غربت کی بلند شرح — دوم
- پاکستان میں غربت کی بلند شرح کی دو بنیادی وجوہات ہیں، پہلی ملک کی فی کس آمدنی میناپ خطے کے 23 ممالک کی اوسط کا صرف ایک چوتھائی ہے، جس کی بڑی وجہ مشرقِ وسطیٰ کے تیل سے مالا مال ممالک کی بلند آمدنی ہے، دوسری وجہ کووڈ 19 کے بعد کم معاشی نمو اور مہنگائی ہے، جبکہ 2022-23 کے تباہ کن سیلابوں نے بھی صورت حال مزید مشکل بنا دی
گزشتہ مضمون میں عالمی بینک کی اس رپورٹ پر توجہ مرکوز کی گئی تھی کہ میناپ خطے میں غربت کا نصف حصہ پاکستان میں پایا جاتا ہے۔ اس خطے میں مشرقِ وسطیٰ، شمالی افریقا، افغانستان اور پاکستان سمیت 23 ممالک شامل ہیں۔
پاکستان میں غربت کی شرح زیادہ ہونے کی دو بنیادی وجوہات ہیں۔ پہلی وجہ ملک کی فی کس آمدنی کی کم سطح ہے، جو میناپ خطے کے 23 ممالک کی اوسط فی کس آمدنی کا صرف ایک چوتھائی ہے۔ اس کی بڑی وجہ مشرق وسطیٰ کے تیل سے مالا مال ممالک میں فی کس آمدنی کی انتہائی بلند سطح ہے۔
دوسری وجہ یہ ہے کہ پاکستان کو مالی سال 2019-20 میں کووڈ 19 کی وبا کے آغاز کے بعد سے کم معاشی ترقی اور بلند مہنگائی کا سامنا رہا ہے۔ اس کے بعد 2022-23 میں ملک کو تاریخ کے بدترین سیلابوں میں سے ایک کا سامنا کرنا پڑا۔
ادائیگیوں کے توازن کو برقرار رکھنے کے لیے معیشت کو کسی حد تک مستحکم کرنے کی خاطر معاشی ترقی کے عمل پر سمجھوتا کرنا پڑا۔ اس مقصد کے لیے پاکستان کو آئی ایم ایف کے پروگراموں سے بھی رجوع کرنا پڑا، جن میں معاشی استحکام کے حصول پر خاص توجہ دی گئی۔
گزشتہ تقریباً 15 برس کے دوران غربت کی شرح کے رجحان کا جائزہ کئی اہم حقائق سامنے لاتا ہے۔ یہ تجزیہ عالمی بینک کے ڈیٹا بیس ورلڈ ڈیولپمنٹ انڈیکیٹرز پر مبنی ہے۔ پورے عرصے کے لیے غربت کی یومیہ حد 4.20 ڈالر (2021 کی قوتِ خرید کے مساوی) مقرر کی گئی ہے۔
عالمی بینک کے تخمینوں کے مطابق 2011 میں پاکستان میں غربت کی شرح 55.9 فیصد تک بلند تھی، جو 2018 تک نمایاں کمی کے بعد 44.7 فیصد رہ گئی۔ اس کا مطلب ہے کہ ان سات برسوں کے دوران تقریباً 2 کروڑ 80 لاکھ افراد غربت سے باہر نکلے۔
2011 سے 2018 کے دوران مجموعی قومی پیداوار (جی ڈی پی) کی شرح نمو تقریباً 4 فیصد رہی، جبکہ مجموعی مہنگائی کی شرح 5 فیصد سے کچھ زیادہ تھی۔ اس عرصے میں اشیائے خورونوش کی قیمتوں میں سالانہ اوسط اضافہ صرف 4 فیصد رہا۔ نسبتاً سازگار معاشی حالات کے باعث غربت کی شرح میں 11.2 فیصد پوائنٹس کی نمایاں کمی ہوئی۔
اس کے برعکس 2018-19 سے 2024-25 کے عرصے میں جی ڈی پی کی شرح نمو گر کر صرف 2.7 فیصد رہ گئی، جو 2.5 فیصد کی آبادی میں اضافے کی شرح سے معمولی ہی زیادہ تھی۔ مہنگائی بڑھ کر دوہرے ہندسے میں یعنی 13.5 فیصد تک پہنچ گئی، جبکہ اشیائے خورونوش کی قیمتوں میں سالانہ اضافہ 15 فیصد سے بھی تجاوز کرگیا۔
چنانچہ گزشتہ 13 برس کے دوران غربت میں پہلے کمی اور پھر اضافے پر مبنی عالمی بینک کا تخمینہ، یعنی (یو) کی شکل کا رجحان، ملک کے معاشی حالات سے مطابقت رکھتا ہے۔
اب جنوبی ایشیا میں غربت کی شرح کے حوالے سے پاکستان کی صورت حال کا جائزہ لیتے ہیں۔ پاکستان روایتی طور پر اسی خطے کا حصہ رہا ہے۔
ورلڈ ڈیولپمنٹ انڈیکیٹرز کے اعدادوشمار کی بنیاد پر 2024-25 میں جنوبی ایشیا کے ہر ملک میں غربت کی شرح جانچنے کے لیے بھی یومیہ 4.20 ڈالر (2021 کی قوتِ خرید کے مساوی) کی وہی حد استعمال کی گئی ہے۔
جنوبی ایشیا میں بھارت، بنگلہ دیش، بھوٹان، مالدیپ، نیپال، پاکستان اور سری لنکا شامل ہیں۔ ان ممالک کی آبادی میں نمایاں فرق پایا جاتا ہے۔ بھارت کی آبادی تقریباً 148 کروڑ 30 لاکھ ہے، جبکہ مالدیپ اور بھوٹان دونوں کی آبادی 10 لاکھ سے بھی کم ہے۔
ان ممالک کی فی کس آمدنی میں بھی نمایاں فرق ہے، تاہم یہ فرق میناپ خطے کے مقابلے میں کم ہے۔ پاکستان کی فی کس آمدنی جنوبی ایشیا کی اوسط سے 32 فیصد کم ہے۔
جنوبی ایشیا میں غربت کی شرح بھی مختلف ممالک میں نمایاں طور پر مختلف ہے۔ افسوس ناک امر یہ ہے کہ 2024-25 میں پاکستان میں غربت کی شرح تقریباً 48 فیصد کے ساتھ خطے کے دیگر ممالک کے مقابلے میں سب سے زیادہ رہی۔ بھوٹان اور مالدیپ میں غربت کی شرح انتہائی کم ہے، جبکہ بھارت میں 16.1 فیصد، بنگلہ دیش میں 20.5 فیصد اور سری لنکا میں 11.9 فیصد ریکارڈ کی گئی۔
مجموعی طور پر دیکھا جائے تو جنوبی ایشیا میں بھی پاکستان کی کارکردگی میناپ خطے کی طرح کمزور ہے۔ جنوبی ایشیا کی مجموعی آبادی میں پاکستان کا حصہ 13 فیصد ہے، لیکن خطے کے غریب افراد میں پاکستانیوں کا حصہ 30 فیصد تک پہنچ جاتا ہے۔
حال ہی میں ایک اور اہم اشاریے عالمی بھوک انڈیکس (گلوبل ہنگر انڈیکس) میں مختلف ممالک کی درجہ بندی بھی جاری کی گئی ہے۔ یہ انڈیکس ادارے ویلٹ ہنگر ہلفے (ڈبلیو ایچ ایچ ) اور انسٹی ٹیوٹ فار انٹرنیشنل لا آف پیس اینڈ آرمڈ کانفلکٹ (آئی ایف ایچ وی) تیار کرتے ہیں۔

