کفایت شعاری، ایندھن بچت اقدامات؛ بازار رات 9 بجے بند کرنے کا فیصلہ
- نئے انتظام کے تحت سرکاری گاڑیوں کے لیے ایندھن کی فراہمی میں تین ماہ کے لیے 50 فیصد کمی کردی گئی
وفاقی حکومت نے بازاروں کے اوقاتِ کار اور کفایت شعاری و ایندھن کی بچت کے نئے اقدامات کا اعلان کردیا ہے، جن پر فوری طور پر عمل درآمد ہوگا۔ کابینہ ڈویژن کی جانب سے جمعرات کو جاری کردہ نوٹیفکیشن کے مطابق یہ اقدامات نافذ کیے گئے ہیں۔
نئے اوقاتِ کار کے تحت دکانیں، مارکیٹیں، بازار، ڈپارٹمنٹل اسٹورز، گروسری اور کریانہ اسٹورز پورے ہفتے رات 9 بجے بند ہوں گے۔ شادی ہالز اور مارکیز رات 10 بجے، جبکہ ریسٹورنٹس، کیفے، کھانے پینے کی دکانیں اور الگ سے قائم پھل و سبزی کی دکانیں رات 11 بجے بند ہوں گی۔ تاہم ٹیک اوے اور ہوم ڈیلیوری کو ان اوقاتِ کار سے استثنیٰ حاصل ہوگا۔ فارمیسیاں، اسپتال، کلینکس، طبی لیبارٹریاں، بیکریاں، تندور، دودھ کی دکانیں، پیٹرول پمپس اور برقی گاڑیوں کے چارجنگ اسٹیشنز، جم، کھیلوں کی سہولیات، آئی ٹی کمپنیوں اور کال سینٹرز کو بھی ان اوقاتِ کار سے مستثنیٰ قرار دیا گیا ہے۔
یہ اقدامات ایندھن کی بچت اور اضافی کفایت شعاری کے اقدامات کی نگرانی و عمل درآمد کے لیے قائم کمیٹی کی سفارشات پر منظور کیے گئے۔
سرکاری گاڑیوں کے لیے ایندھن کی فراہمی میں تین ماہ کے لیے 50 فیصد کمی کردی گئی ہے۔ تاہم مسلح افواج، سول آرمڈ فورسز، قانون نافذ کرنے والے اداروں، ضروری خدمات اور ایف بی آر کو اس اقدام سے استثنیٰ حاصل ہوگا، البتہ ان کے انتظامی یا غیر عملی شعبے اس استثنیٰ میں شامل نہیں ہوں گے۔ ترقیاتی منصوبوں کو اس اقدام سے مستثنیٰ رکھا گیا ہے۔
مالی سال 2026-27 کے نان ای آر ای بجٹ میں 5 فیصد کمی کی جائے گی اور یہ کٹوتی ماہانہ بنیادوں پر ہوگی۔ یہ کمی بیرون ملک پاکستانی مشنز اور وہاں تعینات افسران و اہلکاروں پر بھی لاگو ہوگی، تاہم ان کے کرائے، تعلیمی فیس اور طبی اخراجات بدستور ادا کیے جائیں گے۔ ترقیاتی منصوبے اس اقدام سے بھی مستثنیٰ ہوں گے۔
آئی ٹی سے متعلق خریداری کے علاوہ ہر قسم کی گاڑیوں اور پائیدار اشیا کی خریداری پر مکمل پابندی عائد کردی گئی ہے، جبکہ ترقیاتی منصوبوں کو ایک بار پھر اس پابندی سے مستثنیٰ رکھا گیا ہے۔
تین ماہ کے لیے تمام غیر ملکی دوروں اور سفری سرگرمیوں پر پابندی عائد کردی گئی ہے، حتیٰ کہ لازمی نوعیت کے دورے بھی اس پابندی کے دائرے میں ہوں گے۔ تاہم بین الاقوامی ترقیاتی شراکت داروں کی جانب سے فراہم کردہ اسکالرشپس اور اقتصادی امور ڈویژن کے ذریعے یا حکومت کے ادارہ جاتی معاہدوں کے تحت منعقد ہونے والی تربیت یا کورسز اس پابندی سے مستثنیٰ ہوں گے۔ ایسی صورت میں بیرون ملک اہم تقریبات میں پاکستان کی نمائندگی سفیر یا ہائی کمشنر کریں گے۔
وزرا، مشیران، وزرائے مملکت، وزیراعظم کے معاونین خصوصی اور پارلیمانی و سرکاری عہدیداروں کو ناگزیر دوروں کے لیے صرف اکانومی کلاس میں سفر کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔
اجلاسوں کے انعقاد کے لیے، بین الاضلاعی اجلاسوں کے علاوہ، ترجیحاً ویڈیو کانفرنسنگ کا طریقہ اختیار کیا جائے گا، جبکہ غیر ملکی وفود کے اعزاز میں دی جانے والی ضیافتوں کے علاوہ سرکاری عشائیوں کی اجازت نہیں ہوگی۔ حکومت کے خرچ پر سیمینارز، تربیتی پروگرامز اور کانفرنسوں پر پابندی عائد کردی گئی ہے۔ ناگزیر تقریبات حکومت کے زیرانتظام مقامات، مثلاً آڈیٹوریمز اور کمیٹی رومز میں منعقد کی جائیں گی۔ شادی سے متعلق تقریبات میں صرف ایک ڈش پیش کی جائے گی۔
نوٹیفکیشن کے مطابق استثنیٰ کی درخواستوں پر ایندھن کی بچت اور اضافی کفایت شعاری کے اقدامات کی نگرانی و عمل درآمد کے لیے قائم کمیٹی کیس ٹو کیس بنیاد پر غور کرسکتی ہے اور اپنی سفارشات وزیراعظم کی منظوری کے لیے پیش کرے گی۔ ایسے استثنیٰ کے لیے وزارت خزانہ کی جانب سے قائم کفایت شعاری کمیٹی سے مزید منظوری درکار نہیں ہوگی۔
وفاقی حکومت نے صوبائی اور علاقائی حکومتوں سے بھی کہا ہے کہ وہ اسی نوعیت کے اقدامات اختیار کرنے پر غور کریں۔
























Comments