کاروبار اور معیشت

آبادی کی بنیاد پر وسائل کی تقسیم آبادی پر قابو پانے کی کوششوں کو متاثر کررہی ہے ، احسن اقبال

  • موجودہ شرح کے مطابق 2050 تک پاکستان کی آبادی 40 کروڑ تک پہنچنے کا خدشہ ہے، وفاقی وزیر کی تنبیہ
شائع اپ ڈیٹ

وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی و ترقی احسن اقبال نے نیشنل فنانس کمیشن (این ایف سی) ایوارڈ میں ایک بنیادی نقص کی نشاندہی کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ وسائل کی تقسیم کے لیے آبادی پر ضرورت سے زیادہ انحصار آبادی پر قابو پانے کی کوششوں کو متاثر کر رہا ہے، کیونکہ یہ زیادہ آبادی والے صوبوں کو زیادہ فنڈز دے کر ان کی حوصلہ افزائی کرتا ہے۔ وفاقی وزیر کے مطابق اس بگاڑ پر سنجیدہ بحث اور اصلاحات کی ضرورت ہے۔

پیر کو جاری ویڈیو پیغام میں انہوں نے بتایا کہ 2023 کی پہلی ڈیجیٹل مردم شماری سے چند تشویشناک حقائق سامنے آئے ہیں۔ پاکستان میں آبادی میں اضافے کی شرح 2.4 فیصد سے بڑھ کر 2.55 فیصد ہو گئی ہے، جو دنیا کی بلند ترین شرحوں میں سے ایک ہے۔

انہوں نے خبردار کیا کہ اگر یہی رفتار برقرار رہی تو 2050 تک پاکستان کی آبادی 40 کروڑ تک پہنچ جائے گی، جو وسائل پر شدید بوجھ ڈالے گی۔

احسن اقبال نے کہا کہ چونکہ این ایف سی کے 82 فیصد وسائل آبادی کی بنیاد پر تقسیم ہوتے ہیں، اس لیے صوبوں کے پاس آبادی کم کرنے کی کوئی ترغیب موجود نہیں۔ انہوں نے اسے ایک بڑا چیلنج قرار دیتے ہوئے قومی سطح پر فیملی پلاننگ کی ضرورت پر زور دیا۔

دوسری جانب این ایف سی کمیشن کے کام کی رفتار سست ہے اور ورکنگ گروپس کی محدود پیش رفت کی وجہ سے آئندہ اجلاس میں تاخیر کا خدشہ ہے۔

دریں اثنا وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے وفاق پر ضم شدہ اضلاع کے فنڈز روکنے کا الزام لگایا ہے، جسے وزارت خزانہ نے مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ صوبے کو دہشت گردی کے خلاف جنگ کے اضافی حصے سمیت تمام فنڈز باقاعدگی سے جاری کیے جا رہے ہیں۔