پاکستان

مالی سال 2026-27 کا بجٹ سرکلر جاری، شرح نمو 5.1 فیصد متوقع

  • مہنگائی 6.5 فیصد رہنے کا تخمینہ لگایا گیا ہے
شائع January 28, 2026 اپ ڈیٹ January 28, 2026 09:06am

وزارت خزانہ نے مالی سال 2026-27 کے لیے بجٹ کال سرکلر جاری کر دیا ہے جس میں مجموعی قومی پیداوار کی شرح نمو 5.1 فیصد اور مہنگائی 6.5 فیصد رہنے کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔ اس کے ساتھ ہی ٹیکس اور نان ٹیکس محصولات کے گرین اجزا، موسمیاتی تبدیلی سے منسلک سبسڈیز اور آفات سے متعلق بجٹ سازی کے بارے میں تفصیلی ہدایات بھی جاری کی گئی ہیں۔

یہ نئی ہدایات تمام وزارتوں اور پرنسپل اکاؤنٹنگ افسران کو بھجوائی گئی ہیں، جن کے تحت وفاقی اداروں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ محصولات اور اخراجات میں ماحولیاتی اور موسمیاتی اہمیت رکھنے والے عناصر کی نشاندہی کریں، انہیں درجہ بندی کریں اور ٹیگ کریں۔ اس عمل کے ساتھ مالی سال 2024-25 کے حقیقی اعداد و شمار، 2025-26 کے نظرِ ثانی شدہ تخمینے اور 2026-27 کے بجٹ تخمینے بھی جمع کرانا ہوں گے۔

موسمیاتی اور آفات سے متعلق بجٹ سازی کا یہ توسیعی فریم ورک حکومت کے عبوری معاشی خاکے کے ساتھ پیش کیا گیا ہے، جس کے مطابق مالی سال 2025-26 میں شرح نمو 4.0 فیصد اور 2026-27 میں 5.1 فیصد تک پہنچنے کی توقع ہے، جبکہ مہنگائی بالترتیب 6.1 فیصد اور 6.5 فیصد کی سطح پر محدود رہنے کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔ یہ بہتری عالمی سطح پر اجناس کی قیمتوں میں نرمی اور ساختی اصلاحات کے باعث ممکن قرار دی گئی ہے۔

حکام کے مطابق محصولات، سبسڈیز اور آفات سے متعلق اخراجات کی بہتر درجہ بندی اور ٹیگنگ سے پالیسی سازوں کو مالیاتی پالیسی کو موسمیاتی مزاحمت، سبز ترقی اور پائیداری کے اہداف سے ہم آہنگ کرنے میں مدد ملے گی، جبکہ سرکاری وسائل کے استعمال میں شفافیت اور جوابدہی بھی بہتر ہوگی، خصوصاً ایسے وقت میں جب ملک کو موسمیاتی خطرات کا سامنا ہے۔

سرکلر کے مطابق وفاقی محصولات کو دو حصوں میں تقسیم کیا گیا ہے: ایک وہ ٹیکس محصولات جو ایف بی آر کے تحت آتے ہیں، اور دوسرے نان ٹیکس محصولات جو وزارت خزانہ کے زیرِ انتظام ہیں۔ اب نان ٹیکس محصولات کی موسمیاتی اہمیت کا تعین اس سرگرمی کے ماحولیاتی اثرات کی بنیاد پر کیا جائے گا جس سے وہ محصول حاصل ہو رہا ہے۔ ماحول کو نقصان پہنچانے والی سرگرمیوں، جیسے فوسل فیول کا استعمال، پلاسٹک یا مضر فضلہ، پر عائد محصولات کو موسمیاتی اہداف سے مثبت تعلق رکھنے والا تصور کیا جائے گا۔

عالمی طرزِ عمل کے مطابق رپورٹنگ کو معیاری بنانے کے لیے وزارتِ خزانہ نے ماحولیاتی نوعیت کے ٹیکس اور نان ٹیکس محصولات کی درجہ بندی کے لیے چار بنیادی شعبے مقرر کیے ہیں: توانائی، ٹرانسپورٹ، آلودگی اور قدرتی وسائل۔ ان میں پیٹرولیم لیویز، توانائی سے متعلق گرین ہاؤس گیسوں کا اخراج، موٹر گاڑیاں اور سڑکوں کا استعمال، ٹریفک رش چارجز، غیر توانائی آلودگی، ویسٹ مینجمنٹ فیس، شور کی آلودگی کے چارجز اور پانی و جنگلات جیسے قدرتی وسائل کے استعمال پر عائد محصولات شامل ہیں۔

بجٹ کال سرکلر میں سبسڈیز کو بھی باضابطہ طور پر موسمیاتی ٹیگنگ کے دائرے میں شامل کر لیا گیا ہے، جو وفاقی بجٹ کا بڑا حصہ ہوتی ہیں۔ حکومت پہلے ہی مالی سال 2023-24 سے جاری اخراجات اور ترقیاتی پروگرام کے تحت موسمیاتی نوعیت کے اخراجات کی نشاندہی کر رہی ہے، جبکہ اب مالی سال 2025-26 سے سبسڈیز کے جائزے کے لیے فارم تھری سی متعارف کرایا گیا ہے۔

نئے طریقہ کار کے تحت وزارتوں کو ہر سبسڈی کو لاگت کے مرکز، شعبے اور بجٹ تخمینے کے مطابق شناخت کر کے اسے موسمیاتی موافقت یا تخفیف کے زمرے میں رکھنا ہوگا۔ موافقت میں زرعی خطرات کے انتظام، فصل بیمہ اور موسمیاتی مزاحم ڈھانچے کے لیے سبسڈیز شامل ہوں گی، جبکہ تخفیف میں صاف توانائی، قابلِ تجدید ذرائع، توانائی بچت، بجلی کی ترسیل، ماس ٹرانزٹ اور برقی گاڑیوں سے متعلق معاونت شامل ہوگی۔

ہر سبسڈی کو اس کے موسمیاتی اثرات کے لحاظ سے بھی درجہ بند کیا جائے گا، جیسے براہِ راست موافق، بالواسطہ موافق، غیر جانبدار، ملا جلا اثر یا ممکنہ طور پر منفی اثر۔ اس سے حکومت کو اندازہ ہوگا کہ مالی معاونت ماحولیاتی اہداف کے مطابق ہے یا ماحول پر دباؤ بڑھا سکتی ہے۔

اسی کے ساتھ وزارتِ خزانہ نے آفات سے متعلق بجٹ سازی کی ہدایات بھی دہرا دی ہیں، کیونکہ پاکستان موسمیاتی تبدیلی سے پیدا ہونے والی قدرتی آفات کے حوالے سے انتہائی حساس ملک ہے۔ آفات سے متعلق اخراجات کی ٹیگنگ وفاقی بجٹ میں جاری رہے گی، جس میں آفت سے پہلے کے اقدامات جیسے روک تھام، تیاری اور خطرات میں کمی، اور آفت کے بعد کے اقدامات جیسے امداد، بحالی اور تعمیر نو شامل ہوں گے۔ ہر زمرے کو لاگت کے مرکز کی سطح پر مخصوص کوڈ دیا جائے گا تاکہ شفافیت اور نگرانی کو بہتر بنایا جا سکے۔

کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026