ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمتوں کا غیر شفاف طریقۂ کار
- ناقص ڈیزل قیمتوں کے فارمولے سے عوام کو 140 ارب روپے کا نقصان، حکومتی پالیسی سازوں سے جواب دہی کا مطالبہ
ہائی اسپیڈ ڈیزل ، جو زراعت، مال برداری، پبلک ٹرانسپورٹ اور صنعتی سرگرمیوں کے لیے ایک اہم ایندھن ہے، محض پیٹرولیم کی ایک عام مصنوعات نہیں ہے۔
بنیادی سوال بالکل واضح ہے کہ اگر عالمی منڈی میں قیمتوں کے تعین کے لیے کسی زیادہ موزوں معیار کو اپنانے سے ملک میں ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت کم ہو سکتی تھی، تو اس تبدیلی کو پہلے کیوں متعارف نہیں کرایا گیا؟
پاکستان میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کا نظام مالی سال 2000-01 سے درآمدی قیمتوں کے مساواتی طریقۂ کار پر مبنی ہے، جس میں عالمی پیٹرولیم مارکیٹ کے معیارات، متعلقہ اخراجات اور منافع کے مارجن کو مدنظر رکھا جاتا ہے۔
وقت گزرنے کے ساتھ قیمتوں کے تعین کے اس فارمولے میں تبدیلیاں آتی رہی ہیں، جبکہ عالمی منڈی میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کے تعین کے لیے پلیٹس کی قیمتوں کے جائزے ایک اہم حوالہ بن گئے ہیں۔

موجودہ ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمتوں کے تعین کا طریقۂ کار کئی خدشات کو جنم دیتا ہے۔ ان خدشات میں یہ بات بھی شامل ہے کہ مقررہ کریک اسپریڈ ریفائنریوں کو غیر معمولی فائدہ پہنچا سکتا ہے، جس کے نتیجے میں وہ عالمی منڈی سے براہِ راست پیٹرولیم مصنوعات درآمد کرکے قیمتوں کے مقررہ فارمولے سے بھی فائدہ اٹھاتے ہوئے غیر معمولی منافع کما سکتی ہیں۔
فروری 2026 کے اواخر میں خلیجی بحران میں شدت آنے کے بعد عالمی تیل کی منڈیوں میں غیر یقینی صورتِ حال میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ سپلائی میں رکاوٹوں، جغرافیائی سیاسی خطرات اور خطے میں رسد کی بدلتی ہوئی صورتِ حال نے پاکستان کے لیے ہائی اسپیڈ ڈیزل کی درآمدات کے سلسلے میں ایک موزوں عالمی قیمت کے معیار کے انتخاب کی اہمیت مزید بڑھا دی ہے۔
زیرِ بحث حسابات میں بیان کردہ قیمتوں کے طریقۂ کار کے مطابق پاکستان 19 اگست 2026 کو دبئی خام تیل سے منسلک معیار کی جانب منتقلی سے پہلے تک عرب خلیج کے پلیٹس بینچ مارک پر انحصار کرتا رہا۔
اس تبدیلی کے وقت ہائی اسپیڈ ڈیزل کا کریک اسپریڈ 41.89 امریکی ڈالر فی بیرل بتایا گیا، جبکہ 19 اکتوبر 2026 کو اسے کم کرکے 38 امریکی ڈالر فی بیرل مقرر کیا گیا۔
تاہم سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ پالیسی سازوں نے اس سے پہلے دبئی خام تیل کے معیار کو کیوں نہیں اپنایا؟ یا پھر ہائی اسپیڈ ڈیزل کا کریک اسپریڈ پہلے ہی 38 امریکی ڈالر فی بیرل کیوں مقرر نہیں کیا گیا؟ مزید برآں ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ریفائنریوں کے دباؤ نے وزارتِ پیٹرولیم کی جانب سے زیادہ نمایاں کمی کرنے کی صلاحیت کو محدود رکھا۔
