بی وائی ڈی کے نائب صدر اور ایشیا پیسیفک آٹو سیلز ڈویژن کے جنرل منیجر لیو شوئی لیانگ سے انٹرویو
- پاکستان نئی توانائی کی گاڑیوں (این ای ویز) کی علاقائی مینوفیکچرنگ اور برآمدی بنیاد بن سکتا ہے
لیو شوئی لیانگ بی وائی ڈی کمپنی لمیٹڈ کے نائب صدر اور کمپنی کے ایشیا پیسیفک آٹو سیلز ڈویژن کے جنرل منیجر ہیں۔ وہ دو دہائیوں سے زائد عرصے سے بی وائی ڈی سے وابستہ ہیں اور ایشیا پیسیفک کی منڈیوں میں کمپنی کے کاروبار کو وسعت دینے میں اہم کردار ادا کرچکے ہیں۔
وہ 2004 میں بی وائی ڈی میں شامل ہوئے، جہاں انہیں جاپان میں کمپنی کے کاروبار کی بنیاد رکھنے اور اس کی قیادت کی ذمہ داری سونپی گئی۔ وہ 2012 تک بی وائی ڈی جاپان کے صدر رہے اور جاپانی مارکیٹ میں کمپنی کے آئی ٹی کاروبار کی ترقی کی نگرانی بھی کی۔
اکتوبر 2012 میں انہوں نے بی وائی ڈی کے ایشیا پیسیفک آٹو سیلز ڈویژن کی ذمہ داریاں سنبھالیں۔ اس حیثیت میں انہوں نے آسٹریلیا، سنگاپور، ملائیشیا، جاپان اور جنوبی کوریا سمیت کئی منڈیوں میں الیکٹرک بسیں متعارف کرانے کی قیادت کی۔
2022 سے وہ خطے میں بی وائی ڈی کے مسافر گاڑیوں کے کاروبار کو وسعت دینے میں سرگرم کردار ادا کررہے ہیں۔ اس عرصے میں کمپنی نے ایشیا پیسیفک کے 26 ممالک اور خطوں میں اپنی موجودگی قائم کی ہے۔
انہیں اپریل 2026 میں بی وائی ڈی کمپنی لمیٹڈ کا نائب صدر مقرر کیا گیا۔ حال ہی میں بی آر ریسرچ کے ساتھ ان کی گفتگو کے منتخب اور مرتب شدہ اقتباسات پیش ہیں۔
بی آر ریسرچ: بی وائی ڈی نے عالمی سطح پر نمایاں کامیابی حاصل کی ہے اور اب دنیا کی سرکردہ نئی توانائی کی گاڑیاں (این ای ویز) بنانے والی کمپنیوں میں شامل ہے۔ آپ کے خیال میں اس کامیابی کا بنیادی محرک کیا ہے؟
لیو شوئی لیانگ: بی وائی ڈی نے 1994 میں ری چارج ہونے والی بیٹریوں کی تیاری اور پیداوار سے اپنے سفر کا آغاز کیا۔ گزشتہ تین دہائیوں کے دوران ہماری بنیادی سوچ تبدیل نہیں ہوئی: ہم سب سے پہلے ایک ٹیکنالوجی کمپنی ہیں اور جدت ہماری ہر سرگرمی کا محور ہے۔
ابتدا ہی سے ہماری توجہ ٹیکنالوجی کو معاشرے کے فائدے کے لیے استعمال کرنے اور مسلسل جدت کے ذریعے پائیدار ترقی کو آگے بڑھانے پر رہی ہے۔ ہم اسے محض کاروباری حکمت عملی نہیں بلکہ اپنی سماجی ذمہ داری بھی سمجھتے ہیں۔
کئی برس پہلے بی وائی ڈی نے تین سبز خوابوں کا تصور پیش کیا تھا: شمسی توانائی، توانائی ذخیرہ کرنے کے نظام اور الیکٹرک گاڑیاں۔ آج یہ تینوں شعبے پاکستان سمیت دنیا بھر کے ممالک کی ترجیحات بن چکے ہیں۔ ہمیں امید ہے کہ ٹیکنالوجی میں جدت کے ذریعے ہم زیادہ صاف ستھرے اور پائیدار مستقبل کی تشکیل میں اپنا کردار ادا کرسکیں گے۔
