حکومت نے نجکاری ایجنڈے میں نمایاں پیشرفت کرتے ہوئے منگل کے روز نجکاری کمیشن بورڈ اور کابینہ کمیٹی برائے نجکاری (سی سی او پی) نے دو اہم فیصلے کیے، جو اہم اسٹریٹجک منصوبوں میں مسلسل پیش رفت کی نشاندہی کرتے ہیں۔

1- پی آئی اے کے لیے سرمایہ کاروں کی پری کوالیفکیشن:

نجکاری کمیشن کے بورڈ نے وزیراعظم کے مشیر برائے نجکاری اور چیئرمین نجکاری کمیشن محمد علی کی زیر صدارت منعقدہ اپنے 237ویں اجلاس میں پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز کارپوریشن لمیٹڈ (پی آئی اے سی ایل) کی نجکاری کے لیے چار دلچسپی رکھنے والے بولی دہندگان کی پری کوالیفکیشن کی منظوری دی۔

بورڈ نے پری کوالیفکیشن کمیٹی کی سفارشات کا جائزہ لیا، جنہوں نے پانچ ممکنہ سرمایہ کاروں کی جانب سے جمع کروائے گئے ”اسٹیٹمنٹس آف کوالیفکیشن“ (ایس او کیوز) کا تکنیکی، مالیاتی اور دستاویزی تقاضوں کے مطابق جائزہ لیا تھا، جو ”ریکوئسٹ فار اسٹیٹمنٹ آف کوالیفکیشن“ (آر ایس او کیو) میں بیان کیے گئے تھے۔ مکمل جانچ پڑتال کے بعد درج ذیل چار بولی دہندگان کو اہل قرار دیا گیا:

1- ایک کنسورشیم جس میں لکی سیمنٹ لمیٹڈ، حب پاور ہولڈنگز لمیٹڈ، کوہاٹ سیمنٹ کمپنی لمیٹڈ اور میٹرو وینچرز (پرائیویٹ) لمیٹڈ شامل ہیں۔

2- دوسرا کنسورشیم جس میں عارف حبیب کارپوریشن لمیٹڈ، فاطمہ فرٹیلائزر کمپنی لمیٹڈ، سٹی اسکولز (پرائیویٹ) لمیٹڈ، اور لیک سٹی ہولڈنگز (پرائیویٹ) لمیٹڈ شامل ہیں۔

3- فوجی فرٹیلائزر کمپنی لمیٹڈ

4- ایئر بلو (پرائیویٹ) لمیٹڈ

یہ پری کوالیفائیڈ کمپنیاں اب نجکاری کے شفاف اور مسابقتی عمل کے اگلے اہم مرحلے، یعنی بائی سائیڈ ڈیو ڈیلیجنس کے مرحلے میں داخل ہوں گی۔

2- روزویلٹ ہوٹل کے لین دین کے ڈھانچے کی منظوری:

ایک اور بڑی پیش رفت کے طور پر، کابینہ کمیٹی برائے نجکاری نے نیویارک میں واقع روزویلٹ ہوٹل سے متعلق نجکاری کمیشن بورڈ کی جانب سے تجویز کردہ لین دین کے ڈھانچے کی منظوری دے دی۔