عالمی معاشی جھٹکوں سے نمٹنے کیلئے پاکستان کو مضبوط مالی اور بیرونی حفاظتی ذخائر درکار ہیں ، محمد اورنگزیب
- ملکی معیشت نے مائیکرو اکنامک سطح پر استحکام حاصل کر لیا ہے ، وفاقی وزیرِ خزانہ
وزیرِ خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا ہے کہ پاکستان سمیت کئی ابھرتی ہوئی معیشتوں کو عالمی غیر یقینی حالات کا مقابلہ کرنے کے لیے مضبوط مالیاتی اور بیرونی حفاظتی ذخائر تعمیر کرنا ہوں گے۔
بدھ کو تقریب سے خطاب کرتے ہوئے محمد اورنگزیب کا کہنا تھا کہ پاکستان سمیت کئی ابھرتی ہوئی معیشتیں اب بھی ساختی اصلاحات کے ایجنڈے پر گامزن ہیں۔
انہوں نے کہا کہ غیر یقینی صورتحال موجود ہے، چاہے وہ جغرافیائی کشیدگی ہو، تجارتی تقسیم ہو یا سپلائی چین کی ازسرِنو ترتیب ۔
انہوں نے سرحدی کشیدگی اور داخلی امن و امان جیسے عوامل کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ہر ملک بشمول پاکستان کو اس بات کو یقینی بنانا ہوگا کہ ہم مالیاتی اور بیرونی حفاظتی ذخائر تیار کریں ،تاکہ بیرونی جھٹکوں سے نمٹا جا سکے۔
ان کا کہنا تھا کہ وفاقی حکومت اور وزارتِ خزانہ کو یہ یقینی بنانا ہوگا کہ یہ حفاظتی ذخائر موجود ہوں۔
وزیرِ خزانہ نے ایک بار پھر کہا کہ ملک نے میکرو اکنامک استحکام حاصل کر لیا ہے، تاہم ہم سنہرے وقت کی اندھی دوڑ جیسی صورتحال سے بچنا چاہتے ہیں۔
،انہوں نے ڈیٹا کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ مالی سال کے ابتدائی چار ماہ میں بڑے پیمانے کی پیداوار میں سالانہ بنیادوں پر تقریباً 4 فیصد اضافہ ہوا۔ہمیں احتیاط برتنی ہوگی کیونکہ یہ تاحال ایک واضح رجحان نہیں، لیکن بنیادی عوامل اور تعمیراتی اشاریے مثبت ہیں۔
محمد اورنگزیب نے کہا کہ پاکستان تیزی سے غیر ملکی سرمایہ کاری کے لیے قابلِ اعتماد ملک کے طور پر سامنے آ رہا ہے۔
ملٹی نیشنل کمپنیوں کے حوالے سے وزیرِ خزانہ نے کہا کہ ایم این سیز اپنی شمولیت کے فیصلے اپنے منافع، ایکوئٹی پر منافع اور دیگر عوامل کو مدنظر رکھ کر کرتی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ دنیا میں ایک تبدیلی مغرب سے مشرق کی طرف بھی جاری ہے۔
انہوں نے بتایا کہ تین ہفتے قبل میں خود گوگل کے فورم میں شریک تھا جب ان کی سینئر مینجمنٹ پاکستان آئی۔ انہوں نے نہ صرف اپنا دفتر کھولنے کا اعلان کیا بلکہ یہ بھی کہ پاکستان گوگل کے لیے ٹیکنیکل اور ایکسپورٹ حب بنے گا۔
ساختی اصلاحات کے حوالے سے وزیرِ خزانہ نے بتایا کہ پالیسی سازی فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر ) کی ذمہ داری نہیں ہے۔
محمد اورنگزیب نے برآمدات کے شعبے کی معاونت کے لیے حالیہ پالیسی اقدامات پر بھی روشنی ڈالی۔انہوں نے کہاکہ ابتدا میں ورکنگ گروپ، جس کی قیادت مسعوداق ظلفکارن کر رہے تھے نے ایکسپورٹ ڈیولپمنٹ سرچارج (ای ڈی ایس) معطل کرنے کی تجویز دی تھی، تاہم وزیرِ اعظم نے اسے مکمل طور پر ختم کرنے کا فیصلہ کیا۔انہوں نے اس پیش رفت کو برآمدی شعبے کے لیے مثبت قرار دیا۔
حکومت نے پیر کے روز برآمدات پر عائد 0.25 فیصد ای ڈی ایس کو فوری طور پر واپس لینے کا فیصلہ کیا، جس سے ایکسپورٹرز کو دیرینہ ریلیف ملا اور عالمی منڈیوں میں پاکستان کی مسابقت بہتر ہوئی۔