الیکٹرک بائیک مینوفیکچررز کا سیلز ٹیکس میں اضافے کے فیصلے پر نظرِثانی کا مطالبہ
مقامی الیکٹرک وہیکل اینڈ موٹر بائیک مینوفیکچررز نے منگل کے روز ای وی بائیکس پر سیلز ٹیکس ایک فیصد سے بڑھا کر اٹھارہ فیصد کرنے کے حالیہ فیصلے پر شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے حکومت سے اس فیصلے پر نظرثانی کی درخواست کی۔
وزیراعظم کے معاونِ خصوصی برائے صنعت و پیداوار ہارون اختر خان کے ساتھ ملاقات کے دوران مقامی صنعت کے نمائندوں نے کہا کہ سیلز ٹیکس میں اضافے سے الیکٹرک وہیکل(ای وی) بائیکس کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ہوگا، جس کے نتیجے میں فروخت کم ہونے کا خدشہ ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اس فیصلے سے حکومت اور صنعت دونوں اپنے اہداف حاصل نہیں کر سکیں گے، خصوصاً ماحولیاتی آلودگی میں کمی کا ہدف متاثر ہوگا۔
معاونِ خصوصی ہارون اختر خان نے صنعت کے نمائندوں کو یقین دلایا کہ حکومت مقامی صنعت کاروں اور مینوفیکچررز کے تمام مسائل حل کرنے کے لیے پرعزم ہے، اور اس شعبے کی ترقی کے لیے مراعات فراہم کی جائیں گی۔
ملاقات میں پاک اسٹار آٹوموبائلز اور دیگر الیکٹرک وہیکل بائیک مینوفیکچررز نے شرکت کی، جس میں مقامی پیداوار کے اہداف، پالیسی معاملات اور ای وی اسکیم کے دوسرے مرحلے پر تفصیلی گفتگو ہوئی۔
ہارون اختر خان نے کہا کہ ای وی بائیک کے مقامی پرزہ جات کی تیاری نہ صرف قومی معیشت کے لیے فائدہ مند ہوگی بلکہ صارفین کے لیے بھی بہتر نتائج فراہم کرے گی۔ انہوں نے بتایا کہ ای وی پالیسی کے پہلے سال کے دوسرے مرحلے کے تحت لازمی مقامی ساخت کا تناسب مقرر کیا گیا ہے تاکہ ملک میں خود انحصاری کو فروغ دیا جا سکے۔
انہوں نے کہا کہ حکومت کا وژن مقامی صنعت کاروں کو ہدفی مراعات دے کر پائیدار صنعتی ترقی کے راستے پر گامزن کرنا ہے۔
انجینئرنگ ڈیولپمنٹ بورڈ (ای ڈی بی) کے ایک اہلکار کے مطابق، ای وی بائیکس پر بلند سیلز ٹیکس حکومت کی برقی گاڑیوں کے فروغ سے متعلق کوششوں کو نقصان پہنچا سکتا ہے۔
ہارون اختر خان نے اس موقع پر کہا کہ ای وی پالیسی نہ صرف صنعتی ترقی کو فروغ دینے کے لیے ہے بلکہ اس کا مقصد ماحولیاتی پائیداری کو بھی یقینی بنانا ہے۔ انہوں نے انجینئرنگ ڈیولپمنٹ بورڈ کو ہدایت دی کہ وہ ای وی بائیک مینوفیکچررز اور سپلائرز کے ساتھ مشاورت کر کے مسائل کی نشاندہی اور ان کے حل کے لیے تجاویز پیش کرے۔
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025