ہائی اسپیڈ ڈیزل کریک اسپریڈ سے مراد ریفائن شدہ ڈیزل کی قیمت اور متعلقہ خام تیل کے عالمی معیار کی قیمت کے درمیان فرق ہے۔
جدول نمبر 1: دبئی خام تیل کے معیار کو اپنانے سے قبل ہائی اسپیڈ ڈیزل کے کریک اسپریڈ کے ماہانہ اثرات۔

اس جدول سے ظاہر ہوتا ہے کہ دبئی خام تیل کے معیار کو اپنانے میں تاخیر کے باعث صارفین پر ہر ماہ اضافی مالی بوجھ پڑتا رہا۔ اس تاخیر کے نتیجے میں مارچ 2026 سے 19 اگست 2026 تک عام عوام کو اندازاً 131.33 ارب روپے کا معاشی نقصان برداشت کرنا پڑا۔
دبئی خام تیل کے معیار کو اپنانے کے بعد بھی ہائی اسپیڈ ڈیزل کا کریک اسپریڈ غیر معمولی طور پر بلند سطح پر برقرار رہا۔ بعد ازاں کریک اسپریڈ کو 41.89 امریکی ڈالر فی بیرل سے کم کرکے 38 امریکی ڈالر فی بیرل کرنے کے فیصلے میں تاخیر کے باعث صارفین کو مزید تقریباً 8.18 ارب روپے کے اضافی اخراجات برداشت کرنا پڑے۔
اس طرح مجموعی طور پر عوام پر عائد ہونے والا تخمینہ شدہ معاشی بوجھ تقریباً 140 ارب روپے بنتا ہے۔
میں پہلے دن سے مسلسل یہ مؤقف اختیار کرتا رہا ہوں کہ ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمتوں کا موجودہ فارمولا بنیادی طور پر ناقص ہے۔ تاہم متعلقہ سرکاری وزارتیں بار بار اس بات پر اصرار کرتی رہیں کہ پلیٹس پر مبنی قیمتوں کے طریقۂ کار کو اپنائے بغیر ریفائنریاں کام جاری نہیں رکھ سکتیں اور خبردار کرتی رہیں کہ بصورتِ دیگر انہیں اپنی پیداوار بند کرنا پڑے گی۔
لیکن اب اچانک ہمیں بتایا جا رہا ہے کہ ہائی اسپیڈ ڈیزل کا کریک اسپریڈ غلط بینچ مارک کی بنیاد پر مقرر کیا گیا تھا، جبکہ اس وقت تک غریب عوام پر اندازاً 140 ارب روپے کا اضافی مالی بوجھ ڈالا جا چکا ہے۔
یہ کوئی معمولی تکنیکی غلطی نہیں بلکہ طرزِ حکمرانی کی ایک سنگین ناکامی اور عوامی اعتماد کی صریح خلاف ورزی ہے۔
اتنے بڑے مالی نقصان کی ذمہ داری کون قبول کرے گا؟ اس معاملے میں جواب دہی ناگزیر ہے اور اس کے ذمہ دار افراد کو عوام کے سامنے جواب دہ ہونا چاہیے۔
جدول نمبر 2 : درج ذیل آئل ریفائنریوں کا ٹیکس سے قبل منافع ۔

چار بڑی اسٹاک ایکسچینج میں لسٹڈ آئل ریفائنریوں نے ہی تقریباً 100 ارب روپے منافع ظاہر کیا، جبکہ اس میں پاکستان عرب ریفائنری لمیٹڈ کا منافع شامل نہیں ہے۔ اگر پارکو کو بھی شامل کر لیا جائے تو اپریل سے ستمبر کے دوران مجموعی منافع تقریباً 140 ارب روپے تک پہنچ جاتا ہے، جس سے صارفین پر عائد مالی بوجھ کے حوالے سے سنگین خدشات پیدا ہوتے ہیں۔
