پاکستان

فائیو جی اسپیکٹرم کی مہنگی قیمتیں، حکومت کشمکش کا شکار

  • جہاں ایک طرف زیادہ ریزرو قیمتیں مقرر کرنے سے ٹیلی کام آپریٹرز کے نیلامی میں دلچسپی کم ہونے کا خدشہ ہے، تو دوسری جانب قیمتیں کم رکھنے کی صورت میں سخت جانچ پڑتال اور ماضی کی نیلامیوں سے موازنہ کیے جانے کا اندیشہ لاحق ہے۔
شائع December 17, 2025 اپ ڈیٹ December 17, 2025 08:56am

وفاقی حکومت اس وقت اسپیکٹرم کی قیمتوں کے معاملے پر ایک پیچیدہ صورتِ حال سے دوچار ہے، جہاں ایک طرف زیادہ ریزرو قیمتیں مقرر کرنے سے ٹیلی کام آپریٹرز کے نیلامی میں دلچسپی کم ہونے کا خدشہ ہے، تو دوسری جانب قیمتیں کم رکھنے کی صورت میں سخت جانچ پڑتال اور ماضی کی نیلامیوں سے موازنہ کیے جانے کا اندیشہ لاحق ہے۔ یہی کشمکش فائیو جی اسپیکٹرم نیلامی کے عمل میں تاخیر کی ایک بڑی وجہ بن چکی ہے۔

منگل کو ہونے والے اسپیکٹرم ایڈوائزری کمیٹی کے اجلاس میں فائیو جی اسپیکٹرم نیلامی کے حوالے سے کوئی حتمی فیصلہ نہ ہو سکا۔ ذرائع کے مطابق اب حکومت کی جانب سے نیلامی کے لیے 2026 کی پہلی سہ ماہی کا ہدف رکھا جا رہا ہے۔ اجلاس کی صدارت وفاقی وزیر خزانہ و محصولات محمد اورنگزیب نے کی، جبکہ وفاقی وزیر برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی کمیونیکیشن، چیئرمین پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی اور دیگر متعلقہ حکام بھی شریک ہوئے۔

اجلاس میں موبائل سروس کے گرتے ہوئے معیار پر بڑھتی عوامی تشویش کے تناظر میں نیلامی کی تیاری، دستیاب اسپیکٹرم اور مارکیٹ کی صورتحال پر بریفنگ دی گئی۔ حکام نے بتایا کہ اس وقت تقریباً 600 میگا ہرٹز اسپیکٹرم غیر استعمال شدہ پڑا ہے، جبکہ صرف 274 میگا ہرٹز اسپیکٹرم تقریباً 200 ملین صارفین کو سروس فراہم کر رہا ہے، جس کے باعث کال ڈراپ، سست انٹرنیٹ اور نیٹ ورک رش جیسے مسائل بڑھ رہے ہیں۔

فائیو جی اسپیکٹرم نیلامی کے لیے حکومت کی جانب سے مقرر کردہ امریکی کنسلٹنسی نیشنل اکنامک ریسرچ ایسوسی ایٹس انکارپوریٹڈ نے اپنی رپورٹ میں خبردار کیا ہے کہ زیادہ اسپیکٹرم قیمتیں مقابلے میں کمی، جدت میں سست روی اور صارفین کے لیے مہنگی سروسز کا باعث بن سکتی ہیں۔ رپورٹ کے مطابق کم قیمتیں طویل المدت بنیادوں پر حکومت کے لیے زیادہ محصولات کا ذریعہ بن سکتی ہیں۔ کنسلٹنٹ نے ادائیگی کی مدت بڑھانے، 3.5 گیگا ہرٹز بینڈ کے لیے اضافی مراعات اور خطے کے دیگر ممالک جیسے ویتنام، انڈونیشیا اور بنگلہ دیش کی مثالیں اپنانے کی سفارش بھی کی ہے۔

رپورٹ میں یہ بھی نشاندہی کی گئی کہ پاکستان میں ماضی کی نیلامیوں میں زیادہ ریزرو قیمتیں، ڈالر سے منسلک نرخ، تجارتی شرائط کی سختی اور تاخیر کے باعث اسپیکٹرم غیر فروخت شدہ رہا۔ جی ایس ایم اے کے مطابق اگر آئندہ نیلامی میں اسپیکٹرم فروخت نہ ہو سکا تو 2025 سے 2030 کے دوران معیشت کو 1.8 بلین ڈالر تک کا نقصان ہو سکتا ہے، جبکہ پانچ سالہ تاخیر کی صورت میں یہ نقصان 4.3 بلین ڈالر تک بڑھ سکتا ہے۔

بدھ کو نائب وزیر اعظم اور اس کے اگلے روز وزیر اعظم کو بریفنگ دی جائے گی، جس کے بعد آئندہ دنوں میں ٹائم لائن، ریزرو قیمتوں اور غیر استعمال شدہ اسپیکٹرم کے اجرا سے متعلق اہم فیصلوں کی توقع کی جا رہی ہے، جو صارفین کے لیے بہتر سروس یا مزید مشکلات کا تعین کریں گے۔

کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025