بی آر ریسرچ: آپ کے خیال میں اگلی دہائی کے دوران عالمی آٹو موبائل مارکیٹ کس طرح تبدیل ہوگی اور نقل و حمل کے مستقبل کی تشکیل میں نئی توانائی کی گاڑیوں کا کیا کردار ہوگا؟
لیو شوئی لیانگ: نئی توانائی کی گاڑیاں آٹو موبائل صنعت میں بنیادی تبدیلی کی نمائندگی کرتی ہیں، جسے تیز رفتار تکنیکی ترقی آگے بڑھا رہی ہے۔
آج دنیا بھر میں این ای ویز کو غیر معمولی تیزی سے اپنایا جارہا ہے۔ دنیا کی سب سے بڑی آٹو موبائل مارکیٹ چین میں اب نئی گاڑیوں کی فروخت میں 60 فیصد سے زیادہ حصہ این ای ویز کا ہے۔ بیٹری ٹیکنالوجی میں بہتری کے ساتھ برقی نقل و حرکت کی جانب منتقلی مزید تیز ہونے کی توقع ہے۔
ہمیں امید ہے کہ پاکستان جیسے ممالک بھی اس تبدیلی کو اپنائیں گے اور زیادہ پائیدار ذرائع نقل و حمل کی جانب عالمی پیش رفت کا حصہ بنیں گے۔
بی آر ریسرچ: پاکستان بی وائی ڈی کی نئی منڈیوں میں سے ایک ہے۔ پاکستان کو بی وائی ڈی کے لیے پُرکشش بنانے والے عوامل کیا ہیں اور آپ کے خیال میں ملک برقی نقل و حرکت کے لیے کس حد تک تیار ہے؟
لیو شوئی لیانگ: بی وائی ڈی نے 2024 میں پاکستان میں قدم رکھا اور فروری 2025 میں اپنی نئی توانائی کی گاڑیوں کی پہلی کھیپ صارفین کے حوالے کی۔ 18 ماہ سے بھی کم عرصے میں ہم 10 ہزار سے زائد گاڑیاں فراہم کرچکے ہیں۔ یہ نئی توانائی کی نقل و حرکت پر پاکستانی صارفین کے بڑھتے ہوئے اعتماد کی عکاسی کرتا ہے۔
پاکستان شمسی توانائی اپنانے والے نمایاں ممالک میں بھی شامل ہے، تاہم اس کا انحصار اب بھی بڑی حد تک درآمدی تیل پر ہے۔ یہ دونوں عوامل نئی توانائی کی گاڑیوں کی جانب منتقلی کو ضروری بھی بناتے ہیں اور قابلِ عمل بھی۔
ایک ذمہ دار عالمی کمپنی کی حیثیت سے بی وائی ڈی پاکستان میں جدید ٹیکنالوجی اور اعلیٰ معیار کی مصنوعات متعارف کرانے کے لیے پُرعزم ہے۔ ہمیں پاکستان میں برقی نقل و حرکت کے مستقبل پر اعتماد ہے۔
بی آر ریسرچ: بی وائی ڈی پاکستان میں مینوفیکچرنگ پلانٹ قائم کرنے کی منصوبہ بندی کررہی ہے۔ یہ سرمایہ کاری کیا اہمیت رکھتی ہے اور یہ پلانٹ کمپنی کے عالمی پیداواری معیار پر کیسے پورا اترے گا؟
لیو شوئی لیانگ: سب سے پہلے ہم اپنے مقامی شراکت دار میگا موٹر کمپنی (ایم ایم سی) کے شکر گزار ہیں، جو پاکستان میں بی وائی ڈی کی مقامی پیداواری صلاحیتیں قائم کرنے کے لیے پُرعزم ہے۔ ایم ایم سی ملک میں نئی توانائی کی گاڑیوں کی اسمبلنگ کے لیے مخصوص سہولت قائم کرنے والا پہلا مقامی شراکت دار ہے۔ یہ پاکستان کے ساتھ ہماری طویل مدتی وابستگی میں ایک اہم سنگِ میل ہے۔ ہم مل کر مقامی پیداوار کو آگے بڑھا رہے ہیں اور اس منصوبے کا آغاز 2026 کی دوسری ششماہی میں متوقع ہے۔
