پاکستان

سرمایہ کاری میں اضافے کیلئے ماہرین کا توانائی شعبے میں رکاوٹیں دور کرنے کا مطالبہ

  • مالیاتی مراعات بڑھائیں اور فیصلہ سازی اور عمل درآمد کی رفتار تیز کریں تاکہ مقامی اور غیر ملکی سرمایہ کاری کو راغب کیا جا سکے، سفارش
شائع January 9, 2026 اپ ڈیٹ January 9, 2026 09:04am

توانائی کے شعبے کے ماہرین اور صنعت کے نمائندوں نے جمعرات کو پالیسی سازوں پر زور دیا کہ وہ نظام میں موجود رکاوٹیں—جن میں ضرورت سے زیادہ ضابطہ سازی بھی شامل ہے—دور کریں، مالیاتی مراعات بڑھائیں اور فیصلہ سازی اور عمل درآمد کی رفتار تیز کریں تاکہ مقامی اور غیر ملکی سرمایہ کاری کو راغب کیا جا سکے۔

یہ تجاویز پاکستان انرجی کانفرنس کے دوران سامنے آئیں، جس کا انعقاد پیٹرولیم انسٹی ٹیوٹ آف پاکستان نے پاکستان کے توانائی شعبے کی تبدیلی کے عنوان کے تحت کیا۔

کانفرنس کا آغاز چیئرمین پی آئی پی اور ایم ڈی پاکستان اسٹیٹ آئل سید محمد طحہٰ کی خوش آمدیدی تقریر سے ہوا، جس کے بعد وفاقی وزیر توانائی (پیٹرولیم ڈویژن) علی پرویز ملک کا ویڈیو پیغام نشر کیا گیا، جس میں انہوں نے توانائی اصلاحات، پائیداری، سرمایہ کاری کے فروغ اور طویل المدتی توانائی تحفظ کے حوالے سے حکومت کے عزم کو اجاگر کیا۔

وفاقی وزیر پیٹرولیم علی پرویز ملک ذاتی طور پر شریک نہیں ہوئے اور اپنا پیغام ریکارڈ شدہ ویڈیو کے ذریعے پہنچایا۔

تاہم آئل اینڈ گیس ڈیولپمنٹ کمپنی لمیٹڈ کے منیجنگ ڈائریکٹر احمد حیات لک، چیئرمین آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی مسرور خان، اور توانائی شعبے کے سربراہان و سینئر عہدیداران کانفرنس میں شریک ہوئے۔ پیٹرولیم انسٹی ٹیوٹ آف پاکستان کے چیف ایگزیکٹو شہریار عمر نے بھی خطاب کیا۔

ماہرین اور نجی شعبے کے رہنماؤں نے حکومت کی توانائی شعبے کی ترقی کی کوششوں کو تسلیم کیا، لیکن ساتھ ہی سرمایہ کاری میں رکاوٹ بننے والے دیرینہ مسائل کی نشاندہی کی، جن میں زائد ضابطہ سازی اور سرمایہ کاروں کے لیے مستند ڈیٹا تک رسائی کی کمی شامل ہیں۔

انہوں نے تیز فیصلہ سازی اور اس پر عمل درآمد کے ساتھ ساتھ مقامی اور غیر ملکی سرمایہ کاروں کے لیے مالی مراعات کی ضرورت پر زور دیا، اور ٹائٹ گیس اور آف شور تلاش و ترقی کے لیے ضوابط میں نرمی کا مطالبہ کیا۔

ماہرین کے مطابق گزشتہ تین برسوں میں توانائی کی کھپت تقریباً 50 فیصد کم ہو گئی ہے، کیونکہ توانائی کی طلب قیمتوں سے زیادہ آمدنی کے اتار چڑھاؤ سے متاثر ہوتی ہے، رہائشی شعبہ اس سے مستثنیٰ ہے۔ فی الحال ملک کی تقریباً 80 فیصد توانائی تیل، کوئلے اور گیس سے حاصل کی جا رہی ہے، اگرچہ وقت کے ساتھ ساتھ اس کا حصہ کم ہونے کی توقع ہے۔

