BR100 Decreased By (-0.54%)
BR30 Decreased By (-1%)
KSE100 Decreased By (-0.44%)
KSE30 Decreased By (-0.41%)
BAFL 56.95 Increased By ▲ 0.08 (0.14%)
BIPL 24.95 Decreased By ▼ -0.01 (-0.04%)
BOP 30.24 Decreased By ▼ -0.11 (-0.36%)
CNERGY 13.00 Decreased By ▼ -0.12 (-0.91%)
DFML 17.49 Increased By ▲ 1.59 (10%)
DGKC 188.29 Decreased By ▼ -4.16 (-2.16%)
FABL 93.90 Decreased By ▼ -0.24 (-0.25%)
FCCL 52.30 Decreased By ▼ -0.49 (-0.93%)
FFL 14.58 Decreased By ▼ -0.14 (-0.95%)
GGL 19.26 Decreased By ▼ -0.30 (-1.53%)
HBL 305.52 Decreased By ▼ -0.58 (-0.19%)
HUBC 199.99 Decreased By ▼ -1.43 (-0.71%)
HUMNL 10.00 Decreased By ▼ -0.16 (-1.57%)
KEL 6.13 Increased By ▲ 0.04 (0.66%)
LOTCHEM 26.32 Decreased By ▼ -0.14 (-0.53%)
MLCF 91.68 Decreased By ▼ -1.48 (-1.59%)
OGDC 315.00 Decreased By ▼ -1.73 (-0.55%)
PAEL 35.19 Decreased By ▼ -0.44 (-1.23%)
PIBTL 14.67 Decreased By ▼ -0.01 (-0.07%)
PIOC 240.89 Decreased By ▼ -2.32 (-0.95%)
PPL 223.00 Decreased By ▼ -3.91 (-1.72%)
PRL 91.49 Decreased By ▼ -1.53 (-1.64%)
SNGP 91.00 Decreased By ▼ -0.84 (-0.91%)
SSGC 23.39 Decreased By ▼ -0.42 (-1.76%)
TELE 7.68 Decreased By ▼ -0.12 (-1.54%)
TPLP 12.66 Decreased By ▼ -0.31 (-2.39%)
TRG 56.44 Decreased By ▼ -0.12 (-0.21%)
UNITY 8.03 Decreased By ▼ -0.04 (-0.5%)
WTL 1.01 No Change ▼ 0.00 (0%)

ایپل پاکستان پر زیادہ توجہ کیوں دے رہا ہے؟

  • ایپل نے سلمان دار کو پاکستان میں ہیڈ آف گورنمنٹ افیئرز مقرر کر دیا، جو پالیسی سازوں، ریگولیٹرز اور حکومت سے روابط کی قیادت کریں گے
شائع اپ ڈیٹ

کئی برسوں سے ایپل کے پاکستان کے ساتھ تعلقات قدرے دلچسپ رہے ہیں۔

پاکستانی صارفین آئی فون خریدتے، ایپل کی خدمات کے لیے ادائیگیاں کرتے رہے ہیں اور ایپل کے ایکو سسٹم کے گرد کاروبار بھی قائم کیے ہیں، تاہم خود کمپنی کی پاکستان میں نمایاں مقامی موجودگی نسبتاً محدود رہی ہے۔ ملک میں ایپل کا کوئی ملکیتی ریٹیل اسٹور موجود نہیں، ایپل پے کی سہولت دستیاب نہیں اور کمپنی نے پاکستان میں آئی فون کی مقامی پیداوار بھی شروع نہیں کی۔تاہم اب صورتِ حال تبدیل ہوتی دکھائی دے رہی ہے، کم از کم کمپنی کی مصروفیت اور رابطہ کاری کے حوالے سے۔

