سعودی فوڈ شو میں ٹڈاپ کی ریکارڈ شرکت، پاکستانی پویلین کا افتتاح
- رواں سال ٹڈاپ 30 پاکستانی کمپنیوں پر مشتمل وفد کی شرکت میں معاونت کررہا ہے
ٹریڈ ڈیولپمنٹ اتھارٹی آف پاکستان (ٹڈاپ) نے دنیا کی معروف فوڈ اینڈ بیوریج تجارتی نمائش سعودی فوڈ شو 2026 میں تاریخ کی سب سے بڑی شرکت کرتے ہوئے جدہ سپرڈوم میں پاکستان پویلین کا افتتاح کردیا۔
رواں سال ٹڈاپ 30 پاکستانی کمپنیوں پر مشتمل وفد کی شرکت میں معاونت کررہا ہے، جو چاول، دالوں و اناج، خوراک، مشروبات، گوشت و پولٹری، فلیورز اور پیکیجنگ مشینری سمیت اہم شعبوں کی نمائندگی کررہا ہے۔
پاکستان کے مضبوط زرعی و غذائی شعبے کی عکاسی کرتے ہوئے صرف چاول کے شعبے سے تعلق رکھنے والی 14 بڑی کمپنیاں ٹڈاپ کے پلیٹ فارم کے تحت نمائش میں شریک ہیں جو عالمی منڈی میں پاکستان کی بڑھتی ہوئی موجودگی کو مزید مستحکم کررہی ہیں۔
نمائش کے افتتاحی روز جدہ میں پاکستان کے قونصل جنرل سید مصطفیٰ ربانی نے مملکتِ سعودی عرب میں پاکستانی سفارتخانے کی وزیر ٹیکنیکل و کمرشل سیکشن ڈاکٹر شگفتہ زرین اور جدہ میں تعینات ٹریڈ قونصلر کے ہمراہ پاکستان پویلین کا دورہ کیا۔
تقریب سے خطاب کرتے ہوئے قونصل جنرل سید مصطفیٰ ربانی نے کہا کہ سعودی فوڈ شو میں پاکستان کی تاریخ کی سب سے بڑی شرکت اقتصادی سفارت کاری اور برآمدات پر مبنی ترقی کے عزم کی بھرپور عکاسی کرتی ہے۔
افتتاحی تقریب کے دوران ٹریڈ اینڈ انویسٹمنٹ قونصلر ڈاکٹر شگفتہ زرین نے معزز مہمانوں کو اسٹالز کے مقامات، ملکی برانڈنگ کے اقدامات، پویلین کے ڈیزائن، میڈیا سے رابطے اور پاکستانی قونصل خانے میں منعقد ہونے والے آئندہ بی ٹو بی سیشنز کے بارے میں بریفنگ دی۔
نمائش میں شرکت کو اسٹالز تک محدود رکھنے کے بجائے ٹڈاپ نے چاول اور گوشت کے 13 برآمد کنندگان پر مشتمل ایک باضابطہ تجارتی وفد بھی تشکیل دیا ہے۔ تجارتی مواقع کو عملی شکل دینے کے لیے پویلین کے اندر خصوصی ایگزیکٹو نیٹ ورکنگ لاؤنج قائم کیا گیا جہاں کاروباری اداروں کے درمیان براہِ راست بی ٹو بی مشاورت کی سہولت فراہم کی جارہی ہے۔
مزید برآں کمرشل سیکشن نے چاول، دالوں و اناج، پراسیسڈ فوڈ، مشروبات، نمک، گوشت اور پولٹری شعبوں سے تعلق رکھنے والے نمایاں سعودی خریداروں کو مدعو کیا ہے تاکہ وہ ہدفی بی ٹو بی سیشنز اور باضابطہ نیٹ ورکنگ ڈنر کے ذریعے پاکستانی نمائش کنندگان اور وفد کے ارکان سے براہِ راست کاروباری روابط قائم کرسکیں۔
























Comments