ماہرین نے پیش گوئی کی کہ آئندہ برسوں میں پن بجلی، ایل پی جی اور قابل تجدید توانائی کی طلب بڑھے گی، جبکہ تیل اور گیس کا حصہ بتدریج کم ہو سکتا ہے۔ توقع ہے کہ رہائشی شعبے میں توانائی طلب دیگر شعبوں کے مقابلے میں زیادہ تیز رفتار سے بڑھے گی۔

ماہرین نے خبردار کیا کہ توانائی کی درآمدی لاگت حجم اور جی ڈی پی کے تناسب دونوں لحاظ سے بڑھ سکتی ہے، اور اصلاحات پر مبنی حکمت عملی کو ملک کے لیے سب سے مناسب راستہ قرار دیا۔

فی کس توانائی کی فراہمی اور طلب بڑھانے کے لیے شرکا نے توانائی کی کارکردگی بہتر بنانے کے اقدامات پر زور دیا۔ ان کے مطابق درآمدی کوئلے کی جگہ مقامی کوئلے کا استعمال 2050 تک درآمدی بل میں تقریباً 8 ارب ڈالر تک کمی میں مدد دے سکتا ہے۔

یہ بھی تجویز کیا گیا کہ گیس کا زیادہ مؤثر استعمال کیا جائے تاکہ درآمدی انحصار کم ہو، جبکہ بجلی پیدا کرنے کے لیے درآمدی گیس کو آئندہ 10 برسوں میں قابل تجدید ذرائع سے تبدیل کیا جا سکتا ہے۔ اسی طرح صنعت اور بجلی کے شعبوں میں استعمال ہونے والا درآمدی کوئلہ بھی تدریجی طور پر مقامی ذرائع سے بدلا جا سکتا ہے۔

شرکا نے کہا کہ موجودہ منصوبوں کے مطابق بجلی کی درآمد جاری رہے گی، جبکہ مزید اضافہ تجویز نہیں کیا گیا۔ انہوں نے نشاندہی کی کہ توانائی کے بعض غیر برقی استعمالات میں تیل اور گیس کا متبادل فوری طور پر دستیاب نہیں ہو سکتا، تاہم قابل تجدید ذرائع سے بجلی پیداوار میں توسیع ضروری ہے۔

ماہرین نے توانائی کے مؤثر استعمال کے لیے جدید ٹیکنالوجی اپنانے اور تازہ ترین ڈیٹا بیس پورٹل قائم کرنے کی ضرورت پر بھی زور دیا تاکہ مطلوبہ معلومات فوری اور درست طور پر دستیاب رہیں۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان کو اگلے 20 سے 25 برسوں کے لیے تلاش، ریفائننگ اور پیٹروکیمیکلز کے لیے جامع حکمت عملی چاہیے، جبکہ بایو فیول اور بایو ڈیزل کی مقامی پیداوار سے درآمدی ایندھن پر انحصار کم کیا جا سکتا ہے۔

آئل اینڈ گیس ڈیولپمنٹ کمپنی لمیٹڈ پاکستان انرجی کانفرنس کی لیڈ پارٹنر رہی، جبکہ پاک عرب ریفائنری لمیٹڈ، پاکستان پیٹرولیم لمیٹڈ، پاکستان اسٹیٹ آئل اور یونائیٹڈ انرجی پاکستان لمیٹڈ نے گولڈ پارٹنر کی حیثیت سے کانفرنس میں حصہ لیا۔ یونیورسل گیس ڈسٹری بیوشن کمپنی سلور پارٹنر رہی، جو کانفرنس کے مقاصد کے لیے صنعت کی مضبوط حمایت کا عکاس ہے۔

کانفرنس کا اہم حصہ پاکستان انرجی آؤٹ لک 2025 پر پیشکش تھی، جس میں توانائی کی طلب و رسد، متوقع رجحانات اور معاشی و ماحولیاتی عوامل کی روشنی میں یکجا منصوبہ بندی کی ضرورت پر روشنی ڈالی گئی۔

کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026