یوکرین کے صدر زیلنسکی نے کہا کہ وہ پیر کو واشنگٹن جائیں گے تاکہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ملاقات کریں۔ واضح رہے کہ یہ ملاقات اس وقت ہو رہی ہے جب ٹرمپ نے الاسکا میں روسی صدر ولادیمیر پیوٹن کے ساتھ ہونے والے حالیہ سربراہی اجلاس کے بعد یوکرینی صدر اور نیٹو و یورپی رہنماؤں کے ساتھ طویل گفتگو کی ۔

ٹرمپ-پیوٹن اجلاس کے باوجود روس کی یوکرین جنگ کے خاتمے یا عارضی روک تھام پر کوئی معاہدہ نہیں ہو سکا، حالانکہ دونوں رہنماؤں نے اسے نتیجہ خیز قرار دیا۔ واپسی کے دوران ٹرمپ نے زیلنسکی اور امریکی اتحادیوں کے ساتھ فون پر بات چیت کی، جس میں زیلنسکی نے ڈیڑھ گھنٹے کی گفتگو کو طویل اور جامع قرار دیا۔

زیلنسکی نے کہا کہ یوکرین ٹرمپ کی تجویز کردہ سہ فریقی ملاقات (یوکرین، امریکہ اور روس) کی مکمل حمایت کرتا ہے۔ انہوں نے امریکی طرف سے دیے گئے مثبت اشاروں پر بھی روشنی ڈالی جو یوکرین کی سلامتی کی ضمانت میں مددگار ثابت ہو سکتے ہیں۔

زیلنسکی نے ایکس پر کہا کہ یوکرین زور دیتا ہے کہ اہم مسائل رہنماؤں کی سطح پر زیر بحث لائے جائیں اور سہ فریقی فارمیٹ اس کے لیے موزوں ہے۔

انہوں نے بتایا کہ وہ پیر کو امریکا کا دورہ کریں گے جہاں وہ صدر ٹرمپ سے ملاقات کرینگے تاکہ جنگ بندی کے تمام پہلوؤں پر بات کی جا سکے۔

اخباری رپورٹس کے مطابق، فون کال میں ٹرمپ نے زیلنسکی اور یورپی رہنماؤں کو بتایا کہ پیوٹن جنگ بندی میں دلچسپی نہیں رکھتا بلکہ جنگ ختم کرنے کے لیے جامع معاہدہ چاہتا ہے۔ ٹرمپ نے کہا، ”میرے خیال میں فوری امن معاہدہ جنگ بندی سے بہتر ہے۔“

فون کال میں یورپی کمیشن کی صدر اورسولا وون ڈیر لائیئن، نیٹو کے سیکریٹری جنرل مارک رُٹے، فرانس کے صدر ایمانوئل میکرون اور جرمنی، فن لینڈ، پولینڈ، اٹلی اور برطانیہ کے رہنماؤں نے بھی شرکت کی، جنہیں ٹرمپ نے پیوٹن کے ساتھ اجلاس کی تفصیلات سے آگاہ کیا۔

یہ ملاقاتیں ایسے وقت میں ہو رہی ہیں جب عالمی برادری یوکرین جنگ کے خاتمے کے لیے فوری اقدامات پر زور دے رہی ہے، اور زیلنسکی نے امید ظاہر کی کہ واشنگٹن میں ہونے والی ملاقات امن کے راستے کو ہموار کرے گی۔