کاروبار اور معیشت

مغل انرجی کا 36.5 میگاواٹ کا پاور پلانٹ کمرشل آپریشنز کے آغاز کے قریب

  • کمپنی نے بوائلر اور مین اسٹیم لائنوں کی اسٹیم بلوئنگ کا عمل کامیابی سے مکمل کرلیا
شائع February 26, 2026 اپ ڈیٹ February 26, 2026 02:00pm

مغل آئرن اینڈ اسٹیل انڈسٹریز لمیٹڈ کی ملکیتی ذیلی کمپنی، مغل انرجی لمیٹڈ نے جمعرات کو اپنے 36.50 میگاواٹ کے ہائبرڈ پاور پلانٹ کی تعمیر میں ایک اہم سنگ میل عبور کرنے کا اعلان کیا ہے۔ کمپنی نے بوائلر اور مین اسٹیم لائنوں کی اسٹیم بلوئنگ (بھاپ کے ذریعے صفائی) کا عمل کامیابی سے مکمل کرلیا ہے۔

کمپنی نے یہ معلومات پاکستان اسٹاک ایکسچینج (پی ایس ایکس) کو جاری نوٹس میں شیئر کیں۔

نوٹس کے مطابق پلانٹ نے اسٹیم بلوئنگ (بھاپ کے ذریعے صفائی) کے بعد کنٹرولڈ کولنگ ڈاؤن کا عمل بھی کامیابی سے مکمل کرلیا ہے۔

نوٹس کے مطابق پلانٹ اب اپنے آخری آزمائشی مراحل اور حفاظتی اقدامات سے گزر رہا ہے تاکہ مارچ 2026 کے دوران پاور جنریشن اور کمرشل بلنگ (تجارتی لین دین) کا باقاعدہ آغاز کیا جا سکے۔

گزشتہ سال کمپنی نے اپنے کوئلے سے چلنے والے کیپٹیو پلانٹ کا ہائیڈرو ٹیسٹ (پانی کے دباؤ کا ٹیسٹ) بھی کامیابی سے مکمل کرلیا تھا۔

اے ایچ ایل کے سینئر ریسرچ اینالسٹ نشید ملک نے اس وقت بزنس ریکارڈر کو بتایا تھا کہ 36.5 میگاواٹ کا یہ کول کیپٹیو پلانٹ اسٹیل بنانے والی اس کمپنی کو نیشنل گرڈ پر اپنا انحصار کم کرنے میں مدد دے گا۔

مغل آئرن اینڈ اسٹیل انڈسٹریز لمیٹڈ، پاکستان میں 16 فروری 2010 کو منسوخ شدہ کمپنیز آرڈیننس 1984 (جو اب کمپنیز ایکٹ 2017 ہے) کے تحت ایک پبلک لمیٹڈ کمپنی کے طور پر رجسٹر ہوئی۔ یہ کمپنی فیراس (لوہے والی) اور نان فیراس (بغیر لوہے والی) دونوں کاروباری شعبوں میں کام کرتی ہے۔

تاہم، کمپنی کی بنیادی سرگرمی فیراس کے شعبے میں مائلڈ اسٹیل کی مصنوعات کی تیاری اور فروخت ہے۔