسطیٰ کے تنازع کی وجہ سے بیرونی ماحول مزید چیلنجنگ ہو گیا ہے، تاہم کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ مالی سال 2026 میں جی ڈی پی کے 0 سے 1 فیصد کے درمیان رہنے کا امکان ہے۔

مالیاتی شعبہ (فِسکل سیکٹر)

مالیاتی آپریشنز کے اعداد و شمار مسلسل استحکام کی نشاندہی کرتے ہیں، جس میں مجموعی توازن سرپلس رہا۔ اسٹیٹ بینک نے کہا کہ سود کی کم ادائیگیوں کی وجہ سے اخراجات قابو میں رہے۔تاہم ٹیکس وصولی اعتدال پسند رہی جو سالانہ ہدف کو پورا کرنے کے لیے درکار رفتار سے کافی کم ہے۔

زر اور ساکھ (منی اینڈ کریڈٹ)

20 فروری تک وسیع زر(ایم ٹو) کی نمو کم ہو کر16.0 فیصد رہ گئی، جس کی وجہ بینکاری نظام سے حکومتی بجٹ کے لیے قرضوں میں نمایاں کمی ہے۔ کمیٹی نے نوٹ کیا کہ بجٹ کی ادھار میں کمی سے نجی شعبے کے قرضوں کے لیے جگہ پیدا ہوئی ہے جس کے نتیجے میں نجی شعبے کے قرضوں (پی ایس سی) میں 790 ارب روپے کا اضافہ ہوا۔

مہنگائی (انفلیشن)

فروری میں مہنگائی کی شرح 7 فیصد ریکارڈ کی گئی، اسٹیٹ بینک کا اندازہ ہے کہ عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں میں اضافے اور بجلی نرخوں میں تبدیلی کی وجہ سے مہنگائی مالی سال 2026 کے بقیہ مہینوں میں 7 فیصد سے اوپر رہ سکتی ہے۔