پاکستان اور امریکا کا دوطرفہ تعلقات مضبوط بنانے کے عزم کا اعادہ
- امریکا میں پاکستانی سفیر کی وسط ایشیا امور کے معاون سیکریٹری سے ملاقات
امریکا میں پاکستان کے سفیر رضوان سعید شیخ نے محکمہ خارجہ میں جنوب اور وسط ایشیائی امور بیورو کے معاون سیکریٹری پال کاپور سے ملاقات کی جس میں باہمی دلچسپی کے متعدد شعبوں میں دوطرفہ تعاون کو بڑھانے کے مواقع پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
ملاقات کے دوران سفیر رضوان سعید شیخ نے کاپور کو ان کے نئے عہدے پر فائز ہونے پر مبارکباد دی۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک پوسٹ میں انہوں نے کہا کہ دونوں فریقین نے پاکستان-امریکہ تعلقات کو قیادت کی سطح پر ظاہر کیے گئے عزم سے ایک اقتصادی طور پر مضبوط حکمتِ عملی کے شراکت دار میں تبدیل کرنے کے طریقوں اور امکانات پر بات چیت کی جو باہمی دلچسپی کے متعدد شعبوں میں مسلسل مشاورت کے ذریعے ممکن ہوگا۔
اسی دوران اسسٹنٹ سیکرٹری پال کاپور نے سوشل میڈیا پر ایک پوسٹ میں کہا کہ پاکستانی سفیر سے ملاقات خوشگوار تجربہ رہی، دونوں نے امریکہ-پاکستان تعلقات کو آگے بڑھانے اور اپنے ممالک کو زیادہ خوشحال اور محفوظ بنانے کے طریقوں پر بات چیت کی۔
یہ ملاقات اس وقت ہوئی جب دونوں ممالک اقتصادی ترقی اور سکیورٹی تعاون کے شعبوں میں مزید شراکت کے مواقع تلاش کررہے ہیں۔
رواں سال کے آغاز میں امریکی انتظامیہ نے پاکستان کے ساتھ ایک معاہدہ کیا تھا جس کے تحت واشنگٹن، اسلام آباد کے ساتھ ملکر جنوبی ایشیائی ملک کے تیل ذخائر کی ترقی میں کام کرے گا۔
اسلام آباد نے اس معاہدے کو واشنگٹن کے ساتھ وسیع تر شراکت داری کی علامت قرار دیا۔ وزیر خزانہ محمد اورنگزیب جنہوں نے مذاکرات کے آخری دور کی قیادت کی نے کہا کہ یہ ایک بڑے اقتصادی اور اسٹریٹجک معاہدے کا حصہ ہے۔
محمد اورنگزیب نے کہا کہ ہماری نظر میں یہ ہمیشہ فوری تجارتی ضرورت سے آگے جاتا رہا ہے، اس کا مقصد یہ تھا اور ہے کہ تجارت اور سرمایہ کاری کو ایک ساتھ بڑھایا جائے ۔
اعلامیے کے بعد امریکی انتظامیہ نے پاکستانی مصنوعات پر 19 فیصد کم از کم ٹیرف عائد کیا تھا۔
ابتدائی طور پر یہ ٹیرف 29 فیصد تجویز کی گئی تھی۔