خام تیل کی قیمتوں میں کمی ، تمام نگاہیں امریکا چین تجارتی مذاکرات کے نتائج پر مرکوز
ایشیائی مارکیٹ میں جمعرات کو خام تیل کی قیمتوں میں کمی ریکارڈ کی گئی کیونکہ سرمایہ کاروں نے امریکہ چین تجارتی مذاکرات کے نتائج کا انتظار کیا، اس امید میں کہ عالمی اقتصادی ترقی کے امکانات کو دھندلانے والے تناؤ میں کمی کے کوئی اشارے ملیں گے۔
برینٹ کروڈ فیوچرز جمعرات کو 4 سینٹ یا 0.06 فیصد کی کمی سے 64.88 ڈالر فی بیرل پر آ گئے۔ بدھ کوبرینٹ کروڈ میں 52 سینٹ اضافہ ہوا تھا۔
امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (ڈبلیو ٹی آئی) کروڈ فیوچرز 9 سینٹ یا 0.15 فیصد کی کمی سے 60.39 ڈالر فی بیرل پر آگئے، حالانکہ ایک دن قبل ان میں 33 سینٹ کا اضافہ ہوا تھا۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور چینی لیڈر شی جن پنگ کی ملاقات جنوبی کوریا کے شہر بوسان کے ایک ایئر پورٹ پر تقریباً 2 گھنٹے تک جاری رہی۔
ان مذاکرات کے نتائج فوری طور پر واضح نہیں ہوسکے۔
نئی دہلی کی ریسرچ فرم ایس ایس ویلتھ اسٹریٹ کی بانی سوگندھا سچدیوا نے کہا کہ تجارتی معاہدے کی سمت میں کسی بھی پیشرفت سے منڈی کے اعتماد کو تقویت مل سکتی ہے اور عالمی توانائی کی طلب میں اضافہ ہوسکتا ہے جس سے تیل کی قیمتوں میں بہتری کا امکان پیدا ہوگا۔
ٹرمپ نے بدھ کو کہا کہ وہ چین کی جانب سے منشیات فینٹائل کی تیاری میں استعمال ہونے والے کیمیکلز کی ترسیل کو محدود کرنے کے وعدے کے بدلے چینی مصنوعات پر عائد امریکی محصولات میں کمی کی توقع رکھتے ہیں۔
اقتصادی منظرنامے کو بہتر بنانے والے عوامل میں سے ایک یہ بھی ہے کہ امریکی فیڈرل ریزرو نے بدھ کو مارکیٹ کی توقعات کے مطابق شرحِ سود میں کمی کردی۔
تاہم انہوں نے اشارہ دیا کہ یہ ممکنہ طور پر رواں سال کی آخری شرحِ سود میں کمی ہو سکتی ہے کیونکہ جاری سرکاری شٹ ڈاؤن کے باعث معاشی اعداد و شمار کی دستیابی متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔
رائسٹیڈ انرجی کے چیف اکانومسٹ کلاڈیو گلیمبرتی نے ایک نوٹ میں کہا کہفیڈ کا فیصلہ اس کی پالیسی کے چکر میں ایک بڑے رخ کی نشاندہی کرتا ہے، ایسا رخ جو احتیاط کے بجائے بتدریج افراطِ زر اور سہارا دینے کی حکمتِ عملی کو ترجیح دیتا ہے جو اقتصادی سرگرمی سے جڑے اجناس کے لیے معاون ثابت ہو سکتا ہے۔ گزشتہ سیشن میں برینٹ اور ڈبلیو ٹی آئی کی قیمتوں میں ہونے والا اضافہ امریکی خام تیل اور ایندھن کے ذخائر میں توقع سے زیادہ کمی کی عکاسی بھی کرتا ہے۔
تاہم دونوں بینچ مارکس اکتوبر میں تقریباً 3 فیصد کمی کی راہ پر ہیں جو مسلسل تیسرے مہینے کی گراوٹ ہوگی۔
ای آئی اے کے مطابق 24 اکتوبر کو ختم ہونے والے ہفتے میں خام تیل کے ذخائر 68 لاکھ 60 ہزار بیرل کمی کے بعد 416 ملین بیرل تک پہنچ گئے جبکہ رائٹرز کے سروے میں ماہرین نے صرف 2 لاکھ 11 ہزار بیرل کی کمی کی پیش گوئی کی تھی۔
سرمایہ کاروں کیلئے ایک اور اہم نکتہ اوپیک پلس کا اجلاس ہے جو 2 نومبر کو منعقد ہوگا جہاں اتحاد دسمبر کے لیے یومیہ 1 لاکھ 37 ہزار بیرل اضافی سپلائی کا اعلان کرنے کا امکان ہے۔
یہ گروپ اپریل سے اب تک ماہانہ اضافوں کے سلسلے میں مجموعی طور پر یومیہ 27 لاکھ بیرل پیداوار کے اہداف بڑھا چکا ہے جو کہ عالمی سپلائی کا تقریباً 2.5 فیصد بنتا ہے۔
یہ حجم اُن 58.5 لاکھ بیرل یومیہ مجموعی کمی کے تقریباً نصف کے برابر ہے، جس پر گروپ نے پچھلے سالوں میں اتفاق کیا تھا۔