چین سے باہر یہ بی وائی ڈی کی چھٹی پیداواری سہولت ہے، جس کی سالانہ پیداواری صلاحیت 25 ہزار گاڑیاں ہے اور اسے بڑھا کر 50 ہزار گاڑیاں سالانہ کیا جاسکتا ہے۔
منصوبے کی مزید تفصیلات مناسب وقت پر سامنے لائی جائیں گی، تاہم ہمارا وژن محض گاڑیاں متعارف کرانے تک محدود نہیں۔ بی وائی ڈی پائیدار نقل و حرکت کے نظام کی ترقی میں معاونت کرکے پاکستان کی ماحول دوست معیشت کی جانب منتقلی میں اپنا کردار ادا کرنا چاہتی ہے۔
توقع ہے کہ اس پلانٹ سے 1,100 سے زائد ملازمتیں پیدا ہوں گی، پائیدار صنعتی ترقی کو فروغ ملے گا اور 2034 تک کاربن ڈائی آکسائیڈ کے اخراج میں اندازاً 1 لاکھ 65 ہزار ٹن کمی لانے میں مدد ملے گی۔
ہم پاکستان کی ماحول دوست معیشت کی تعمیر میں اپنی ٹیکنالوجی اور مہارت کے ذریعے معاونت کے لیے پُرعزم ہیں۔ اس کے ساتھ ہم مقامی شراکت داروں کے ساتھ مل کر آٹو موبائل کی پوری پیداواری زنجیر میں صلاحیتیں پیدا کرنے پر بھی کام کررہے ہیں۔
بی آر ریسرچ: بی وائی ڈی نے حال ہی میں اگلی نسل کی انتہائی تیز رفتار چارجنگ ٹیکنالوجی متعارف کرائی ہے۔ یہ جدت برقی نقل و حرکت کے مستقبل کو کس طرح تشکیل دے گی اور کیا پاکستان بھی اس سے فائدہ اٹھا سکتا ہے؟
لیو شوئی لیانگ: بی وائی ڈی کی دوسری نسل کی بلیڈ بیٹری ہماری میگا فلیش چارجنگ ٹیکنالوجی کو توانائی فراہم کرتی ہے۔ اس کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہے کہ یہ چارجنگ کے وقت میں نمایاں کمی کرتی ہے، جس سے الیکٹرک گاڑیوں کو روزمرہ استعمال کے لیے زیادہ موزوں بنانے اور نئی توانائی کی گاڑیوں کو تیزی سے اپنانے میں مدد ملتی ہے۔
ہم فی الحال اپنے مقامی شراکت دار میگا موٹر کمپنی کے ساتھ اس بات پر تبادلہ خیال کررہے ہیں کہ مستقبل میں یہ ٹیکنالوجی پاکستانی صارفین کے لیے کس طرح متعارف کرائی جاسکتی ہے۔ جدید چارجنگ ٹیکنالوجی اگلی نسل کی ان گاڑیوں کے لیے تیار کی گئی ہے جن میں بیٹری کا نیا پلیٹ فارم استعمال ہوگا۔ بی وائی ڈی کی موجودہ گاڑیاں بھی چارجنگ کے بنیادی ڈھانچے سے مطابقت رکھیں گی، تاہم چارجنگ کی رفتار مختلف ہوسکتی ہے۔
پاکستان میں اس ٹیکنالوجی کا تعارف بنیادی ڈھانچے کی تیاری، متعلقہ فریقوں سے مشاورت اور مستقبل کی مصنوعات سے متعلق منصوبہ بندی پر منحصر ہوگا۔
بی آر ریسرچ: جدت ہمیشہ بی وائی ڈی کی سوچ کا بنیادی حصہ رہی ہے۔ آپ کے خیال میں کون سی ٹیکنالوجیز یا اہم پیش رفت گاڑیوں کی اگلی نسل کی شناخت بنیں گی؟
لیو شوئی لیانگ: بی وائی ڈی بنیادی طور پر ایک ٹیکنالوجی کمپنی ہے اور ہم ہر سال نئی جدتیں متعارف کراتے رہتے ہیں۔