یہ صورتِ حال ایک بنیادی سوال کو جنم دیتی ہے: کیا پیٹرولیم ڈویژن میں بیٹھے پالیسی ساز اپنی ہی پالیسیوں کے نتائج اور اثرات کا جائزہ لینے کی صلاحیت رکھتے ہیں؟ اگر وہ ایک درست پالیسی اور ناقص پالیسی کے درمیان فرق نہیں کر سکتے تو پھر ان عہدوں پر فائز رہنے کا کیا جواز ہے؟ عوامی پالیسی کا مطلب یہ نہیں کہ کسی فارمولے کا آنکھیں بند کرکے دفاع کیا جائے، جائز تحفظات کو مسترد کیا جائے اور نقصان ہو جانے کے بعد اپنی غلطیوں کا اعتراف کیا جائے۔
یہ محض حساب کتاب کی کوئی تکنیکی غلطی نہیں بلکہ پالیسی کی نگرانی میں ایک سنگین ناکامی اور عوامی اعتماد کی خلاف ورزی ہے۔ اس بڑے معاشی نقصان کا ذمہ دار کون ہوگا؟ پیٹرولیم ڈویژن کو واضح جوابات دینا ہوں گے اور اس کے ذمہ دار افراد کو جواب دہ ٹھہرانا ہوگا۔
اس کے علاوہ پالیسی کا یہ ناقص فیصلہ مہنگائی کے دباؤ میں مزید اضافے کا باعث بنا ہے۔ طویل مدتی لچک کی تخمینہ شدہ شرح 0.27 کو مدنظر رکھتے ہوئے، مارچ 2026 سے 19 اگست تک ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمتوں میں 40.89 فیصد اضافے کا مطلب ہے کہ توانائی کے علاوہ دیگر اشیا پر مشتمل صارف قیمت اشاریے میں تقریباً 11.04 فیصد اضافہ ہوا۔
مجموعی صارف قیمت اشاریے میں غیر توانائی اشیا کا وزن 76.4 فیصد ہے۔ اگر مہنگائی کے تخمینہ شدہ اثرات کا 50 فیصد یعنی چھ ماہ کے دوران سامنے آنے کو مدنظر رکھا جائے تو مجموعی مہنگائی پر اس کا وزنی اثر 4.22 فیصد پوائنٹس بنتا ہے۔
اگر پالیسی ساز مہنگائی کے ان اثرات کو بروقت سمجھ لیتے تو پاکستان شرحِ سود میں 4.2 فیصد پوائنٹس کی کمی کے ذریعے مقامی قرضوں کی ادائیگی کے اخراجات میں ممکنہ طور پر 2.5 ٹریلین روپے کی بچت کر سکتا تھا۔ اس سے حکومت کو ضروری مالی گنجائش حاصل ہوتی اور معیشت کو ریلیف مل سکتا تھا۔
اسی طرح اگر ابتدا ہی سے ہائی اسپیڈ ڈیزل کا کریک اسپریڈ 30 امریکی ڈالر فی بیرل مقرر کر دیا جاتا تو صارفین کو 200 ارب روپے تک کی بچت ہو سکتی تھی، خصوصاً اس وقت جب جمعہ 30 اکتوبر 2026 کو عالمی منڈی میں یہ پہلے ہی 32.12 امریکی ڈالر فی بیرل سے کم سطح پر ٹریڈ کر رہا تھا۔
پاکستان عالمی تیل کی منڈیوں کو کنٹرول نہیں کر سکتا، لیکن وہ مقامی سطح پر پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کے تعین میں شفافیت، بروقت تبدیلیوں اور مستقل مزاجی کو یقینی بنا سکتا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ قیمتوں کے تعین کے لیے ایسے عالمی معیار کا انتخاب ضروری ہے جو درآمدات کی حقیقی معاشی لاگت کی عکاسی کرے۔
عوام اس سوال کا واضح جواب چاہتے ہیں : کیا قیمتوں کے تعین کے طریقۂ کار میں تبدیلی اس وقت کی گئی جب معاشی طور پر اس کی ضرورت تھی یا پھر یہ فیصلہ اس وقت کیا گیا جب صارفین پہلے ہی اس کی بھاری قیمت ادا کر چکے تھے؟
کاپی رائٹ : بزنس ریکارڈر 2026























Comments