عالمی بھوک انڈیکس آبادی میں غذائی قلت کی شدت اور اس کے اثرات خصوصاً بچوں پر مرتب ہونے والے اثرات کی عکاسی کرتا ہے۔ اس لحاظ سے یہ غربت کی پیمائش سے مشابہت رکھتا ہے، جس میں آمدنی کی بنیاد پر غربت کی لکیر سے نیچے زندگی گزارنے والی آبادی کا تناسب ظاہر کیا جاتا ہے۔ غربت کی لکیر سے مراد بالغ فرد کی غذائی ضروریات کی کم از کم سطح پوری کرنے کے لیے درکار مجموعی اخراجات ہیں۔
انڈیکس میں چار ذیلی اشاریے شامل ہیں، جن کا تعلق درج ذیل عوامل سے ہے:
-
غذائی قلت
-
بچوں کی نشوونما میں رکاوٹ
-
بچوں کا شدید کم وزن ہونا
-
بچوں کی شرحِ اموات
اس انڈیکس میں شدت کی درجہ بندی کے لیے درج ذیل پیمانہ استعمال کیا جاتا ہے:

عالمی بھوک انڈیکس میں پاکستان کی صورت حال کیا ہے؟ پاکستان کا انڈیکس اسکور 25.5 ہے، جو ظاہر کرتا ہے کہ ملک کو بھوک اور غذائی قلت کے سنگین مسئلے کا سامنا ہے۔
جنوبی ایشیا کے نسبتاً بڑے ممالک میں 2026 کے دوران انڈیکس اسکور میں فرق درج ذیل ہے:
تاہم یہ بات قابلِ ذکر ہے کہ 2018 میں عالمی بھوک انڈیکس پر پاکستان کی درجہ بندی بھارت سے بہتر تھی۔
پاکستان میں اس انڈیکس کا رجحان بھی گزشتہ برسوں کے دوران (یو) کی شکل میں رہا ہے۔ 2012 میں اسکور 34.6 تھا، جو کم ہوکر 2018 میں 24.0 رہ گیا۔ اس کے بعد صورت حال دوبارہ خراب ہوئی اور اسکور بڑھ کر 25.5 ہوگیا۔
پاکستان میں غربت اور بھوک کی سطح واضح طور پر بحرانی صورت حال اختیار کرچکی ہے۔ یہ حقیقت انتہائی افسوس ناک ہے کہ آزادی کے تقریباً آٹھ دہائیاں گزرنے کے باوجود ملک کی نصف آبادی غربت اور غذائی قلت کا شکار ہے۔
غربت سے نمٹنے کے لیے قومی ایمرجنسی نافذ کرنے کی ضرورت ہے۔ اس سلسلے میں بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کے دائرہ کار کو وسعت دینے اور فی خاندان مالی امداد بڑھانے، صوبائی حکومتوں کی جانب سے کم از کم اجرت کی پالیسی کو مؤثر بنانے اور اس پر سختی سے عمل درآمد یقینی بنانے جیسے اقدامات شامل ہونے چاہییں۔ اس کے علاوہ غربت سے زیادہ متاثرہ اضلاع کی نشاندہی کرکے وہاں پانی، گیس اور نکاسی و صفائی سمیت بنیادی سہولتوں کی فراہمی پر خصوصی توجہ دینا ضروری ہے۔
غربت پر قابو پانے کے لیے قیمتوں میں نسبتاً استحکام خصوصاً بنیادی غذائی اشیا کی قیمتوں کو قابو میں رکھنا ایک اہم ذریعہ ہوگا۔ اس کے ساتھ مجموعی قومی پیداوار (جی ڈی پی) کی شرح نمو 4 فیصد سے زیادہ حاصل کرنا بھی ضروری ہے۔
کاپی رائٹ : بزنس ریکارڈر 2026






















Comments