ایل پی جی بحران، معاملہ صرف قیمتوں کا نہیں
- پاکستان کی ایل پی جی کی ترسیل اور فراہمی کا سلسلہ بڑی حد تک درآمدات پر منحصر ہے، جن کا ایک نمایاں حصہ زمینی راستوں کے ذریعے ایران سے آتا ہے
پاکستان کی توانائی سے متعلق کمزوریوں پر عموماً تیل، ایل این جی اور بجلی کے تناظر میں بات کی جاتی ہے۔ ایل پی جی کو شاذ و نادر ہی اتنی توجہ ملتی ہے۔ تاہم اب اس صورت حال کو تبدیل کرنے کی ضرورت پیش آ سکتی ہے۔
11.6 کلوگرام کے ایک سلنڈر کی خوردہ قیمت تقریباً 7,000 روپے تک پہنچ گئی ہے، جبکہ رواں ہفتے اس سے بھی زیادہ قیمتیں وصول کیے جانے کی اطلاعات ہیں۔ یہ ایک سال پہلے کی قیمت کے مقابلے میں دو گنا سے بھی زیادہ ہے۔ اس طرح پائپ لائن کے ذریعے فراہم کی جانے والی گیس کے نسبتاً سستے متبادل کے طور پر استعمال ہونے والی ایل پی جی اب ایک ایسی ضرورت بنتی جا رہی ہے جسے پورا کرنا مسلسل مہنگا ہوتا جا رہا ہے۔
اس صورت حال کی فوری وجہ کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں۔ پاکستان کی ایل پی جی کی ترسیل اور فراہمی کا سلسلہ بڑی حد تک درآمدات پر منحصر ہے، جن کا ایک نمایاں حصہ زمینی راستوں کے ذریعے ایران سے آتا ہے۔ پاکستان اور ایران کے درمیان سرحدی تجارت متاثر ہونے اور امریکا ایران تنازع کے باعث قطر سے سپلائی معطل ہونے کے بعد مارکیٹ رسد کے دو اہم ذرائع سے محروم ہو گئی ہے۔
مسئلہ یہ ہے کہ ایل پی جی ان گھرانوں کے لیے کوئی معمولی ایندھن نہیں ہے جو اس پر انحصار کرتے ہیں۔ لاکھوں خاندان، خصوصاً دیہی، دور دراز اور شمالی علاقوں میں رہنے والے ایسے گھرانے جہاں پائپ لائن کے ذریعے قدرتی گیس دستیاب نہیں، کھانا پکانے اور گرمائش کے لیے ایل پی جی سلنڈروں پر انحصار کرتے ہیں۔
تین پہیوں والی گاڑیوں میں بھی ایل پی جی کا استعمال بڑھ رہا ہے، جہاں یہ روایتی مہنگے ایندھن کے متبادل کے طور پر کام کرتی ہے۔ ان صارفین کے لیے قیمتوں میں یہ اضافہ کوئی ایسا اختیاری خرچ نہیں جسے محض مؤخر کیا جا سکے۔ بلکہ یہ توانائی کی بنیادی ضروریات پوری کرنے کی لاگت میں اضافہ ہے۔
اس کے لیے وقت بھی اس سے زیادہ نامناسب نہیں ہو سکتا تھا۔ سردیوں میں ایل پی جی کی کھپت میں موسمی اضافہ ہوتا ہے اور یومیہ طلب تقریباً 4,000 سے 4,500 ٹن سے بڑھ کر 6,000 سے 7,000 ٹن تک پہنچنے کا تخمینہ ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ طلب میں تقریباً 50 فیصد یا اس سے بھی زیادہ اضافہ ہو سکتا ہے، عین اس وقت جب رسد کا روایتی زمینی راستہ دباؤ کا شکار ہے۔
