فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے سولر انرجی سیکٹر پر نگرانی سخت کرتے ہوئے سیلز ٹیکس ایکٹ 1990 کی شق 40-بی کے تحت ملک کی سرکردہ سولر کمپنیوں کے دفاتر میں ٹیکس اہلکار تعینات کر دیے ہیں تاکہ فروخت کا ریکارڈ مانیٹر کیا جا سکے اور ٹیکس چوری کا سدباب ہو۔

ایف بی آر کی جانب سے جاری کردہ خط میں کہا گیا ہے کہ ملک میں تیزی سے فروغ پاتے قابلِ تجدید توانائی کے شعبے میں ٹیکس قوانین پر عملدرآمد یقینی بنانے کے لیے ایف بی آر نے ایک سخت قدم اٹھایا ہے جس کے تحت چیف کمشنر ان لینڈ ریونیو، کارپوریٹ ٹیکس آفس کراچی کو اجازت دی گئی ہے کہ وہ ملک کی نمایاں سولر انرجی کمپنیوں کے دفاتر میں 30 دن کے لیے اپنے افسران تعینات کریں ۔

سیلز ٹیکس ایکٹ 1990 کی شق 40-B کے تحت مانیٹرنگ کا یہ عمل ابتدائی طور پر کراچی میں کام کرنے والی چار نمایاں سولر کمپنیوں کے خلاف شروع کیا گیا ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ مذکورہ کمپنیاں مبینہ طور پر سیلز ٹیکس کی ادائیگی سے بچنے کے لیے فروخت کی اصل تفصیلات چھپانے میں ملوث رہی ہیں۔ اسی لیے یہ تعیناتی اس امر کی تصدیق اور درست ٹیکس ادائیگی کو یقینی بنانے کیلئے کی گئی ہے۔

ذرائع کے مطابق یہ افسران سیلز ٹیکس ایکٹ 1990 کی شق 40B کے تحت ان سولر کمپنیوں کی قابلِ ٹیکس اشیاء کی فروخت اور اسٹاک کی صورتحال کی نگرانی کریں گے۔ یہ شق ٹیکس حکام کو کاروباری اداروں میں افسران تعینات کرنے کا اختیار دیتی ہے تاکہ ٹیکس قوانین پر عملدرآمد اور محصولات کے ضیاع کی روک تھام یقینی بنائی جا سکے۔

ذرائع کے مطابق پاکستان میں حالیہ برسوں کے دوران سولر انرجی سیکٹر نے غیر معمولی ترقی کی ہے کیونکہ ملک مہنگی توانائی درآمدات میں کمی اور دیرینہ بجلی مسائل کے حل کے لیے توانائی کے متنوع ذرائع کی پالیسی پر عمل پیرا ہے۔

تاہم ذرائع کا کہنا ہے کہ اس تیزی سے بڑھتے سولر انرجی سیکٹر نے ٹیکس قوانین پر عملدرآمد نہ ہونے کے باعث ممکنہ محصولات کے نقصانات پر بھی خدشات پیدا کر دیے ہیں۔

ذرائع نے مزید بتایا کہ 30 روزہ مانیٹرنگ کا یہ مرحلہ ایف بی آر افسران کو کاروباری سرگرمیوں، فروخت کی لین دین اور اسٹاک مینجمنٹ کی براہِ راست نگرانی کا موقع فراہم کرے گا۔ انہوں نے کہا کہ ان کمپنیوں کے خلاف جاری مانیٹرنگ کا عمل 30 دن میں مکمل ہونے کی توقع ہے، تاہم محصولات کے اہداف کو پورا کرنے کے لیے اسے دیگر تیزی سے ترقی پذیر شعبوں تک بھی توسیع دی جا سکتی ہے۔

کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2025