دنیا

آبنائے ہرمز میں ڈرون حملے کے بعد فیول ٹینکر میں آگ بھڑک اٹھی، پاسدارانِ انقلاب

  • آبنائے ہرمز دنیا کی اہم ترین تیل برآمدی گزرگاہ سمجھی جاتی ہے
شائع اپ ڈیٹ

ایران کی پاسدارانِ انقلاب نے دعویٰ کیا ہے کہ ہونڈوراس کے پرچم بردار فیول ٹینکر اَیتھے نووا کو آبنائے ہرمز میں دو ڈرون حملوں کا نشانہ بنایا گیا جس کے بعد جہاز میں آگ بھڑک اٹھی۔ ایرانی خبر رساں اداروں کے مطابق یہ واقعہ پیر کے روز پیش آیا اور جہاز حملے سے کچھ دیر قبل اسی علاقے میں موجود تھا۔

آبنائے ہرمز دنیا کی اہم ترین تیل برآمدی گزرگاہ سمجھی جاتی ہے جو خلیج کے بڑے تیل پیدا کرنے والے ممالک، بشمول سعودی عرب، ایران، عراق اور متحدہ عرب امارات کو خلیج عمان اور بحیرۂ عرب سے ملاتی ہے۔

پاسدارانِ انقلاب کے بیان میں جہاز کا نام اَیتھن نووا بتایا گیا اور الزام عائد کیا گیا کہ یہ جہاز امریکا کے ساتھ ہم آہنگی میں کام کر رہا تھا۔ ایک ایرانی فوجی ترجمان نے سرکاری ٹی وی پر خلیجی علاقے میں فوجی کارروائیوں کی تفصیل بیان کرتے ہوئے اس واقعے کا ذکر کیا، تاہم انہوں نے واضح طور پر یہ نہیں کہا کہ حملہ ایرانی ڈرونز نے کیا۔

ایرانی میڈیا نے دعویٰ کیا ہے کہ مذکورہ جہاز امریکی بحریہ کے جہازوں کو ایندھن فراہم کر رہا تھا۔ خبر رساں ادارہ رائٹرز فوری طور پر جہاز کے رجسٹرڈ مالک یا منتظمین سے رابطہ نہیں کر سکا اور ان کی جانب سے تاحال کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا۔