کاروبار اور معیشت

پی آئی اے کی نجکاری،اے کے ڈی گروپ کی شمولیت کنسورشیم کو مزید مضبوط بنائیگی، عارف حبیب لمیٹڈ

  • پرائیویٹائزیشن کمیشن بورڈ نے اے کے ڈی گروپ ہولڈنگز (پرائیویٹ) لمیٹڈکو اے ایچ سی ایل کی قیادت والے کنسورشیم میں شامل کرنے کی منظوری دی تھی
شائع November 10, 2025 اپ ڈیٹ November 10, 2025 10:45am

اے کے ڈی گروپ نے پاکستان انٹرنیشنل ایئر لائنز کارپوریشن لمیٹڈ (پی آئی اے سی ایل) کی نجکاری میں حصہ لینے والے عارف حبیب کارپوریشن لمیٹڈ (اے ایچ سی ایل) کی قیادت والے کنسورشیم میں شمولیت اختیار کر لی ہے۔

عارف حبیب لمیٹڈ نے یہ خبر پیر کے روز پاکستان اسٹاک ایکسچینج (پی ایس ایکس) کو جاری کردہ نوٹس میں دی۔

نوٹس میں کہا گیا کہ اے کے ڈی گروپ نے اپنی کمپنی اے کے ڈی گروپ ہولڈنگز (پرائیویٹ) لمیٹڈکے ذریعے اے ایچ سی ایل کی قیادت والے کنسورشیم میں شمولیت اختیار کر لی ہے جو پاکستان انٹرنیشنل ایئر لائنز کارپوریشن لمیٹڈ (پی آئی اے سی ایل) کی نجکاری میں حصہ لے رہا ہے۔

یہ اعلان اس کے بعد سامنے آیا جب پرائیویٹائزیشن کمیشن بورڈ نے جمعہ کے روز اے کے ڈی گروپ ہولڈنگز (پرائیویٹ) لمیٹڈکو اے ایچ سی ایل کی قیادت والے کنسورشیم میں شامل کرنے کی منظوری دی۔

پرائیویٹائزیشن کمیشن نے ایک بیان میں کہا کہ یہ شمولیت اس بیان کے شرائط کے مطابق جائز ہے جو کوالیفیکیشنز (ایس او کیوز) کے حوالے سے مقرر کی گئی تھیں۔

دریں اثنا، عارف حبیب لمیٹڈ نے اسٹاک ایکسچینج کو بتایا کہ اے کے ڈی گروپ، جو وینچر کیپیٹل، ریئل اسٹیٹ، تعمیرات، تیل و گیس اور ٹیکنالوجی کے شعبوں میں مضبوط موجودگی رکھتا ہے، کی شمولیت کنسورشیم کو مزید مستحکم کرے گی کیونکہ یہ ٹرانزیکشن کے ڈیوی ڈیلجنس کے مرحلے سے گزر رہا ہے۔

اب کنسورشیم میں اے ایچ سی ایل، فاطمہ فرٹیلائزر کمپنی لمیٹڈ، سٹی اسکول (پرائیویٹ) لمیٹڈ، لیک سٹی ہولڈنگز (پرائیویٹ) لمیٹڈ اور اے کے ڈی گروپ ہولڈنگز (پرائیویٹ) لمیٹڈ شامل ہیں۔

نوٹس میں مزید کہا گیا کہ کنسورشیم پرائیویٹائزیشن کمیشن آف پاکستان اور دیگر اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ فعال طور پر مصروف ہے تاکہ ڈیوی ڈیلجنس کے عمل کو مکمل کیا جا سکے۔

حکومت نے اس سال اپریل میں ایک نیا ای او آئی کال کے ذریعے پٌی آئی اے کی فروخت کے عمل کو دوبارہ شروع کیا، تاکہ قومی کیریئر میں اپنی حصے داری بیچنے اور نقدی کھپانے والی ریاست کے زیر انتظام اداروں (ایس او ایز) کی اصلاح کے لیے اقدامات کیے جا سکیں، جیسا کہ سات ارب ڈالر کے بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) پروگرام کے تحت تجویز کیا گیا ہے۔

حکومت پچھلے سال پی آئی اے کی نجکاری میں اپنی پہلی کوشش میں ناکام رہی تھی، جب اسے صرف ایک پیشکش موصول ہوئی جو مطلوبہ قیمت 300 ملین ڈالر سے کہیں کم تھی۔