BR100 Increased By (0.82%)
BR30 Increased By (1.08%)
KSE100 Increased By (0.77%)
KSE30 Increased By (0.82%)
BAFL 57.88 Increased By ▲ 1.45 (2.57%)
BIPL 23.44 Increased By ▲ 0.13 (0.56%)
BOP 28.65 Increased By ▲ 1.14 (4.14%)
CNERGY 12.80 Increased By ▲ 0.08 (0.63%)
DFML 15.95 Increased By ▲ 0.07 (0.44%)
DGKC 184.63 Increased By ▲ 1.33 (0.73%)
FABL 91.19 Increased By ▲ 0.49 (0.54%)
FCCL 52.83 Increased By ▲ 0.21 (0.4%)
FFL 12.94 Decreased By ▼ -0.03 (-0.23%)
GGL 20.08 Increased By ▲ 0.42 (2.14%)
HBL 287.66 Increased By ▲ 3.04 (1.07%)
HUBC 193.18 Increased By ▲ 4.56 (2.42%)
HUMNL 8.08 Decreased By ▼ -0.03 (-0.37%)
KEL 5.83 Increased By ▲ 0.03 (0.52%)
LOTCHEM 24.13 Increased By ▲ 1.20 (5.23%)
MLCF 91.38 Increased By ▲ 0.97 (1.07%)
OGDC 303.68 Increased By ▲ 1.22 (0.4%)
PAEL 32.82 Increased By ▲ 0.07 (0.21%)
PIBTL 13.03 Decreased By ▼ -0.18 (-1.36%)
PIOC 235.49 Increased By ▲ 1.99 (0.85%)
PPL 215.08 Decreased By ▼ -0.19 (-0.09%)
PRL 94.16 Decreased By ▼ -1.93 (-2.01%)
SNGP 89.66 Decreased By ▼ -0.54 (-0.6%)
SSGC 22.94 Increased By ▲ 0.22 (0.97%)
TELE 6.81 Increased By ▲ 0.10 (1.49%)
TPLP 12.44 Increased By ▲ 0.92 (7.99%)
TRG 53.62 Decreased By ▼ -1.09 (-1.99%)
UNITY 7.72 No Change ▼ 0.00 (0%)
WTL 0.94 Decreased By ▼ -0.02 (-2.08%)

عالمی بینک کی مشرقِ وسطیٰ جنگ اور دیگر بحرانوں کے باعث 2026 میں اجناس کی قیمتوں میں 23 فیصد اضافے کی پیش گوئی

  • جغرافیائی سیاسی تنازعات سے لے کر شدید موسمی حالات تک، عالمی سطح پر متعدد بحران اجناس کی قیمتوں میں اضافے کا سبب بن سکتے ہیں، جس سے دنیا بھر میں مہنگائی بڑھنے اور غذائی عدم تحفظ میں اضافے کا خدشہ ہے
شائع اپ ڈیٹ

عالمی بینک نے بدھ کے روز کہا ہے کہ 2026 میں عالمی سطح پر اجناس کی قیمتوں میں 23 فیصد اضافے کا امکان ہے۔ اس کی وجوہات میں مشرقِ وسطیٰ کی جنگ کے دوران توانائی کی قیمتوں میں اضافہ اور بحری مال برداری میں رکاوٹیں، بحیرۂ اسود میں اناج کی ترسیل کے مسائل اور سونے جیسی محفوظ سرمایہ کاری سمجھی جانے والی اثاثہ جاتی اقسام کی بلند طلب شامل ہیں۔

عالمی بینک کی تازہ ترین رپورٹ ’کموڈیٹی مارکیٹس آؤٹ لک‘ کے مطابق، عالمی سطح پر بحرانوں میں اضافے کے باعث رواں سال تیل، قدرتی گیس، خوراک اور دھاتوں کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ بینک نے خبردار کیا ہے کہ اگر مشرقِ وسطیٰ میں تنازع مزید شدت اختیار کرتا ہے اور روس کے تیل کے بنیادی ڈھانچے کو نقصان پہنچنے کا سلسلہ جاری رہتا ہے تو صورت حال مزید بگڑ سکتی ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ آئندہ سال اجناس کی قیمتوں میں 7 فیصد کمی متوقع ہے، تاہم مسلسل عالمی بحران، بالخصوص 1950 کے بعد ایل نینو کے شدید ترین موسمی اثرات کی پیش گوئی، غذائی اجناس کی قیمتوں کو بلند سطح پر برقرار رکھ سکتی ہے۔ اس سے مہنگائی میں مزید اضافے اور مرکزی بینکوں کی جانب سے سخت مالیاتی پالیسی اختیار کیے جانے کا خدشہ ہے۔

عالمی بینک کے مطابق، اس وقت عالمی معیشت مستقبل میں رسد کو درپیش ممکنہ دھچکوں کے مقابلے میں زیادہ کمزور ہو چکی ہے۔ مشرقِ وسطیٰ میں جنگ کے دوران عالمی سطح پر تیل کے ذخائر میں کمی آئی ہے، جبکہ 2026 میں عالمی تیل کی رسد 5.2 فیصد گھٹنے کا امکان ہے۔ بینک کے مطابق، 2020 کی عالمی کساد بازاری کے علاوہ یہ گزشتہ چار دہائیوں میں تیل کی رسد میں سب سے بڑی کمی ہوگی۔

عالمی بینک کے نائب چیف ماہرِ اقتصادیات ایحان کوسے نے کہا ہے کہ اجناس کی منڈیوں کو بیک وقت کئی بڑے بحرانوں کا سامنا ہے۔

