ڈالر دو ماہ کی بلند ترین سطح کے قریب برقرار، بانڈز کی شرح منافع میں اضافہ
- ڈالر انڈیکس معمولی اضافے کے ساتھ 101.2 پر رہا اور رواں ماہ تقریباً 1.8 فیصد اضافے کی جانب گامزن ہے
عالمی مارکیٹ میں ڈالر منگل کو دو ماہ کی بلند ترین سطح کے قریب رہا، جسے تیل کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ اور امریکی ٹریژری بانڈز کی شرح منافع میں تیزی سے اضافے سے سہارا ملا، تاہم سرمایہ کار رواں ہفتے جاری ہونے والے امریکی معاشی اعداد و شمار کے منتظر ہیں تاکہ فیڈرل ریزرو کی آئندہ شرح سود پالیسی کے بارے میں اشارے مل سکیں۔
رائٹرز کے مطابق ڈالر انڈیکس معمولی اضافے کے ساتھ 101.2 پر رہا اور رواں ماہ تقریباً 1.8 فیصد اضافے کی جانب گامزن ہے، جو جون کے بعد اس کی بہترین ماہانہ کارکردگی ہوگی۔
یورو تین ماہ کی کم ترین سطح کے قریب 1.1367 ڈالر پر ٹریڈ ہوا، جبکہ برطانوی پاؤنڈ 1.3248 ڈالر پر مستحکم رہا اور تین ماہ کی کم ترین سطح سے زیادہ دور نہیں تھا۔
دوسری جانب برینٹ خام تیل کی قیمت تقریباً 106 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران کی جنگ بندی کی تجویز مسترد کیے جانے کے بعد مارکیٹ میں جنگ کے خاتمے کی نئی کوششوں کی کامیابی کے امکانات پر شکوک پیدا ہوئے ہیں۔
امریکی ٹریژری بانڈز کی فروخت میں اضافے کے باعث شرح منافع نئی بلند سطحوں پر پہنچ گئی۔ 10 سالہ بانڈ کی شرح منافع 2007 کے بعد بلند ترین سطح پر جبکہ 30 سالہ بانڈ کی شرح منافع 2004 کے بعد بلند ترین سطح پر پہنچ گئی۔
دریں اثنا دو سالہ بانڈ کی شرح منافع، جو مانیٹری پالیسی کے لیے حساس سمجھی جاتی ہے، بھی دو سال سے زائد عرصے کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی اور 5 فیصد کے قریب آگئی۔
سی ایم ای گروپ کے فیڈ واچ ٹول کے مطابق اکتوبر کے اختتام پر فیڈرل ریزرو کی جانب سے شرح سود میں اضافے کے امکانات 70 فیصد سے تجاوز کرگئے ہیں، جو ایک ہفتہ قبل 57 فیصد تھے۔
سرمایہ کار بدھ کو ذاتی کھپت کے اخراجات اور جمعہ کو نان فارم پے رولز سمیت اہم امریکی اعداد و شمار کے منتظر ہیں۔























Comments