یہ پیش گوئی کرنا مشکل ہے کہ ہر نئی جدت انقلابی ثابت ہوگی یا نہیں، تاہم ہم تحقیق و ترقی میں بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری جاری رکھنے کے لیے پُرعزم ہیں۔ دنیا بھر میں ہمارے ایک لاکھ سے زائد انجینئرز تحقیق و ترقی کے شعبے میں کام کررہے ہیں۔
ہم مرحلہ وار ٹیکنالوجی کو آگے بڑھاتے رہیں گے اور جدت کے ذریعے دنیا بھر کے صارفین کو بہتر مصنوعات اور گاڑیوں کی ملکیت و استعمال کا بہتر تجربہ فراہم کریں گے۔ چند سال پہلے تک الیکٹرک گاڑی کو تقریباً 10 منٹ میں چارج کرنا ناممکن دکھائی دیتا تھا، لیکن آج یہ حقیقت بن چکا ہے۔
بی آر ریسرچ: پاکستان کے لیے بی وائی ڈی کا طویل مدتی وژن کیا ہے؟
لیو شوئی لیانگ: ہمارا طویل مدتی وژن پائیدار ذرائع نقل و حمل اور صاف توانائی کے حل کی جانب پاکستان کی منتقلی میں معاونت کرکے ملک کی ماحول دوست معیشت کی ترقی میں حصہ ڈالنا ہے۔
مقامی پیداواری صلاحیتیں قائم کرتے ہوئے ہم پاکستان کے لیے نئی توانائی کی گاڑیوں کی علاقائی پیداواری اور برآمدی بنیاد بننے کا موقع بھی دیکھتے ہیں۔ اگر مستقل اور طویل مدتی پالیسی فریم ورک موجود ہو تو اس سے صنعتی ترقی کو تقویت مل سکتی ہے، مقامی پیداواری زنجیر کے مختلف حصوں میں مواقع پیدا ہوسکتے ہیں اور پاکستان کے مجموعی برآمدی اہداف کے حصول میں مدد مل سکتی ہے۔
ہم جدید ٹیکنالوجی متعارف کرانے، طویل مدتی سرمایہ کاری اور میگا موٹر کمپنی کے ساتھ قریبی تعاون کے ذریعے پاکستان میں پائیدار نقل و حرکت کا نظام قائم کرنے کے لیے پُرعزم ہیں۔
بی آر ریسرچ: پاکستان میں چین کے کئی آٹو موبائل برانڈز کام کررہے ہیں۔ بی وائی ڈی کو ان سے کیا چیز منفرد بناتی ہے؟
لیو شوئی لیانگ: ہم بی وائی ڈی کو محض گاڑیاں بنانے والی کمپنی نہیں سمجھتے، بلکہ ایک ایسی ٹیکنالوجی کمپنی تصور کرتے ہیں جو صنعتی ترقی کو آگے بڑھانے اور نقل و حرکت کے مستقبل کی تشکیل میں کردار ادا کررہی ہے۔
ہمارا مقصد ایسی مصنوعات تیار کرنا ہے جو مختلف ضروریات رکھنے والے صارفین کی توقعات پر پوری اتریں اور بالآخر ان کی زندگیوں کو بہتر بنائیں۔ ہم چاہتے ہیں کہ ہر صارف بی وائی ڈی کی مصنوعات میں اپنی ضرورت کے مطابق گاڑی تلاش کرسکے، خواہ اس کی ترجیح کم توانائی خرچ کرنا، بہتر کارکردگی، جدید ٹیکنالوجی، آرام دہ سفر یا ہمہ جہتی افادیت ہو۔
اس کے ساتھ ہم مسلسل جدت کے لیے پُرعزم ہیں۔ ہماری کوشش ہے کہ اپنی مصنوعات میں جدید ترین اور اعلیٰ معیار کی ٹیکنالوجی متعارف کرائیں اور ایسا تجربہ فراہم کریں جو دنیا بھر کے صارفین کی توقعات پر پورا اترے۔






















Comments