اگر حکومت متبادل ایل پی جی کارگو حاصل کرنے میں کامیاب بھی ہو جاتی ہے تو اضافی مال برداری کے اخراجات، خریداری پر اضافی قیمت اور رسد و ترسیل سے متعلق لاگت کے باعث قیمتیں بلند رہ سکتی ہیں۔ اگر رسد موسمی طلب کے مطابق نہ ہو سکی تو صارفین کو بیک وقت دو مسائل کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے: زیادہ قیمتیں اور ایندھن کی مکمل عدم دستیابی۔
یہ فرق اہمیت رکھتا ہے۔ مہنگا سلنڈر قوتِ خرید کا مسئلہ ہے، جبکہ سلنڈر کا دستیاب نہ ہونا رسائی کا مسئلہ ہے۔ ایسے علاقوں میں جہاں توانائی کے قابلِ اعتماد متبادل ذرائع موجود نہیں، وہاں دوسرا مسئلہ کہیں زیادہ نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے۔
اس بحران نے ایک اور مسئلے کو بھی نمایاں کر دیا ہے، اور وہ ضابطہ جاتی نگرانی کا فقدان ہے۔
آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا) کی جانب سے اکتوبر کے لیے مقرر کردہ قیمت تقریباً 280 روپے فی کلوگرام ہے، جو گھریلو استعمال کے ایک معیاری سلنڈر کے لیے تقریباً 3,300 روپے بنتی ہے۔ تاہم، بعض مارکیٹوں میں خوردہ قیمتیں 600 روپے فی کلوگرام یا اس سے بھی زیادہ ہو چکی ہیں، جبکہ دور دراز اور شمالی علاقوں سے موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق یہ قیمت 700 سے 800 روپے فی کلوگرام تک پہنچ گئی ہے۔ دوسرے لفظوں میں، سرکاری قیمت اب اس بات کا قابلِ اعتماد اندازہ فراہم نہیں کرتی کہ صارفین حقیقت میں کتنی رقم ادا کر رہے ہیں۔
مہنگائی پر اس کے اثرات صرف ایل پی جی کی مارکیٹ تک محدود نہیں رہیں گے۔ دیہی صارفین کے قیمتوں کے اشاریے میں ایل پی جی کا وزن تقریباً ایک فیصد ہے۔ اس لیے خوردہ قیمتوں میں مسلسل اضافہ براہِ راست دیہی مہنگائی کے اعداد و شمار میں شامل ہو گا۔ اس کے علاوہ، ایندھن پر انحصار کرنے والی نقل و حمل اور دیگر سرگرمیوں کے ذریعے بھی مہنگائی پر مزید دباؤ پڑ سکتا ہے۔
اس کے درست اثرات کا انحصار اس بات پر ہو گا کہ قیمتوں میں یہ اضافہ کتنی مدت تک برقرار رہتا ہے، بلند قیمتیں کس حد تک مستقل رہتی ہیں اور سرکاری قیمتوں کے اعداد و شمار میں اس اضافے کا کتنا حصہ شامل کیا جاتا ہے۔ تاہم ایسے وقت میں جب مہنگائی پہلے ہی تشویش کا باعث ہے، توانائی کی قیمتوں میں اضافے سے پیدا ہونے والا ایک اور دھچکا گھرانوں کیلئے آخری دھچکا ہوگا۔
اس معاملے کا ایک پہلو مختلف طبقات پر پڑنے والے اثرات سے بھی متعلق ہے۔ پائپ لائن کے ذریعے گیس حاصل کرنے والے گھرانے اپنی کھپت کو مختلف ایندھنوں کے درمیان منتقل کرنے کی کسی حد تک صلاحیت رکھتے ہیں، اگرچہ انہیں بھی گیس کی فراہمی میں اپنی نوعیت کی پابندیوں کا سامنا ہو سکتا ہے۔ اس کے برعکس، ایسے علاقوں میں رہنے والے خاندانوں کے پاس جہاں گیس کا نیٹ ورک موجود نہیں، متبادل ذرائع نہ ہونے کے برابر ہیں۔