ایپل نے حال ہی میں سلمان دار کو پاکستان کے لیے اپنا پہلا ہیڈ آف گورنمنٹ افیئرز مقرر کیا ہے، جس کے بعد کمپنی کے پاس ریگولیٹرز، پالیسی سازوں اور دیگر متعلقہ حلقوں سے رابطے کے لیے ایک مخصوص عہدیدار موجود ہوگا۔ سلمان دار کے مطابق ان کی ذمہ داریوں میں پاکستان میں ایپل کے حکومتی امور سے متعلق سرگرمیوں کی قیادت کرنا شامل ہے۔

دوسری جانب ایپل پاکستانی صارفین کے لیے اپنی خدمات کا دائرہ بھی مسلسل بڑھا رہا ہے۔ کمپنی کے iCloud+ پلانز پاکستانی روپے میں دستیاب ہیں، جن میں 50 جی بی پلان 200 روپے ماہانہ، 200 جی بی پلان 800 روپے اور 2 ٹی بی پلان 2,500 روپے ماہانہ میں فراہم کیا جا رہا ہے۔

تو پھر ایپل اب پاکستان پر زیادہ توجہ کیوں دے رہا ہے؟

ایپل کی جانب سے ایسا کوئی عوامی بیان سامنے نہیں آیا جس میں واضح طور پر بتایا گیا ہو کہ اس تبدیلی کی وجہ کیا ہے۔ تاہم حالیہ چند پیش رفتیں اس حوالے سے اہم اشارے فراہم کرتی ہیں۔

پاکستان اب پہلے کے مقابلے میں ایک بڑی ڈیجیٹل مارکیٹ ہے

پاکستان کوئی چھوٹی ڈیجیٹل مارکیٹ نہیں ہے۔

ڈیٹا رپورٹل کے تخمینے کے مطابق 2025 کے اختتام تک پاکستان میں 11 کروڑ 70 لاکھ انٹرنیٹ صارفین موجود تھے، جبکہ 19 کروڑ 40 لاکھ سیلولر موبائل کنکشنز بھی فعال تھے۔

اس کا مطلب یہ نہیں کہ 11 کروڑ 70 لاکھ افراد ممکنہ آئی فون صارفین ہیں، کیونکہ اسمارٹ فون کی ملکیت، آمدنی کی سطح اور ایپل کی پریمیم قیمتیں بھی اہم عوامل ہیں۔ تاہم یہ ضرور ظاہر ہوتا ہے کہ پاکستان کا ڈیجیٹل صارفین کا حلقہ خاصا بڑا اور تیزی سے مربوط ہو رہا ہے۔

اس کے علاوہ خاص طور پر ایپل کی مصنوعات کی مضبوط طلب کے شواہد بھی موجود ہیں۔حکومت کے مطابق مالی سال 2025-26 میں اسمارٹ فونز کی درآمدات میں نمایاں اضافہ ہوا، جبکہ صنعتی شعبے کی معلومات کے مطابق مکمل تیار شدہ اسمارٹ فونز کی درآمدات میں اضافے کا تقریباً 60 سے 70 فیصد حصہ نئے اور استعمال شدہ ایپل آئی فونز اور گوگل پکسل ڈیوائسز پر مشتمل تھا۔ فی الحال ان دونوں برانڈز کی مقامی سطح پر تیاری نہیں ہو رہی۔

دوسرے الفاظ میں پاکستانی پہلے ہی یہ مصنوعات خرید رہے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ کیا ایپل اس طلب کو دیکھتے ہوئے پاکستانی مارکیٹ کے ساتھ زیادہ باقاعدہ اور مضبوط تعلق قائم کرنے کا موقع دیکھ رہا ہے؟

پاکستان بھی چاہتا ہے کہ ایپل مزید قریب آئے

اس معاملے کا دوسرا پہلو یہ ہے کہ پاکستان ایپل سے کیا چاہتا ہے۔

حکومت بڑی اسمارٹ فون کمپنیوں کو مقامی سطح پر مینوفیکچرنگ اور اسمبلی کی جانب راغب کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ حالیہ قومی اسمبلی کی ایک کمیٹی کو بریفنگ کے دوران پی ٹی اے چیئرمین نے بتایا کہ پاکستان میں استعمال ہونے والے تقریباً 92 فیصد اسمارٹ فونز مقامی طور پر تیار یا اسمبل کیے جاتے ہیں، جبکہ باقی درآمد شدہ فونز میں زیادہ تر ایپل آئی فونز اور گوگل پکسل ڈیوائسز شامل ہیں۔

