چاول کی برآمدات: پاکستان کا خریداری میں اضافے کے لیے فلپائن سے رابطہ
- وفاقی وزیرِ تجارت جام کمال خان سے پاکستان میں فلپائن کے سفیر ڈاکٹر ایمانوئل آر فرنانڈیز کی ملاقات
پاکستان نے چاول کے وافر ذخائر اور مستحکم معیاری پیداوار کی بنیاد پر فلپائن سے چاول کی خریداری میں اضافے کے لیے رابطہ کیا ہے۔ اعلامیے کے مطابق یہ پیش رفت وفاقی وزیرِ تجارت جام کمال خان اور پاکستان میں فلپائن کے سفیر ڈاکٹر ایمانوئل آر فرنانڈیز کے درمیان ہونے والی ایک ملاقات میں سامنے آئی۔
وزیراعظم شہباز شریف کی ہدایت پر ہونے والی اس ملاقات کے دوران وفاقی وزیرِ تجارت نے وزیراعظم کی جانب سے پاکستان کے چاول کی برآمدات کے لیے ترجیحی منڈیوں کی نشاندہی میں گہری دلچسپی کا پیغام پہنچایا اور فلپائن کی قیادت سے باضابطہ درخواست کی کہ وہ پاکستان سے مزید چاول کی خریداری پر غور کریں۔
انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ پاکستان اس وقت زرعی پیداوار میں اضافے کی مضبوط سمت پر گامزن ہے جہاں برآمدات کے لیے چاول کے وافر ذخائر موجود ہیں۔
جام کمال نے نشاندہی کی کہ بڑے سپلائرز کی عالمی مارکیٹ میں دوبارہ واپسی سے صورتحال بدل گئی ہے جس سے قیمتوں کے حوالے سے مسابقت میں اضافہ ہوا ہے۔
بیان کے مطابق ان صورتحال سے نمٹنے کے لیے حکومتِ پاکستان نے بینچ مارک قیمتوں میں مسابقت یقینی بنانے کا ایک طریقۂ کار وضع کیا ہے جس میں ضرورت پڑنے پر مالی معاونت (فنانشل بریجنگ) بھی شامل ہے تاکہ پاکستانی چاول معیار اور مقدار کی یقین دہانی کے ساتھ عالمی منڈی میں مسابقتی رہے۔
انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ اگر پاکستان مارکیٹ میں رائج قیمتوں کے برابر آنے میں کامیاب ہو جاتا ہے تو دونوں ممالک کے متعلقہ حکام کے درمیان ادارہ جاتی روابط کے ذریعے چاول کی دوطرفہ تجارت کو وسعت دینے کی بھرپور گنجائش موجود ہے۔
وفاقی وزیرِ تجارت نے سفیر کو مزید آگاہ کیا کہ پاکستان نے چاول کی برآمدات میں اضافے کیلئے فلپائن کو ایک اہم شراکت دار ملک کے طور پر نامزد کیا ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ دونوں جانب سے بروقت کوآرڈینیشن (رابطہ کاری) باہمی طور پر فائدہ مند انتظامات کو عملی جامہ پہنانے میں مددگار ثابت ہوگی، بالخصوص فلپائن میں ہونے والے چاول کی خریداری کے آئندہ ٹینڈرز کے تناظر میں۔
فلپائن کے سفیر ڈاکٹر ایمانوئل آر فرنانڈیز نے پاکستان کے اس اقدام (رابطے) کا خیرمقدم کیا اور اسے دوطرفہ تجارت اور سرمایہ کاری کے تعلقات کو مزید گہرا کرنے کی جانب ایک مثبت قدم قرار دیا۔
انہوں نے اس امر کا اعتراف کیا کہ پاکستان طویل عرصے سے فلپائن کو چاول فراہم کرنے والے سرفہرست تین ممالک میں شامل ہے اور کہا کہ پاکستان نہ صرف اپنی موجودہ مارکیٹ شیئر برقرار رکھنے بلکہ اسے مزید بڑھانے کی بھرپور صلاحیت رکھتا ہے۔
سفیر نے آگاہ کیا کہ پاکستان فلپائن مشترکہ اقتصادی کمیشن (جے ای سی) کا آئندہ اجلاس، جو فروری میں متوقع ہے، اپنے ایجنڈے میں چاول کی تجارت کو ترجیحی حیثیت دے گا۔
ملاقات کے دوران پاکستان کی وزارتِ تجارت اور فلپائن کی وزارتِ زراعت کے درمیان زیرِ گفت و شنید مجوزہ مفاہمتی یادداشت (ایم او یو) پر پیش رفت کا بھی جائزہ لیا گیا، جس کا مقصد کئی برسوں پر محیط جی ٹو جی بنیادوں پر خریداری کا فریم ورک قائم کرنا ہے۔
اس موقع پر بتایا گیا کہ دونوں ممالک کی تکنیکی ٹیمیں قریبی رابطے میں ہیں، جبکہ ایک پاکستانی وفد آئندہ خریداری کے ٹینڈرز سے قبل ایم او یو کو حتمی شکل دینے کے عمل کو تیز کرنے کے لیے فلپائنی حکام سے بات چیت کرے گا۔
ملاقات میں ٹیرف سے متعلق امور اور لاگت کے مقابلے کی اہمیت پر بھی تبادلۂ خیال کیا گیا، تاکہ پاکستانی چاول کی برآمدات کی زیادہ مقدار کو ممکن بنایا جا سکے۔ پاکستانی فریق نے اس بات پر زور دیا کہ مفاہمتی یادداشت (ایم او یو) کی بروقت تکمیل سے اضافی ذخائر کے مؤثر انتظام میں مدد ملے گی اور فلپائنی مارکیٹ کو چاول کی مسلسل فراہمی یقینی بنائی جا سکے گی۔
چاول کے علاوہ وفاقی وزیرِ تجارت نے مختصراً پاکستان کی فلپائن کو کنّو کی برآمدات میں اضافے کی دلچسپی کا بھی ذکر کیا اور درخواست کی کہ متعلقہ ٹیرف کے مسائل کو مناسب ادارہ جاتی فورمز، بشمول مشترکہ اقتصادی کمیشن (جے ای سی)، کے ذریعے زیرِ غور لایا جائے۔