عمان میں ایران اور امریکہ کے درمیان جوہری مذاکرات مثبت آغاز ہے، ایرانی سفارتکار
- آگے بڑھنے کے بارے میں کوآرڈینیشن کا فیصلہ دارالحکومتوں میں کیا جائے گا، عباس عراقچی
ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ جمعہ کو عمان میں ایران اور امریکہ کے درمیان اعلیٰ سطح کے جوہری مذاکرات ایک اچھا آغاز ثابت ہوئے اور یہ سلسلہ جاری رہے گا۔
عباس عراقچی نے ایران کے سرکاری ٹی وی کو بتایا ہے کہ ”مذاکرات کا آغاز مثبت رہا۔ اور بات چیت کو جاری رکھنے پر اتفاق کیا گیا ہے۔ آگے کس طرح بڑھنا ہے، اس کا فیصلہ دارالحکومتوں میں کیا جائے گا۔“
انہوں نے مزید کہا کہ دونوں جانب کے حکام مشاورت کے لیے اپنے اپنے دارالحکومت واپس جائیں گے اور عدم اعتماد کی دیوار کو گرانا ضروری ہے۔
امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے بدھ کے روز کہا ہے کہ جہاں ان مذاکرات میں دونوں فریقین نے مغرب کے ساتھ تہران کے طویل عرصے سے جاری جوہری تنازع پر سفارت کاری بحال کرنے کی آمادگی ظاہر کی ہے، وہاں واشنگٹن ایران کے بیلسٹک میزائلوں، خطے میں مسلح گروپوں کی حمایت اور ”اپنے عوام کے ساتھ سلوک“ کے معاملات کو بھی مذاکرات میں شامل کرنا چاہتا تھا۔
ایرانی حکام بارہا یہ کہتے آئے ہیں کہ وہ ایران کے میزائلوں پر بات نہیں کریں گے، جو خطے کے سب سے بڑے ہتھیاروں میں سے ہیں، اور انہوں نے کہا ہے کہ تہران یورینیم کی افزودگی کے اپنے حق کو تسلیم کرانا چاہتا ہے۔ واشنگٹن کے لیے ایران میں افزودگی کا عمل ایک سرخ لکیر ہے۔