میسی کا الوداع، ارجنٹینا سے طویل اور مشکل سے جیتی محبت کی داستان کا اختتام
- بیونس آئرس کے مونومینٹل اسٹیڈیم میں بینن کے خلاف ہونے والا الوداعی میچ دو دہائیوں سے زائد عرصے پر محیط بین الاقوامی کیریئر کا اختتام ہوگا
جب لیونل میسی منگل کو ارجنٹینا کی جانب سے اپنا آخری میچ کھیلیں گے تو اس کے ساتھ ہی ایک ایسے سفر کا اختتام ہوگا جو اس وقت شروع ہوا تھا جب ملک کے فٹبال حکام کو ان کا نام تک معلوم نہیں تھا اور جو آگے چل کر کھیلوں کی تاریخ کے سب سے دیرپا تعلقات میں سے ایک بن گیا۔
بیونس آئرس کے مونومینٹل اسٹیڈیم میں بینن کے خلاف ہونے والا الوداعی میچ دو دہائیوں سے زائد عرصے پر محیط بین الاقوامی کیریئر کا اختتام ہوگا جو اس وقت شروع ہوا تھا جب ارجنٹینا کے حکام اپنے ملک سے دور پروان چڑھنے والے نوعمر فٹبال کے ہونہار کھلاڑی کی شناخت کے لیے سرگرداں تھے۔
ارجنٹینا کے صحافی اور مصنف سرجیو لیونسکی نے رائٹرز سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے اتنے مختلف مراحل دیکھے ہیں کہ یہ واقعی مختلف ادوار محسوس ہوتے ہیں۔ ابتدا میں انہیں قومی ٹیم کے ساتھ بے حد مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ انہوں نے واقعی بہت کچھ برداشت کیا۔ لیونسکی نے میسی اینڈ ایوری تھنگ ایلس نامی کتاب لکھی ہے۔
میسی نوعمری میں بارسلونا منتقل ہوگئے تھے اور جہاں اسپین انہیں اپنی نمائندگی کے لیے قائل کرنے کی کوشش کررہا تھا، وہیں ان کا اپنا ملک بمشکل یہ جانتا تھا کہ میسی نام کا کوئی کھلاڑی بھی موجود ہے۔
2003 میں فن لینڈ میں ہونے والے انڈر 17 ورلڈ کپ کے سیمی فائنل میں اسپین نے اضافی وقت کے بعد ارجنٹینا کو 3-2 سے شکست دی۔
لیونسکی کے مطابق اسپین کے لیے دو گول کرنے والے نوجوان سیسک فیبریگاس، جو بارسلونا کی لا ماسیا اکیڈمی میں میسی کے ساتھی بھی تھے نے میچ کے بعد ارجنٹینا کے وفد کے ارکان سے کہا کہ آپ ہم سے اس لیے ہارے کیونکہ بارسلونا میں آپ کا بہترین کھلاڑی ہمارے پاس ہے اور وہ ایک جینئس ہے۔
ارجنٹینا کی یوتھ ٹیم کے کوچ ہیوگو ٹوکالی نے بھی اسی نوعیت کا ایک واقعہ یاد کیا۔ انہوں نے گزشتہ ماہ اولے سمٹ میں بتایا کہ اسپین کے ہیڈ شیف نے ان سے کہا تھا کہ ٹورنامنٹ جیتنے کے لیے ارجنٹینا کو ایک ایسے بچے کی ضرورت ہے جو بارسلونا میں کھیلتا ہے۔
روزاریو سے تعلق رکھنے والے اس بچے کو تلاش کرنا آسان نہیں تھا۔
ارجنٹینا فٹبال ایسوسی ایشن (اے ایف اے) کے ملازم عمر سوتو نے روزاریو کی ٹیلی فون ڈائریکٹری کے ذریعے اسپین میں میسی کے خاندان کا سراغ لگایا، تاہم وہاں پہنچ کر انہوں نے لیونارڈو کے بارے میں پوچھا۔
دستاویزی فلم ’’میسی: دی فراگوٹن ٹیپ کے مطابق انہیں بتایا گی کہ ’اس کا نام لیونارڈو نہیں، لیونل ہے۔
یہ الجھن کاغذی کارروائی تک بھی پہنچ گئی۔
لیونسکی کے مطابق اے ایف اے نے بارسلونا کو ایک کھلاڑی کے بارے میں معلومات لینے کے لیے فیکس بھیجا، تاہم اس میں نام میسی کے بجائے میسی کو Mecci لکھا گیا تھا، یعنی خاندانی نام میں ڈبل سی استعمال کیا گیا، کیونکہ حکام کا خیال تھا کہ شاید وہ اطالوی ہو۔
