دنیا

یمنی علیحدگی پسند رہنما متحدہ عرب امارات کی مدد سے فرار ہوگئے، سعودی اتحاد

  • عیدروس الزبیدی صومالیہ جانے والے طیارے پر سوار ہوئے جو بالآخر ابوظہبی کے فوجی ہوائی اڈے پر لینڈ کرگیا
شائع اپ ڈیٹ

یمن میں سعودی عرب کی زیرِ قیادت اتحاد نے کہا ہے کہ متحدہ عرب امارات کی حمایت یافتہ جنوبی علیحدگی پسندوں کے گروپ کے سربراہ، عیدروس الزبیدی، کشتی کے ذریعے یمن سے فرار ہو گئے جس کے بعد وہ مقدیشو (صومالیہ) جانے والے ایک طیارے پر سوار ہوئے جو بالآخر ابوظہبی کے ایک فوجی ہوائی اڈے پر لینڈ کرگیا۔

اس ڈرامائی صورتحال نے تیل کی دولت سے مالا مال خلیجی خطے کے طاقتور ترین ممالک، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے درمیان جھگڑے کو مزید ہوا دے دی ہے۔ عیدروس الزبیدی بدھ کو جنوبی یمن کی ابتر صورتحال پر ہونے والے ہنگامی مذاکرات کے لیے ریاض پہنچنے میں ناکام رہے تھے۔

علیحدگی پسندوں کا کہنا ہے کہ انہیں دھمکی دے کر سعودی عرب جانے کے لیے کہا گیا تھا۔

سعودی عرب کا یہ دعویٰ کہ متحدہ عرب امارات نے ان کے فرار میں مدد کی، اس بحران کی شدت کو مزید بڑھا دیتا ہے جو گزشتہ ماہ اس وقت شروع ہوا تھا جب علیحدگی پسندوں نے جنوبی یمن پر قبضہ کیا اور سعودی عرب کی سرحد تک پہنچ گئے۔

ان تیزی سے بدلتے ہوئے حالات نے سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے درمیان دراڑ پیدا کردی ہے جس سے یمن کی عالمی سطح پر تسلیم شدہ حکومت کی سربراہی میں قائم وہ اتحاد ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہوگیا ہے جو ایران کے حمایت یافتہ حوثیوں کے خلاف برسرِ پیکار ہے۔

امریکہ کے ان قریبی اتحادیوں (سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات) کے درمیان مشرقِ وسطیٰ کے کئی حساس معاملات پر شدید اختلافات پائے جاتے ہیں جن میں جیو پولیٹکس سے لے کر تیل کی پیداوار تک کے مسائل شامل ہیں جو یمن کے حالیہ بحران کے ساتھ کھل کر سامنے آ گئے ہیں۔