انہوں نے کہا، ’’توانائی کی بڑھتی ہوئی لاگت اور تجارت میں رکاوٹیں مختلف اقسام کی اجناس کی قیمتوں میں اضافے کا سبب بن رہی ہیں، جس سے مہنگائی میں شدت، غذائی عدم تحفظ میں اضافے اور معاشی نمو متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔‘‘

عالمی بینک نے یہ ششماہی رپورٹ بدھ کے روز جاری کی ہے، جس کے دو روز بعد دنیا کی 20 بڑی معیشتوں کے وزرائے خارجہ امریکی ریاست جارجیا کے شہر اٹلانٹا میں اجلاس کے لیے جمع ہوں گے۔ اجلاس میں مشرقِ وسطیٰ اور یوکرین کی جنگوں پر توجہ مرکوز کی جائے گی۔

ایحان کوسے نے کہا ہے کہ عالمی بینک کی توجہ دنیا کے غریب ترین افراد کے تحفظ اور ان کم آمدنی والے ممالک کی مدد پر مرکوز ہے جو پہلے ہی قرضوں کے بھاری بوجھ سے نبرد آزما ہیں۔

رپورٹ کے مطابق، عالمی بینک مشرقِ وسطیٰ کی جنگ سے منفی طور پر متاثر ہونے والے 25 ممالک کو کم شرحِ سود پر قرضوں اور دیگر امداد کی مد میں اب تک 8.7 ارب ڈالر فراہم کر چکا ہے۔ ان میں 10 ممالک نے بحران سے متعلق اخراجات پورے کرنے کے لیے اپنے موجودہ پروگراموں میں ردوبدل کیا، جبکہ 19 ممالک نے نئے وسائل سے استفادہ کیا۔ بعض ممالک نے دونوں طریقے اختیار کیے۔

سال میں دو مرتبہ جاری ہونے والی اس رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ 2026 میں عالمی سطح پر توانائی کی قیمتوں میں 32 فیصد اضافہ ہوا، جو 2022 میں روس کے یوکرین پر حملے کے بعد بلند ترین سطح ہے۔

تیل کی پیداوار میں کمی کے باعث برینٹ خام تیل کی قیمتیں قریبی مدت میں بلند رہنے کا امکان ہے اور رواں سال ان کی اوسط قیمت 92 ڈالر فی بیرل رہنے کی توقع ہے۔ اگر رواں سال تیل کی طلب میں 2.5 فیصد کمی کی پیش گوئی نہ کی گئی ہوتی تو قیمتیں اس سے بھی زیادہ ہوتیں۔ طلب میں یہ کمی 2020 کے کووڈ بحران اور 1980 کے تیل کے بحران کے بعد تاریخ کی تیسری بڑی کمی ہوگی۔

رپورٹ کے مطابق، بحیرۂ اسود میں روس اور یوکرین کے درمیان جنگ کے باعث اناج کی ترسیل میں رکاوٹوں کے نتیجے میں 2026 میں غذائی اجناس کی قیمتیں 10 فیصد سے کچھ زیادہ بڑھنے کا امکان ہے، جبکہ 2027 میں ان میں مزید 7 فیصد سے زیادہ اضافہ متوقع ہے۔ اس طرح دونوں برسوں میں مجموعی اضافہ تقریباً 18 فیصد تک پہنچ سکتا ہے۔

رپورٹ کے مطابق، اگر ایل نینو کے ریکارڈ شدت اختیار کرنے، بحیرۂ اسود میں اناج کی ترسیل میں مزید رکاوٹوں، مشرقِ وسطیٰ کے تنازع میں شدت اور روس کے تیل کے بنیادی ڈھانچے کو مسلسل نقصان پہنچنے کے عوامل بیک وقت سامنے آئے تو غذائی اجناس کی قیمتیں متوقع سطح سے 12 فیصد تک زیادہ بڑھ سکتی ہیں۔ عالمی بینک نے خبردار کیا ہے کہ اس صورتِ حال سے 2010 کی دہائی کے اوائل جیسا غذائی بحران جنم لے سکتا ہے، جب 4 کروڑ سے زائد اضافی افراد انتہائی غربت کی لپیٹ میں آ گئے تھے۔

یوریا کی قیمتوں میں تیزی کے باعث 2026 میں کھادوں کی قیمتوں میں 14 فیصد اضافے کا امکان ہے، تاہم 2027 میں ان کے دوبارہ 2025 کی سطح پر آنے کی توقع ہے۔

عالمی بینک کے مطابق، 2026 میں دھاتوں کی قیمتیں 25 فیصد بڑھنے اور نئی بلند ترین سطح پر پہنچنے کا امکان ہے۔ رسد میں رکاوٹوں اور قابلِ تجدید توانائی، برقی گاڑیوں اور ڈیٹا سینٹرز میں سرمایہ کاری کے باعث مضبوط طلب کے نتیجے میں ایلومینیم، تانبے اور ٹِن کی قیمتیں بھی نئی بلند ترین سطح پر پہنچ سکتی ہیں۔

جغرافیائی سیاسی صورتِ حال اور پالیسیوں سے متعلق غیر یقینی کے باعث محفوظ سرمایہ کاری سمجھی جانے والی قیمتی دھاتوں کی طلب بلند رہنے کا امکان ہے، جس کے نتیجے میں 2026 میں ان کی قیمتوں میں 40 فیصد اضافے کی پیش گوئی کی گئی ہے۔ تاہم، 2027 میں قیمتوں میں اضافے کی رفتار کچھ سست پڑنے کی توقع ہے۔

Comments

200 حروف