محبت کی ایک داستان، جو وقت کے ساتھ پروان چڑھی
ان مشکلات کے بعد میسی نے 2004 میں ارجنٹینا کی انڈر 20 ٹیم کی جانب سے دو دوستانہ میچز کھیلے جو نیلی اور سفید جرسی میں ان کی پہلی نمائندگی تھی۔
تاہم شکوک و شبہات برقرار رہے۔
2005 میں نیدرلینڈز میں ہونے والے انڈر 20 ورلڈ کپ میں ارجنٹینا کو اپنے افتتاحی میچ میں شکست ہوئی تو میسی بینچ پر موجود تھے۔
لیونسکی نے کہا کہ ایسے کھلاڑی کو قومی ٹیم میں بلانے کی شدید مخالفت تھی جو اپنے ملک میں نہیں کھیلتا تھا۔ اسے ابتدائی شکوک و شبہات کا مقابلہ کرنا پڑا اور اسپین میں رہنے کی وجہ سے اسے غیر ملکی تصور کیے جانے کا بھی سامنا تھا۔
بعدازاں میسی کو کلب کی سطح پر اپنی کارکردگی قومی ٹیم میں نہ دہرا سکنے پر تنقید کا سامنا کرنا پڑا اور بعض شائقین نے انہیں پیچو فریو یعنی جذبے یا جوش سے عاری قرار دیا۔
2011 میں کولمبیا کے خلاف ورلڈ کپ کوالیفائر میچ نے اس تاثر کو بدلنا شروع کیا جب میسی نے مشکل حالات میں ایک گول کے خسارے سے ارجنٹینا کو واپسی میں مدد دی اور ٹیم نے کامیابی حاصل کی۔
لیونسکی نے کہا کہ وہ انتہائی تھک چکے تھے، حتیٰ کہ انہیں قے بھی آرہی تھی، لیکن آخرکار وہ میچ جیت گئے۔ یہ پہلا موقع تھا جب شائقین نے انہیں مختلف نظر سے دیکھا۔
2016 کوپا امریکا کے فائنل میں چلی کے ہاتھوں پنالٹی شوٹ آؤٹ میں شکست کے بعد میسی نے مختصر عرصے کے لیے ریٹائرمنٹ کا اعلان کیا تو ان کے ساتھ ارجنٹینا کے شائقین کا تعلق مزید مضبوط ہوگیا۔ انہیں موردِ الزام ٹھہرانے کے بجائے ارجنٹائن کے عوام نے کھلے عام ان سے واپسی کی اپیل کی۔
لیونسکی نے مزید کہا کہ لوگوں کو احساس ہوا کہ شکستوں کے وہ ذمہ دار نہیں تھے۔ وہی تھے جو ٹیم کو فائنلز تک پہنچا رہے تھے۔
لیونل اسکالونی کی زیرِ قیادت میسی نئی نسل کے بلامقابلہ قائد بن گئے اور انہوں نے ارجنٹینا کو دو کوپا امریکا ٹائٹلز اور 2022 کا ورلڈ کپ جتوانے میں رہنمائی کی۔
زیادہ کھل کر اظہار کرنے والے کپتان کے طور پر ان کی شخصیت میں آنے والی تبدیلی کا موازنہ ڈیاگو میراڈونا سے کیا گیا، تاہم لیونسکی کے مطابق ارجنٹینا کے ان دو عظیم ترین آئیکنز کے درمیان روایتی بحث اصل نکتے سے ہٹ جاتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ یہ میسی اور میراڈونا دونوں کی بات ہے۔ دونوں مختلف ادوار کے جینئس تھے۔
لیونسکی کے نزدیک ارجنٹینا میں میسی کے لیے محبت اتنی فوری طور پر پیدا نہیں ہوئی جتنی میراڈونا کے لیے ہوئی تھی۔ یہ محبت ایک ایسے کھلاڑی کے گرد وقت کے ساتھ پروان چڑھی جس کی پرورش اور کیریئر کا بڑا حصہ بیرونِ ملک گزرا لیکن وقت کے ساتھ وہ شائقین کے مزید قریب ہوتے گئے۔
لیونسکی نے کہا کہ میسی ایسا تھا جیسے اچانک آپ کو معلوم ہو کہ آپ کا 18 سالہ بیٹا ہے۔ آپ کو اسے اس طرح محبت کرنا شروع کرنا پڑتا جیسے آپ کو پہلے معلوم ہی نہیں تھا کہ وہ موجود ہے، یہ محبت وقت کے ساتھ پروان چڑھی۔























Comments