ایل پی جی استعمال کرنے والے چھوٹے ٹرانسپورٹ آپریٹرز کے ساتھ بھی یہی صورت حال ہے، جو ایندھن کے اخراجات کو قابو میں رکھنے کے لیے اس پر انحصار کرتے ہیں۔ قیمتوں میں اضافہ یا تو پہلے ہی محدود گھریلو بجٹ پر مزید دباؤ ڈالے گا یا صارفین کو کھپت کم کرنے، کم معیار کے متبادل ذرائع اختیار کرنے یا اپنی آمدنی میں کمی برداشت کرنے پر مجبور کرے گا۔ اس بوجھ کے اثرات تمام طبقات پر یکساں نہیں ہوں گے۔
یہ وہ مقام ہے جہاں حکومت کو مارکیٹ کی اصلاح اور صارفین کے تحفظ کے درمیان فرق واضح کرنا ہوگا۔ مارکیٹ میں قیمتیں مقررہ سرکاری نرخ سے کئی گنا زیادہ ہونے کے باوجود نوٹیفائیڈ قیمت کو مصنوعی طور پر کم رکھنا واضح طور پر صارفین کے لیے ایل پی جی کو سستا اور قابلِ استطاعت بنانے میں ناکام رہا ہے۔ تاہم قیمتوں کی زیادہ سے زیادہ حد کو محض درآمدی لاگت کے برابر کر دینا قیمتوں میں اچانک اضافے کو جائز قرار دینے کے مترادف ہو سکتا ہے، جبکہ اس سے اس اضافے کی بنیادی وجہ بھی حل نہیں ہو گی۔
لہٰذا، قیمتوں کے تعین کے کسی بھی نئے فارمولے کی طرف منتقلی کے ساتھ درآمد شدہ ایل پی جی کی ملک میں پہنچنے تک کی لاگت کی شفاف اشاعت، درآمد کنندگان کے درمیان مؤثر مسابقت، ذخیرہ اندوزی اور ناجائز منافع خوری کے خلاف قابلِ اعتماد کارروائی اور کمزور معاشی حالات سے دوچار گھرانوں کے لیے ہدف پر مبنی معاونت بھی ضروری ہے۔
فوری طور پر حکومت کے لیے اصل امتحان یہ ہے کہ آیا وہ سردیوں میں طلب عروج پر پہنچنے سے پہلے ایل پی جی کی مناسب مقدار کا انتظام کر سکتی ہے یا نہیں۔ طویل مدتی امتحان یہ ہے کہ آیا پاکستان محدود تعداد میں سپلائرز اور ترسیلی راستوں پر اپنا انحصار کم کر سکتا ہے اور اس کے ساتھ قیمتوں کے تعین کا ایسا نظام تشکیل دے سکتا ہے جو مقامی پیداوار کی حوصلہ افزائی کرے، لیکن خریداری کے عمل میں موجود خامیوں اور غیر مؤثر انتظامات کے اخراجات بلا روک ٹوک صارفین پر منتقل کرنے کی اجازت نہ دے۔
ایل پی جی شاید قومی توانائی کے مباحثے میں مرکزی حیثیت نہ رکھتی ہو، لیکن لاکھوں گھرانوں کے لیے یہ گرمائش اور کھانا پکانے کے قابلِ عمل ایندھن کی دستیابی اور اس سے مکمل محرومی کے درمیان فرق ہے۔ اگر موجودہ تعطل عارضی ثابت ہوتا ہے تو قیمتوں میں یہ اضافہ بالآخر کم ہو سکتا ہے۔ لیکن اگر یہ صورت حال سردیوں تک برقرار رہتی ہے تو پاکستان کو صرف مہنگے سلنڈر سے کہیں بڑے بحران کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
اب سوال محض یہ نہیں رہا کہ ایل پی جی کی قیمت کتنی ہونی چاہیے۔ اصل سوال یہ ہے کہ کیا ملک اس بات کو یقینی بنا سکتا ہے کہ جب لوگوں کو اس کی سب سے زیادہ ضرورت ہو تو یہ ایندھن مناسب مقدار میں دستیاب بھی ہو؟























Comments