اس کے بعد کمیٹی نے حکومت کو ہدایت کی کہ ایپل اور دیگر بڑی اسمارٹ فون کمپنیوں کو پاکستان میں مقامی مینوفیکچرنگ یا اسمبلی کی سہولیات قائم کرنے کی ترغیب دی جائے۔

یہ صورتِ حال ایپل کے لیے ایک بالکل مختلف پیشکش سامنے لاتی ہے۔

اب پاکستان کا سوال صرف یہ نہیں کہ لوگ آئی فون خرید سکتے ہیں یا نہیں، بلکہ یہ بھی ہے کہ دنیا کی بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں میں سے ایک پاکستان کے مقامی ٹیکنالوجی اور مینوفیکچرنگ نظام کا حصہ بن سکتی ہے یا نہیں۔

یہ بات تاحال تصدیق شدہ نہیں کہ ایپل واقعی پاکستان میں مقامی مینوفیکچرنگ پر غور کر رہا ہے۔ تاہم یہ حقیقت نظرانداز کرنا مشکل ہے کہ ایک جانب حکومت فعال طور پر ایپل سے مقامی سرمایہ کاری اور مینوفیکچرنگ کا مطالبہ کر رہی ہے، جبکہ دوسری جانب ایپل نے بیک وقت پاکستان کے لیے حکومتی امور سے متعلق ایک مخصوص عہدہ بھی قائم کیا ہے۔

پھر پالیسی سے متعلق معاملات بھی اہم ہیں

ایپل جیسی بڑی عالمی کمپنی کے لیے ریگولیٹری معاملات کو نظرانداز کرنا ممکن نہیں۔

درآمدی ڈیوٹیز، ٹیکسز، ڈیجیٹل سروسز، صارفین کے تحفظ کے قوانین، ٹیلی کمیونیکیشن سے متعلق ضوابط اور ممکنہ مینوفیکچرنگ مراعات، سب اس بات پر اثرانداز ہوتے ہیں کہ کوئی کمپنی کسی مارکیٹ میں کس طرح کام کرتی ہے۔

اسی لیے حکومت سے متعلق امور کے لیے ایک مخصوص عہدیدار کی تقرری اہم ہے، اگرچہ اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ پاکستان میں ایپل اسٹور یا فیکٹری جلد قائم ہونے والی ہے۔

لہٰذا سلمان دار کی تقرری کو کسی مخصوص سرمایہ کاری کے ثبوت کے بجائے ایپل کی پاکستان میں بڑھتی ہوئی اور زیادہ گہری شمولیت کے اشارے کے طور پر دیکھا جا سکتا ہے۔

ان کا پیشہ ورانہ پس منظر بھی اس تقرری کو اہم بناتا ہے۔ ایپل میں شمولیت سے قبل سلمان دار آئی ٹی کمپنی اٹروس کے چیف ایگزیکٹو آفیسر تھے اور پاکستان سافٹ ویئر ہاؤسز ایسوسی ایشن میں بھی اہم عہدوں پر فائز رہ چکے ہیں۔ اس طرح انہیں پاکستان کی ٹیکنالوجی انڈسٹری اور پالیسی ماحول کا تجربہ حاصل ہے۔

لیکن پاکستان میں اب بھی ایپل کا مکمل تجربہ دستیاب نہیں

ایپل کی موجودہ موجودگی کی حدود بھی اتنی ہی اہم ہیں۔

پاکستان ایپل کے iCloud+ قیمتوں کے نظام میں شامل ہے، لیکن Apple Pay اب بھی ان ممالک اور خطوں میں شامل نہیں جہاں یہ سروس دستیاب ہے۔

اسی طرح پاکستان میں ایپل کے ملکیتی ریٹیل اسٹور کے قیام کا بھی ابھی کوئی اعلان نہیں کیا گیا۔

لہٰذا اسے روایتی معنوں میں ایپل کی پاکستان میں ’’آمد‘‘ نہیں کہا جا سکتا۔

زیادہ مناسب طور پر اسے یوں بیان کیا جا سکتا ہے کہ ایپل اب ایک ایسی مارکیٹ کے ساتھ زیادہ باضابطہ طور پر منسلک ہو رہا ہے جسے وہ ماضی میں زیادہ تر بیرونِ ملک سے خدمات فراہم کرتے ہوئے پورا کرتا رہا ہے۔

یہ معاملہ کیوں اہم ہے؟

کیونکہ پاکستان عالمی ٹیکنالوجی کمپنیوں کی توجہ حاصل کرنے کے لیے تیزی سے مقابلہ کر رہا ہے۔

گوگل پہلے ہی پاکستان میں اپنا باقاعدہ دفتر قائم کر چکا ہے اور حکومت کے ساتھ مل کر اے آئی سینٹر آف ایکسیلنس کے قیام کے لیے کام کر رہا ہے۔ ایپل کا طریقہ کار مختلف ہے، تاہم اس کی جانب سے حکومتی امور کے لیے نیا عہدہ ایسے وقت میں قائم کیا گیا ہے جب پاکستان بین الاقوامی ٹیکنالوجی سرمایہ کاری، مقامی مینوفیکچرنگ اور عالمی ڈیجیٹل معیشت میں زیادہ شرکت حاصل کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔

پاکستان کے لیے اس میں مواقع واضح ہیں، تاہم یہ سوال بھی اہم ہے کہ اس کے بدلے میں ملک کو حقیقی طور پر کیا حاصل ہوتا ہے۔

مقامی موجودگی مستقبل میں سرمایہ کاری، روزگار، ہنرمندی، ٹیکنالوجی شراکت داری، مینوفیکچرنگ یا ڈویلپرز کے مضبوط ایکو سسٹم کی صورت اختیار کر سکتی ہے۔ تاہم محض کسی کثیر القومی کمپنی کی پاکستان میں سرگرمیوں کا مطلب یہ نہیں کہ یہ تمام نتائج خود بخود حاصل ہو جائیں گے۔

دوسری جانب ایپل کے لیے پاکستان میں پہلے ہی ایک اہم چیز موجود ہے: ایسے صارفین جو اس کی مصنوعات خریدنے کے لیے تیار ہیں۔

اب سوال یہ ہے کہ کیا یہ تعلق اس سے آگے بڑھ رہا ہے؟

کئی برسوں تک پاکستان بڑی حد تک ایسی مارکیٹ تھا جہاں لوگ ایپل کی مصنوعات خریدتے تھے۔

اب زیادہ اہم سوال یہ ہے کہ کیا ایپل پاکستان میں کچھ تعمیر یا قائم کرنے کا بھی ارادہ رکھتا ہے؟

فی الحال اس کا کوئی واضح جواب موجود نہیں۔

تاہم ایپل کی جانب سے حکومتی امور کے لیے ایک مخصوص سربراہ کی تقرری، آئی فونز کی مضبوط صارف طلب، حکومت کی مقامی مینوفیکچرنگ کے فروغ کی کوششیں اور ایپل کی ڈیجیٹل خدمات میں توسیع، سب ایک ہی سمت کی نشاندہی کرتے ہیں: ایسا محسوس ہوتا ہے کہ پاکستان ایپل کی حکمتِ عملی میں پہلے کے مقابلے میں زیادہ اہمیت اختیار کر گیا ہے۔

اب آگے ہونے والی پیش رفت یہ واضح کرے گی کہ اس کا مطلب صرف پاکستانی مارکیٹ تک بہتر رسائی ہے یا پھر پاکستان میں ایپل کی کہیں زیادہ گہری موجودگی کی بنیاد پڑ رہی ہے۔

Comments

200 حروف